پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں سے صلح کی بھیک مانگنے لگی؟

سائفر کیس میں زیر حراست پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک وکیل کے ذریعے جیل سے سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کی پیشکش کا پیغام بھیجا تھا۔ لیکن انہیں کسی کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں ملا. عمران خان سمیت پی ٹی آئی شدت سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے اختلافات دور کرنا چاہتی ہے مگر تمام تر کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھی کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں نے صدر عارف علوی سے رابطہ کرکے انہیں سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کرانے کی درخواست کی ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی نے تحریک انصاف کے ذرائع کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کہ صدر علوی اصولاً تحریک انصاف کے دیگر سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے عمل سے اتفاق کرتے ہیں لیکن یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس ضمن میں سہولت کار کا کردار ادا کرینگے یا نہیں۔ 9؍ مئی کے واقعات کے بعد جن حالات کا سامنا پی ٹی آئی کو کرنا پڑا ہے اس کی وجہ سے پارٹی کے اندر بہت ہی زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے اور پارٹی کو عوامی سیاست میں دوبارہ واپسی کا موقع نہیں مل رہا۔ پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کے ساتھ بات چیت سے معلوم ہوا ہے کہ 9؍ مئی کے حوالے سے پی ٹی آئی کی طے شدہ پالیسی چاہے کچھ بھی ہو لیکن پارٹی رہنما اُس دن پیش آنے والے واقعات اور پارٹی کارکنوں کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری پر دکھائے گئے رد عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ کاش ایسا کچھ بھی نہ ہوا ہوتا، 9؍ مئی کے واقعات نے پارٹی کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ پارٹی کی نمائندگی کیلئے اب بھی ٹی وی چینلز پر نظر آنے والے پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ حال ہی میں انہوں نے صدر علوی سے رابطہ کرکے درخواست کی ہے کہ پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کرایا جائے۔ انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق صدر علوی اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن علی محمد خان کو علم نہیں کہ صدر علوی یہ قدم اٹھائیں گے بھی یا نہیں۔ آزاد مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صدر نے یہ قدم اٹھایا تو ممکن ہے انہیں سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کی مخالف جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مثبت جواب نہ ملے۔ ہفتوں قبل عمران خان نے اپنے ایک وکیل کے ذریعے اٹک جیل سے سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کی پیشکش کا پیغام بھیجا تھا۔ لیکن انہیں کسی کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن نے رابطہ کرنے پر کہا کہ پی ٹی آئی سمیت سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکراتی عمل شروع کرنے کا پی ٹی آئی کا موقف کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ صدر علوی پی ٹی آئی کی جانب سے بات چیت کی درخواست کے بعد ڈائیلاگ شروع کرائیں گے یا نہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ صدر علوی سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں اور ایک یا دو دن میں ان سے دوبارہ ملاقات ہو سکتی ہے۔
سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن نے یاد دلایا کہ یہ عمران خان تھے جنہوں نے خود سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا کہا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ درست ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اب 9 مئی کو ہونے والے واقعات پر پچھتا رہے ہیں تو رؤف نے کہا کہ 9 مئی کے حوالے سے پی ٹی آئی کی پالیسی یہ ہے کہ معاملے کی تحقیقات ایک آزاد جوڈیشل کمیشن سے کرائی جائے تاکہ ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے۔
ہم سب پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور کوئی بھی پاکستان کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچانا نہیں چاہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا، اس نے انہیں بھی تکلیف دی ہے۔ پارٹی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی شدت سے اسٹیبلشمنٹ کے

نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں اصل رکاوٹ کیا ہے؟

ساتھ اپنے اختلافات دور کرنا چاہتی ہے لیکن 9 مئی کے واقعات نے تحریک انصاف کے لیے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔

Back to top button