عثمان ڈار نے عمران کے سیاسی تابوت میں آخری کیل کیسے ٹھونکی؟

ویسے تو پاکستان میں ہر روز کوئی نہ کوئی سیاسی ہلچل رہتی ہے اور میڈیا کو سیاسی ٹاپک ڈسکس کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی مواد ہر وقت میسر رہتا ہے۔ بدھ کا دن سیاسی ایکٹویٹی کے حوالے سے خاموش دن تھا لیکن شام کو عثمان ڈار کی ڈرامائی انٹری نے سیاسی بحث میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ چاہے ریگولر میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ہر شخص عثمان ڈار ہی کا انٹرویو ڈسکس کرتا نظر آیا۔اپنے انٹرویو میں عثمان ڈار نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں وہ اپنی مرضی سے یہ انٹرویو دے رہے ہیں اور ضرورت پڑی تو وہ عدالت میں بھی بیان دے سکتے ہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ عمران خان کو شاید ادارے کے اندر سے کچھ انفارمیشن تھی کہ لانگ مارچ کرنے سے جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف کی تعیناتی رک جائے گی۔ جبکہ 9 مئی کے حملوں کا مقصد فوج پر دباؤ ڈال کر جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹانا تھا۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عثمان ڈار کے الزامات کی سنگینی کی نوعیت کا اندازہ فی الحال شاید آپ کو نہ ہورہا ہو لیکن اگر آپ فوج کے ادارے کی ورکنگ جانتے ہیں تو آپکو ضرور علم ہوگا کہ فوج کچھ بھی برداشت کرلے گی لیکن فوج کے اندر کسی بھی صورت بغاوت پیدا کرنا یا ایسی کسی کوشش کو بالکل برداشت نہیں کرتی پھر چاہے ایسی کوشش چاہے کوئی ادارے کے اندر سے کرے یا باہر سے۔
اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو عثمان ڈار کا یہ بیان عمران خان کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ فوج اور ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی پر بقول عثمان ڈار صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ کچھ دیگر پارٹی رہنما بشمول مراد سعید، حماد اظہر، اعظم سواتی، فرخ حبیب بھی جارحانہ پالیسی کے حامی تھے۔ اس بیان سے نہ صرف عمران خان بلکہ ان رہنماؤں کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہوگئے ہیں۔ اسی لیے بیان کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے حماد اظہر نے اپنا ایک ویڈیو بیان ٹوئٹر پر جاری کیا اور وضاحت کی کہ وہ کبھی ٹکراؤ کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتے اور ہمیشہ معاملہ فہمی سے معاملات کو حل کرنا چاہتے تھے اور پارٹی کے اندر بھی ٹکراؤ کی پالیسی نہ اپنانے کی بات کرتے تھے۔
سوال یہ ہے کہ کیا عثمان ڈار کے اس انٹرویو سے عمران خان کو سیاسی اور قانونی طور پر کوئی نقصان ہوگا اور کیا یہ عمران خان کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا؟ سیاسی طور پر اگر دیکھا جائے تو مجھے نہیں لگتا کہ عمران خان کو عثمان ڈار کے اس بیان سے کوئی بڑا نقصان ہوگا یا ان کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ سیاسی جماعت کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے ورکرز ہوتے ہیں۔ لیڈر اور اس کی جماعت کو نقصان تب پہنچتا ہے جب اس کا ورکر قیادت سے بدظن ہوجائے یا مایوس ہوجائے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پی ٹی آئی عمران خان ہے اور عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے۔ باقی تمام پارٹی رہنما ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کوئی بھی پارٹی رہنما عمران خان کے بارے جو بھی بیان دے اس سے پی ٹی آئی کے ورکر کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ ہم نے دیکھا ہے کہ گرفتاری کے بعد عمران خان کے ورکر کی وفاداری ان سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہاں البتہ یہ اب عمران خان کے لیے ایک اہم چیلنج ہوگا کہ ورکرز کی اس وفاداری کو ووٹوں میں کیسے شفٹ کرنا ہے۔ کیوں کہ الیکٹورل پالیٹکس بہرحال ایک علیحدہ سائنس ہے اور ہر حلقے کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پارٹی کا اپنا ووٹ بینک ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی عام انتخابات میں امیدوار بھی معنی رکھتے ہیں۔
جیل میں قید پی ٹی آئی رہنما انتخابات میں کیسے صف بندی کرتے ہیں یہ بہت اہم ہوگا۔ گو عمران خان خود الیکشن لڑنے کے اہل نہیں لیکن وہ اپنے لیے اور اپنی پارٹی کے لیے سیاسی طور پر اسپیس کیسے حاصل کرتے وہ ان کی آئندہ انتخابات میں کارکردگی طے کرے گی۔ اس لیے میرے نزدیک عثمان ڈار جیسے رہنماؤں کے بیانات سے زیادہ عام انتخابات کی منصوبہ بندی اور کارکردگی عمران خان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ طے کرے گی۔ بہتر انتخابی منصوبہ بندی خان کی بازی کسی بھی سمت پلٹ سکتی ہے۔
جہاں تک بات ہے عثمان ڈار کے بیان کی قانونی حیثیت کی اگر وہ یہ بیان عدالت میں جاکر دیتے ہیں تو وقتی طور پر یہ عمران خان کے لیے اچھا خاصا درد سر بن سکتا ہے کیوں کہ جو انکشافات انہوں نے 9 مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کیے ہیں وہ بہرحال ان کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ شنید یہ بھی ہے کہ عثمان ڈار کے علاوہ بھی کچھ پی ٹی آئی رہنما اس طرح کے بیانات دے سکتے ہیں۔ جس کا ایک واضح اشارہ کل فیصل واوڈا نے بھی دیا کہ عثمان ڈار کے بعد فرخ حبیب بھی تیار
ماہرہ خان نے شادی سے قبل دعائیہ تقریب کا انعقاد کیوں کیا؟
بیٹھے ہیں۔ اس کا مطلب ہے خان کی مشکلات فی الحال کم ہونے کے کوئی آثار نہیں۔
