میٹھے چاولوں کی ڈش متنجن کا آغاز کیسے ہوا؟

متجن ایرانی و عربی لفظ متاجن سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ’برتن میں تلنا‘، عام طور پر مانا جاتا ہے کہ متنجن مشرق وسطیٰ سے آیا ہے، 16ویں صدی کے مغل بادشاہ اکبر کے عظیم وزیر ابوالفضل نے اپنی تحریروں میں شاہی دسترخوان پر پیش کیے جانے والے پکوانوں میں متنجن کا ذکر کیا ہے۔بی بی سی اردو کے مصنف, پریہ درشنی چٹرجی لکھنو میں متنجن کھانے کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ یہ شمالی انڈیا کے شہر لکھنؤ کی ایک سرد شام ہے۔ ماضی میں اودھ کے نواب کبھی اس شہر پر راج کرتے تھے۔ ہم اس وقت ساراکا اسٹیٹ کے لابوا بوتیک ہوٹل میں موجود ہیں۔ ہم ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمارے سامنے کھانوں کی بھرمار ہے۔ ہمارے سامنے ایسے نان ہیں جن پر پوست کے بیج چھڑکے ہوئے ہیں اور اس میں زعفران شامل ہے جبکہ یہاں کباب اور لکھنوی بریانی بھی ہے لیکن شیف محسن قریشی بتاتے ہیں کہ اس شام کی سب سے خاص ڈش ایک میٹھا پکوان ہے جو ’آپ نے کبھی پہلے نہیں کھایا ہوگا۔یہ کہنے کے بعد جو ڈش انھوں نے پیش کی، پہلی نظر میں دیکھی دیکھی محسوس ہو رہی تھی۔ اس میں زعفرانی رنگ کے چاولوں کے دانوں پر کاجو، کشمش، بادام اور کھویا شامل تھا، اور چاندی کا ورق لگا ہوا تھا، اس میں زعفران اور مصالحوں کی خوشبو گھی میں تلے کاجو اور بادام سے مزید مہک رہی تھی مگر اس میں گوشت کے ٹکڑے بھی تھے۔ محسن قریشی مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’یہ متنجن ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ پکوان عید الاضحیٰ پر کسی ماہر پکوان کے میز پر لازمی ہوتا تھا، متنجن کو اب ڈھونڈھنا مشکل ہے لیکن آپ اس سے مایوس نہیں ہوں گے کیونکہ یہ بالکل ایک عام ڈش نہیں ہے، متجن ایرانی و عربی لفظ متاجن سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ’برتن میں تلنا‘۔ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ متنجن مشرق وسطیٰ سے آیا ہے لیکن عرب پکوانوں میں جس چیز کو متاجن کہا جاتا ہے، یہ اس سے مختلف ہے۔ مورخین نے یہ بھی لکھا کہ کیسے نواب کے گھر پر رات کے کھانے اور دوسرے لوگوں کو بھیجے گئے کھانوں میں ہمیشہ متنجن ہوتا تھا، لیکن شاید نواب کے گھر میں یہ پکوان مغلوں کے شاہی باورچی خانے سے آیا ہو گا۔ 16ویں صدی کے مغل بادشاہ اکبر کے عظیم وزیر ابوالفضل نے اپنی تحریروں میں شاہی دسترخوان پر پیش کیے جانے والے پکوانوں میں متنجن کا ذکر کیا ہے۔متنجن شاید ان عربی اور فارسی کھانوں سے نکلا ہے جن میں چینی، چاول اور گوشت کو ملایا جاتا ہے۔ الوراق کی 10 ویں صدی کی کتاب ’اینالز آف دی کیلیفز کچن‘ میں ایک ایسی ڈش کا ذکر ہے جس میں چاولوں اور مسالہ دار چکن دودھ میں پکایا جاتا ہے اور آخر میں اس میں شہد ڈالا جاتا ہے۔مصنفہ ترانہ حسین خان نے اپنی کتاب ’دیگ ٹو دسترخوان‘ میں متنجن کو میٹھے اور لذیذ چاولوں کی ڈش کے طور پر بیان کیا ہے جس میں میٹھے گلاب جامن اور کوفتے شامل ہیں، وہ لکھتی ہیں ’ترقیب میں چاول کے وزن سے چار گنا چینی کا کہا گیا ہے۔ ترانہ حسین خان کا خیال ہے کہ متنجن کے لیے رام پور کے شاہی کچن میں اودھی باورچیوں کو خاص طور پر لایا گیا تھا لیکن رام پور کے شاہی باورچی خانے نے گوشت کے ٹکڑوں کو کوفتوں سے بدل دیا۔پاکستانی فوڈ بلاگر فاطمہ نسیم بتاتی ہیں کہ پاکستان میں ’متنجن کبھی بھی عام موقع کا میٹھا پکوان نہیں ہوتا۔ میں نے اسے صرف شادیوں، مذہبی تہواروں (عرس، میلاد) یا لنگر کے حصے کے طور پر پیش ہوتے دیکھا ہے۔ یہ یقینی طور پر ایک خاص ڈش سمجھی جاتی ہے لیکن پاکستان میں جس قسم کا متنجن آج کل مقبول ہے اس میں گوشت نہیں ہوتا، ترانہ حسین کہتی ہیں کہ دلی میں پرانے قلعے کے قریب بابو شاہی باورچی کے بھٹیارخانے (باورچی خانے) میں آرڈر دینے پر حافظ میاں آپ کے لیے خوشبودار

قرض واپس ادا نہ کرنے پر سنی دیول کا گھر نیلامی کیلئے پیش

متنجن تیار کرتے ہیں۔

Back to top button