عمران خان کو اڈیالہ کی بجائے اٹک جیل کا قیدی کیوں بنایا گیا؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے پابند سلاسل ہونے کے بعد اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کے سامنے ایک بار پھر اٹک جیل میں دوران قید درپیش مشکلات اور مسائل کے انبار کھڑے کر دئیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان بشریٰ بی بی سے دونوں ملاقاتوں کے علاوہ اپنے وکلاء سے  بھی صرف ایک ہی مطالبہ کرتے نظر آئے کہ انھیں کسی صورت اٹک جیل سے باہر نکالا جائے۔ عمران خان کے پرزور مطالبے کے بعد جہاں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے باقاعدہ کمپین چلائی جا رہی ہے وہیں دوسری طرف عمران خان کے وکلاء کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی جا چکی ہے جس میں اسےدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کو فوری اٹک جیل سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں منتقل کیا جائے۔

تاہم دوسری طرف روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق  پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ چیئر مین تحریک انصاف کو سیکورٹی بنیادوں پر اٹک جیل منتقل کیا گیا ہے کیونکہ اڈیالہ جیل میں ضرورت سے زیادہ قیدی موجود ہیں ، جن میں زیادہ تر قیدی  بم دھماکوں اور دہشت گردی جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹک جیل کا محل وقوع ایسا ہے کہ اس کے چاروں جانب فورسز موجود ہیں۔ اٹک جیل آرٹلری سنٹر کے دامن میں واقع ہے جس کے تین اطراف آرٹلری سنٹر کا علاقہ ہے۔ جبکہ اس کو صرف ایک ہی سڑک جاتی ہے۔ جس پر ہمہ وقت گشت جاری رہتا ہے۔ دوسری جانب اڈیالہ جیل بالکل کھلے علاقے میں واقع ہے، جس کے تین اطراف بالکل آبادی نہیں بلکہ مکمل طور پر ویرانہ ہے۔ صرف سامنے سڑک والی جانب آبادی موجود ہے۔ اڈیالہ جیل کو تین اطراف سے رسائی ممکن ہے، اس تک صدر راولپنڈی ، چکری اور روایت سے آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ اٹک جیل میں آٹھ سو کے قریب قیدی ہیں جبکہ اڈیالہ جیل میں چھ ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔ اگر جیل میں عمران خان کی وجہ سے کوئی ہنگامہ آرائی ہوتی ہے تو اڈیالہ جیل میں اتنے لوگوں کو سنبھالنا مشکل امر ہے۔

راولپنڈی ڈی آئی جی جیل خانہ جات کے اہم ذرائع کا کہناہے کہ  بلاشبہ اڈیالہ جیل میں اٹک جیل کی نسبت سہولیات زیادہ ہیں۔ لیکن یہاں سیکورٹی اور امن وامان کے مسائل جیسی وجوہات بھی موجود ہیں۔ اڈیالہ جیل کے شمال، جنوب اور مغرب کی جانب مکمل ویرانہ ہے اور کھلا میدان ہے۔ یہاں کسی قسم کی آبادی نہیں ہے۔ اگرچہ جیل حکام کا گشت چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر خدانخواستہ نومئی جیسے جتھے جیل پر حملہ آور ہوتے ہیں تو سیکورٹی کے معاملات مشکل ہو جائیں گے ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اٹک جیل کو ایک ہی سڑک جاتی ہے اور اٹک جیل کامحل وقوع اس نوعیت کا ہے کہ اس جیل کے مغرب ، شمال اور جنوب میں آرٹلری سنٹر موجود ہے۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں فوجی جوان ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔ اس سینٹر میں تو پیں اور ٹینک بنائے جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ سینٹر، اٹک شہر کے اندر دوسر امکمل شہر ہے جس نے ایک جیل کو انگریزی لفظ یو کی شکل میں گھیرا ہوا ہے۔ جبکہ اس کے سامنے اٹک جیل کے مین گیٹ پر پنجاب پولیس سینٹر موجود ہے، جہاں سے ضلع بھر کی پولیس کے اہلکاروں کا ہمہ وقت آنا جانا لگارہتا ہے، جبکہ اسی جیل کے سامنے ایک خفیہ ایجنسی کا دفتر بھی موجود ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے توجیل تک کسی کی بھی رسائی اسی صورت میں ممکن ہے جب کسی کو اس جانب جانے کی اجازت دی جائیگی۔ صرف گھوڑا چوک لاری اڈہ سے ایک ہی سڑک اٹک جیل کی جانب جاتی ہے، جس پر فورسز کا گشت ہر وقت رہتا ہے۔ اور ادھر جانے والوں کی مکمل شناخت دیکھ کر ہی اٹک جیل والی سڑک پر جانے دیا جاتا ہے۔ چیئر مین تحریک انصاف کو اسی لیے اٹک جیل میں رکھا گیا ہے کہ یہاں سیکورٹی کے معاملات بہت بہترین ہیں۔

اٹک جیل کے ذرائع نے بتایا کہ عمران خان اس پہرے میں ابھی بھی موجود ہیں جس میں پہلے روز انہیں رکھاگیاتھا۔ عمران خان شدید گرمی اور حبس سے کافی پریشان ہیں۔ ان کے لیے جیل مینوئل کے مطابق ہی کھانا بنایا جارہا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے لیے جیل پولیس کا ایک اہلکار الگ سے کھانابناتا ہے۔ اور الگ برتنوں میں ڈال کر عمران خان کو دیا جاتا ہے۔ اس کھانے کی مکمل چیکنگ کی جاتی ہے، اس کے بعد ہی انہیں یہ کھانا دیا جاتا ہے۔ ایئرکولر اور دیگر جو دستیاب سہولیات ہیں وہ انہیں دے دی گئی ہیں تاہم تمام سہولیات کے باوجود عمران خان اٹک جیل سے اڈیالہ منتقلی پر بضد ہیں اور اس کیلئے تمام حربے استعمال کر رہے ہیں۔

Back to top button