"ون کانسٹی ٹیوشن ایوینیو” کا قضیّہ

تحریر: نصرت جاوید
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت

مئی کے وسط میں چینی صدر سے ملاقات سے قبل امریکی صدر ایران کے حوالے سے حتمی فیصلے لینے کو مجبور ہے۔ دائمی امن کی تمنا ہوئی تو دس سے پندرہ مئی کے درمیان پاکستان کے دارلحکومت میں کسی بھی دن امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا ایک اور دور ہوسکتا ہے۔ اسلام آباد اگرچہ ان دنوں امن مذاکرات کے مرکز کی حیثیت میں عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے بجائے ایک باعثِ ندامت سکینڈل کی لپیٹ میں ہے۔

وہ ادارے جنہیں ریاست اور حکومتِ پاکستان کی قوت واختیار کا سرچشمہ کہا جاسکتا ہے اسلام آباد کی ’’شاہراہِ دستور‘‘ پر واقع ہیں۔ مارگلہ پہاڑیوں کے آغاز والے مقام سے دائیں ہاتھ مڑیں تو ریاست کے چند دائمی عمارتوں کے دفاتر کے بعد ایوانِ صدر اور بعدازاں پارلیمان کی عمارت آپ کے بائیں ہاتھ نظر آتی ہے۔ ان کے بعد ہے سپریم کورٹ جس کی عمارت ’’اتفاقاََ‘‘پارلیمان سے بلند تر نظر آتی ہے۔ آئین کے مطابق ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ ٹھہرائے وزیر اعظم کے دفتر کی عمارت باقی دفاتر کی ہیبت وجلال میں دبی ہوئی ہے۔ ماہرین تعمیرات نے گویا ’’شاہراہِ دستور‘‘ پر قائم عمارتوں کے نقشے تیار کرتے ہوئے’’تحریری آئین‘‘ کے بجائے حقیقت سے رجوع کیا اور ہر ادارے کی حقیقی قوت واختیار اس کی تعمیر کی صورت اجاگرکردی۔

ان عمارتوں سے گزر کر راولپنڈی یا مری کی جانب بڑھتے ہوئے اْفق پر نگاہ ڈالیں تو سڑک کے اختتام پر پہاڑی کی صورت بلند ہوئے ایک مقام پر آسمان کو چھوتے دوستون نظر آتے ہیں۔ ان کے درمیان ایک پرشکوہ پل بھی تعمیر ہوا ہے۔ آسمان کی رفعتوں سے ’’شاہراہِ دستور‘‘ پر نگاہ رکھنے والی اس عمارت کا نام ’’ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو‘‘ ہے۔’’شاہراہ دستور‘‘ کی نمبرون یعنی پہلی عمارت ہوتے ہوئے اس عمارت نے ہماری ریاست وحکومت کے تمام اداروں کی ساکھ وتوقیر گزرے جمعرات کی رات خلقِ خدا کے روبرو عیاں کردی ہے۔

یہ عمارت کیا ہے۔ کیسے بنی۔ اس کے بارے میں کالم چھپنے تک آپ سب کچھ جان چکے ہوں گے۔ آپ کی معلومات میں اضافے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ محض یاد رکھتے ہیں کہ ’’شاہراہِ دستور‘‘ کے اولین مقام پر ایک جدید ترین ہوٹل قائم کرنے کا فیصلہ ہواتھا۔ اس کے ساتھ چند فلیٹ بھی تیار ہونا تھے۔ فیصل آباد کے ایک ذہین سرمایہ کار نے سی ڈی اے سے زمین خرید کر ہوٹل کی تعمیر کے لئے پنجاب بینک سے قرض لیا۔ قرض مل گیا تو ہوٹل کی بجائے فلیٹس بنانے پر توجہ مرکوز کردی اور سی ڈی اے کے ساتھ ہوئے معاہدے کو حقارت سے نظرانداز کرتا رہا۔ خریدے ہوئے رقبے کی بقیہ قسطیں جمع کروانے میں بھی نادہندگی کا رویہ اختیار کرلیا۔ بالآخر تنگ آکر سی ڈی اے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کو مجبور ہوا۔ سی ڈی اے کے ساتھ ہوئے معاہدے کی دیدہ دلیر خلاف ورزیاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے خلاف قانون ٹھہرادیں۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل ہوئی تو لوگوں کو ’’صادق وامین‘‘ کے سر ٹیفکیٹ بانٹنے والے ثاقب نثار نے ’’معقولیت‘‘ کی راہ نکالی۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر توجہ دینے کے بجائے ’’حقائق‘‘ کو ’’باضابطہ‘‘ بنادیا۔ ہوٹل اس کے باوجودتعمیر نہ ہوا۔ فلیٹس البتہ تیار ہونے کے بعد قیمتی داموں فروخت ہوتے رہے۔ سی ڈی اے کا بھی بقیہ رقم کی ادائیگی سے گریز کا چلن جاری رہا۔

قانون کے بے رحم اطلاق اور معاہدوں سے روگردانی کی بدولت تعمیرات کے ساتھ ’’سمجھوتے‘‘ میں تفریق نہ کرنے کے سبب ریاست وحکومتِ پاکستان نے جو خلا پیدا کیا اس نے ہمارے معاشرے کے چند نامور ،بااثر اورمالدار افراد کو ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو نامی پرشکوہ عمارت میں فلیٹس خریدنے کو اْکسایا۔ ہاتھی کے پا?ں میں سب کے پا?ں کی حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے کئی نیک نام لوگوں نے بھی زندگی بھر کی جمع پونجی مذکورہ عمارت میں فلیٹ خریدنے کی نذر کردی۔ وہ اب بوکھلائے ہوئے ہیں۔ گزرے ہفتے جمعرات کی رات ایک بجے کے قریب اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری رینجرز کے دستوں سمیت اس عمارت میں غارت گرلشکر کی طرح داخل ہوگئی۔ گھروں کے دروازوں پر دل دہلادینے والی دستکوں کے بعد عمارت کے مکینوں کو آگاہ کیا گیا کہ اسلام آباد کورٹ نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے فی الفور خالی کروانے کا حکم دیا ہے۔

سوشل میڈیا کی بدولت رات گئے ہوئی اس یلغار کی خبر جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگوں میں لیکن ہمدردی کے جذبات نہ ابھرے۔ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے مکینوں کی سرکاری کارندوں کے ہاتھوں جبری بیدخلی کاتقابل مجھ جیسے لوگ اْن غریب اور پرسانِ حال افراد کی بدبختی سے کرنے کو مجبور ہوگئے جنہیں حال ہی میں سیدپور اور بری امام کی کچی بستیوں سے غیر قانونی قابض ٹھہراتے ہوئے بے دخل کیا گیا تھا۔ جذبات سے مغلوب ہوکر میں نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام بھی لکھا۔ اس کے ذریعے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے مکینوں پر رات کے اندھیرے میں ہوئی یلغار پر مچائی دہائی کا مقابلہ اس شرمناک خاموشی سے کیا جس کے ذریعے کچی بستیوں کی مسماری اور وہاں بسے سینکڑوں گھرانوں کو راتوں رات کھلے آسمان تلے کاٹھ کباڑ کی طرح پھینک دیا گیا تھا۔ ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اس پیغام کو سراہا۔ خود کو حق وصداقت کا پیغامبر مشہور ہوتے دیکھ کر خوشی ہوئی۔

حق وصداقت کی علمبرداری کے خمار سے بیدار ہواتو سوشل میڈیا پر موجود بے شمار پیغامات پڑھتے ہوئے اندازہ ہوا کہ کئی برسوں تک پھیلے مجرمانہ تغافل کے بعد گزری جمعرات کی رات ’’قانون کی کامل عمل داری‘‘ کے لئے دکھائی حکومتِ پاکستان کی ’’پھرتی‘‘ نے مذکورہ عمارت کے اْن 400 سے زیادہ مکینوں کو بھی بیوی بچوں سمیت سڑک پر پھینک دیا ہے جو برسوں سے کھڑی ہوئی ایک عمارت میں کرائے پر لئے فلیٹ میں رہ رہے تھے۔ مالدار وبااثر ناموں کی خریداری سے حوصلہ پاکر کئی نیک ناموں نے بھی عمر بھر کی جمع پونجی اس عمارت میں فلیٹ خریدنے میں جھونک دی تھی۔ غریب کے ساتھ یکجہتی کی منافقانہ خواہش میں اس جانب توجہ نہ دے سکا۔ ایک بار پھر شدت سے احساس ہوا کہ زیادہ سے زیادہ شیئرز اور لائیکس کی ہوس میں چیزوں کو سیاہ یا سفید دیکھنے سے گریز ہی بہتر ہے۔ انسانی زندگی کی کئی پرتیں اور پہلو ہوتے ہیں۔ ان سب کا احاطہ کئے بغیر لوگوں کی بلااستثناء مذمت باعث شرم ہے۔ اپنے ساتھ مکالمے میں مصروف تھا تو ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے حوالے سے ایسی کہانیاں اور پہلو نمودار ہونے لگے جو اس قضیے کو ہماری ریاست اور حکومت کی مختلف بااثر قوتوں کے مابین پراکسی جنگ کی صورت پیش کررہے ہیں۔

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے قضیے نے اب جو رخ اختیار کیا ہے اس کی تفصیلات میں جانے کا عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھ میں حوصلہ نہیں۔ محض یہ لکھتے ہوئے ’’باجو کی گلی‘‘ سے فرار کی راہ ڈھونڈوں گا کہ بہتر یہی تھا کہ ہم مئی کے پہلے 15دن اسلام آباد کو امریکہ اور ایران کے مابین دیرپاامن کے لئے ہوئے مذاکرات کا مرکز بنائے رکھنے ہی کو ترجیح دیتے۔

 

Back to top button