ناکامیوں کی طرف لے جانے والی کامیابیاں

تحریر: عطا ء الحق قاسمی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ارشد میرا دوست تھا، پھر وہ میرا اُستاد بن گیا اور اُستاد ہونے کی وجہ سے میری نظروں میں اسکا درجہ والد جیسا ہو گیا اور پھر میں نے ایک ہونہار شاگرد بلکہ سعادت مند اولاد کی طرح اس کی ہر بات کو اپنے لئے حکم جاننا شروع کر دیا۔ ارشد کے دوست سے استاد بننے کا مرحلہ چند منٹوں میں طے ہوا تھا ، میں نے ایک دن اسے کہا ”میں معمولی وکیل ہوں، ترقی کرنا چاہتا ہوں، کیا کروں؟“ اس نے جواب دیا ”ترقی کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ میری شاگردی اختیار کرو، دنوں میں ترقی کی منزلیں طے کر لو گے۔“ چنانچہ میں اس کا شاگرد بن گیا۔ میں ایک دن اسکے سامنے دو زانو مؤدب بیٹھا تھا ، میں نے عاجزی سے گڑ گڑاتے ہوئے کہا ”یا استاد، گھر میں افلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ، کیا کروں؟“۔ اس نے پوچھا ”کیا تمہارے پاس کوئی کلائنٹ نہیں ہے؟“ میں نے جواب دیا ”ایک نہیں کتنے ہی ہیں مگر میں انکا کیس نہیں لیتا “ اس نے حیرت سے پوچھا ” وہ کیوں؟“ میں نے اسے بتایا کہ ”یہ سب بےایمان لوگ ہیں ۔ کسی نے کسی کے پلاٹ پر قبضہ کیا ہوا ہے، کوئی قاتل ہے، کوئی کسی کی بہن کو اغوا کر کے بردہ فروشوں کے ہاتھ بیچ چکا ہے اور کوئی جعلی ادویات تیار کرنے کے الزام میں اندر ہے“ ارشد نے کہا” تو پھر کیا ہوا تم نے قانون کی کتابوں میں انکی رہائی کے راستے نکالنے ہیں، یہ تمہارا پیشہ ہے اور تمہیں اپنے پیشے کیساتھ آنیسٹ (Honest) ہونا چاہیے“ میں نے عرض کیا ” اُستاد محترم! پیشے کیساتھ دیانت دکھاتے دکھاتے میں خدا کی نظروں میں بددیانت ہو جائونگا !“ اس نے پوچھا ” تم جو خدا کے حقوق ہیں ادا کرتے ہو؟ “میں نے کہا ”ہاں الحمد للہ پانچ وقت نماز پڑھتا ہوں، تیسں روزے رکھتا ہوں ، زکوۃ بھی ادا کیا کرتا تھا مگر اب استطاعت نہیں، حج اور عمرہ بھی کیا ہوا ہے “یہ سن کر ارشد بہت خوش ہوا اور بولا ” تو پریشانی کس بات کی ہے؟ اسلام میں دین اور دنیا کوئی الگ الگ چیزیں نہیں ہیں، دین داری تم میں ہے، صرف دنیا داری کی کمی ہے۔ یہ کمی دور کرو، تمہارے سارے دکھ دور ہو جائیں گے۔“

ارشد کی یہ بات میرے دل کو لگی۔ میں نے سوچا وکالت میرا پیشہ اور نماز میرا فرض ہے۔ چنانچہ مجھے اپنی یہ دونوں ذمہ داریاں بیک وقت نبھانی چاہئیں۔ لہٰذا میں نے ڈاکوؤں، قاتلوں، لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں، قبضہ مافیا اور دوسرے جرائم پیشہ لوگوں کے کیس لینا شروع کئے، اہلیت مجھے ورثے میں ملی تھی ، میرے والد بھی ایک بلند پایہ وکیل تھے مگر وہ زندگی بھر وہی غلطی کرتے رہے جو میں ارشد کی شاگردی میں آنے سے پہلے کرتا تھا یعنی وہ سمجھتے تھے کہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں کمی بیشی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما سکتا ہےمگر حقوق العباد میں ہیر پھیر وہ کبھی معاف نہیں کرتا ۔ چنانچہ کوئی جرائم پیشہ شخص اگر محض نماز روزے کو نجات کا راستہ سمجھتا ہے تو وہ دین کو بدنام کرتا ہے اور یوں اس سوچ کی وجہ سے والد کے مالی حالات میری طرح ہمیشہ دگرگوں ہی رہے ۔ بہر حال والد کے انجام سے عبرت پکڑتے ہوئے میں دین کی اس غلط تو جیہہ سے باز آ چکا تھا چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مجھ پر ہن برسنا شروع ہو گیا اور اس کے ساتھ ساتھ میری پیشہ ورانہ مہارت کی بھی دھومیں مچ گئیں۔ میں نے اس دوران کمیشن پر بھی کیس لینا شروع کر دیے میرا رابطہ کچھ ججوں سے ہو گیا تھا وہ کیس کا فیصلہ میرے کلائنٹ کے حق میں کرتے اور میں ان کا حق خدمت ادا کرتا ۔

تاہم کچھ ہی عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ میں جو کبھی چاق و چوبند ہوتا تھا اور میری صحت پر یار لوگ رشک کیا کرتے تھے۔ ہر وقت خود کو تھکا تھکا سا محسوس کرنے لگا، اس سے پہلے میں رات کو بستر پر لیٹتے ہی سو جاتا تھا اب مجھے گھنٹوں نیند نہیں آتی تھی اور میں بستر پر کروٹیں لیتا رہتا تھا۔ میں نے اپنے اُستاد ارشد سے رابطہ کیا اور اسے یہ سب کچھ بتایا ، اُستاد میرے والد کے کردار سے واقف تھا چنانچہ اس نے کہا ”دراصل تمہاری تربیت غلط ہوئی ہے جس کی وجہ سے تمہارے ضمیر پر بوجھ ہے تم میرے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہو انشاء اللہ ایک دن تمہارا ضمیر بھی تمہاری نئی سوچ کا عادی ہو جائیگا اور پھر وہ تمہارے لیے مسئلہ نہیں بنے گا “اُستاد کی اس بات سے مجھے کافی حوصلہ ہوا۔ چنانچہ میں پوری دلجمعی کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹتا رہا۔

اس دوران میری مہارت کی شہرت حکومتی حلقوں تک بھی جا پہنچی تھی ۔ چنانچہ وہ دن میری زندگی کا یادگار دن تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ مجھے جج بنا دیا گیا ہے اب دولت کیساتھ ججی کا اعزاز بھی میرے ساتھ تھا۔ میں نے اس اعزاز کو بھی استاد کے مشورے کے مطابق اپنی مزید ترقی کیلئے استعمال کرنا شروع کیا۔ استاد نے مجھے نصیحت کی تھی کہ اگر کسی کیس میں حکومت کا کوئی انٹرسٹ ہو تو اسکا فیصلہ سنانے سے پہلے اٹارنی جنرل سے مشورہ ضرور کر لیا کرنا چنانچہ میں نے اس مشورے کو بھی پلے باندھا اور اس پر عمل کرنے کے عوض کتنے ہی نئے پلاٹ اور کتنی ہی نئی جائیدادیں میری ملکیت بنتی چلی گئیں۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے کیلئے کہا گیا انکار کی صورت میں ججی ہاتھ سے جاتی تھی میں نے عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد استخارہ کیا تو خواب میں اشارہ ملا کہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے میں تمہاری بہتری ہے مجھے ہلکا ساشک ہے کہ خواب میں جو بزرگ مجھے پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے کیلئے کہہ رہے تھے ان کی شکل اُستاد ارشد سے ملتی تھی۔ بہر حال میں نے اللہ کا نام لیکر حلف اُٹھا لیا جس پر میری وکیل برادری نے میرا ناطقہ بند کر دیا۔ خلق خدا مجھے ملامت کرنے لگی۔ محفلوں میں لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے تھے اور یوں میں نے محسوس کیا کہ میں شاید لوگوں کی نظروں سے گر گیا ہوں ۔

ترقی کی یہ منازل طے کرنے کے دوران اس بے خوابی کے علاوہ میں بلڈ پریشر ، ہارٹ ٹربل اور شوگر کا مریض بھی بن چکا تھا۔ مجھے اپنا سارا دنیاوی جاہ و جلال بے معنی سا لگنے لگا تھا اس ترقی سے پہلے میرے والد محترم مجھے تقریبا ً روزانہ خواب میں نظر آتے تھے وہ بہت خوش و خرم دکھائی دیا کرتے تھے، مگر پھر وہ نظر آنا بند ہو گئے۔ بہت عرصے بعد ایک مرتبہ دکھائی دیے مگر ان کا چہرہ بے رونق تھا۔ پہلے وہ مجھے دیکھ کر اپنے گلے لگایا کرتے تھے مگر اس روز وہ میرے قریب سے میری طرف دیکھے بغیر گزر گئے ۔ میں اس روز سارا دن بے چین رہا۔ میں نے اُستاد ارشد سے رابطہ کیا اور اپنے احوال سے آگاہ کرنے کے بعد پوچھا کہ ”مجھے کیا کرنا چاہئے؟“ میں نے محسوس کیا کہ اس بار استاد ارشد کا رویہ میرے ساتھ مشفقانہ نہیں ہے۔ اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ” میں نے تمہیں اپنی شاگردی میں لیکر غلطی کی، جس شخص کی گھریلو تر بیت ہی غلط ہوئی ہو، پیدا ہوتے ہی اسکے کان میں رزق حلال کی اذان دی گئی اور دیانت اور امانت کی مثالیں اپنے عمل سے بھی دی گئی ہوں، وہ اگر اپنے آباؤ اجداد کے رستے سے ہٹ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار بھی کرلے گا تو اس کے نتیجے میں حاصل ہونیوالی ترقی اسے کہیں ہضم نہیں ہوگی۔ دیانت اور بد دیانتی اکثر و بیشتر موروثی ہوتی ہے۔ میں نے تمہیں اپنی شاگردی میں لیکر غلطی کی ۔ تمہارا ضمیر ابھی تک تمہارا پیچھا کر رہا ہے تم اس افلاس افروز ضمیر کو اپنا استاد بناؤ ، میں تمہیں آج سے آزاد کرتا ہوں“ افسوس! مجھے ناکامیوں کی طرف لے جانے والی یہ کامیابیاں راس نہ آئیں۔

Back to top button