نام نہاد عوام دوست بجٹ نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی

پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مخلوط حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے نام نہاد عوام دوست بجٹ نے متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ان کی زندگی مزید اجیرن بنا دی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بجٹ میں جو طبقہ سب سے زیادہ نظر انداز ہوا اور جس پر سب سے زیادہ بوجھ پڑنے والا ہے وہ ملک کا اکثریتی متوسط طبقہ ہے۔ ٹیکسوں کی مد میں ہونے والے اضافے اور تیل اور گیس پر لیوی کی مد میں زیادہ محصولات نے مہنگائی کی سونامی لانی ہے جس کا بوجھ متوسط طبقے نے سہنا ہے۔

حکومت نے مہنگائی بم پھینکا تو خود بھی اڑ جائے گی

حکومت کا دعوی ٰہے کہ اس نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کر کے متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی 20 کروڑ آبادی میں سرکاری ملازمین کی تعداد صرف دس لاکھ ہے جبکہ سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک کروڑ سے زائد ملازمین نجی شعبے کی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود تنخواہیں نہیں بڑھا رہیں۔ ویسے بھی حکومت کی جانب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا اثر بھی متوسط طبقے پر پڑے گا کیوں کہ وہ ان ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی کا بوجھ بھی ان پر پڑے گا۔ ان تمام تر تحفظات کی تصدیق پاکستان میں معاشی اور سماجی امور کے ماہرین بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس بجٹ میں کچھ ایسے ٹیکس اور لیویز بھی شامل ہیں جن کا بجٹ تقریر میں ذکر جان بوجھ کر نہیں کیا گیا لیکن فنانس بل میں یہ شامل ہیں اور ان کی وجہ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا جس کا سب سے بڑا نشانہ متوسط طبقہ ہو گا۔

لیکن حکومت کا موقف ہے کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے بجٹ میں ایک ریلیف تو ٹیکس سلیب میں تبدیلی اور چھ لاکھ کی سالانہ آمدن پر ٹیکس چھوٹ کے ساتھ چھ لاکھ سے 12 لاکھ تک کی آمدنی پر صرف سو روپے ٹیکس ادا کرنے کی سہولت ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس طبقے کو بھی ٹیکس چھوٹ حاصل ہو گی۔ اسی طرح جو سلیبز تبدیل کی گئی ہیں اس سے تنخواہ دار ملازمین کو ٹیکس کی شرح میں کچھ کمی سے فائدہ ہو گا۔لیکن ہاشمی نے کہا کہ ’اس بجٹ میں ویسے تو متوسط طبقے کے لیے کوئی خاص ریلیف فراہم نہیں کیا گیا سوائے اس کے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بھی ٹیکس سلیبز اور ٹیکس کی حد میں چھوٹ دی گئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس ریلیف کے علاوہ متوسط طبقے کے لیے اس بجٹ میں کوئی خاص ریلیف فراہم نہیں کیا گیا ہے اور لگتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں حکومت کے بجٹ کے اقدامات کی وجہ سے متوسط طبقے کے لیے مشکلات بڑھنے والی ہے۔‘حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں مختلف شعبوں میں جو نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں ان میں سب سے بڑا اضافہ تیل مصنوعات پر پٹرولیم لیوی کی مد میں اگلے مالی سال میں 750 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ مالی سال میں اس لیوی کے ذریعے صرف 135 ارب روپے اکٹھے کیے گئے اور پھر گذشتہ حکومت اور موجودہ حکومت نے اسے صفر کر دیا تھا تاکہ ملک میں تیل مصنوعات کی قیمتیں زیادہ نہ بڑھ سکیں۔

امورِ تیل کے ماہر زاہد میر نے بتایا کہ ’حکومت نے اگلے مالی سال میں جو پیٹرولیم لیوی کی مد میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اس کا مطلب ہے کہ اگلے مالی سال کے شروع میں اسے ایک لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر تیس روپے صارفین سے وصول کرنے پڑیں گے۔

موجودہ مالی سال میں گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں 25 ارب اکٹھے کرنے کا نظرِثانی ہدف ہے اور حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے اس مد میں دو سو ارب کا ہدف مقرر کیا ہے جو گیس بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ اسی طرح حکومت نے ایل پی جی پر لیوی کا موجودہ ہدف پانچ ارب سے آٹھ ارب کر دیا ہے جو صارفین سے وصول کیا جائے گا۔حکومت کی جانب سے اس سال محصولات کا ہدف سات ہزار ارب رکھا گیا ہے جس میں ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں ساڑھے چار ہزار ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے جس میں سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی شامل ہے جو صارفین کو چیزوں کی فروخت اور ملک میں ہونے والی درآمدات پر لگایا جاتا ہے۔

شہروز خان لودھی نے اس بارے میں کہا کہ ’ان ٹیکسوں کا مطلب ہے کہ صارفین کو اب زیادہ پیسے دینے پڑیں گے اور متوسط طبقہ اس کا سب سے بڑا شکار ہو گا کیوں کہ سیلز ٹیکس اشیا کی فروخت پر لگایا جاتا ہے اور صارفین کو اس کے لیے اضافی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘ان کے مطابق اگلے مالی سال میں متوسط طبقے کو بجلی، گیس اور پیٹرول کے زیادہ نرخ ادا کرنے پڑیں گے کیوں کہ سیلز ٹیکس اور لیوی کے باعث ان بلز کی رقوم کے علاوہ مہنگائی کی شرح میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہو گا۔انھوں نے کہا کہ ’ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت ڈائریکٹ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لاتی اور اس کے ذریعے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف پورا کرتی تو اس سے ان ڈائریکٹ طریقے سے اکٹھا ہونے والا ٹیکس کم ہوتا اور اس کا متوسط طبقے پر کم اثر پڑتا۔‘

حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی، گیس پر سرچارج اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے اور اس کے متوسط طبقے پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں شہروز لودھی نے کہا کہ ’آئندہ سال میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 11 فیصد رکھا گیا ہے جو غیر حقیقی ہے کیوں کہ اس وقت بھی فوڈ انفلیشن بیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔‘

ڈاکٹر عالیہ ہاشمی نے کہا کہ ’اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک میں صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے تو اس کے ساتھ ٹیکس سلیب میں رد و بدل سے تنخواہ دار طبقے کو کچھ فائدہ ہو گا۔‘

یاد رہے کہ ملک میں کام کرنے والے تنخواہ دار طبقے کا ستر فیصد حصہ غیر رسمی معیشت میں کام کرتا ہے جن کی تنخواہیں بڑھانے یا نہ بڑھانے کا کام ان کے مالک کے پاس ہوتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں عین ممکن ہے کہ ان کے مالکان نے ان کی تنخواہیں نہ بڑھائی ہوں۔انھوں نے کہا کہ ’اضافی ٹیکسوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں بے حد اضافے کا خدشہ ہے جس کے اس طبقے کی قوت خرید کم ہو گی۔ اور اس کم ہوتی قوت خرید سے انھیں کچھ ضروریات پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔‘

ڈاکٹر عالیہ نے کہا کہ لگتا ہے کہ ’کم ہوتی قوت خرید کی وجہ سے یہ طبقہ اب خوراک پر کم خرچ کرے گا یا خوراک میں ان چیزوں پر خرچ کرے گا جن سے صرف پیٹ بھرا جا سکے تاہم اس کے زیادہ طبی فائدے نہ ہوں۔’مثلاً بچوں کو پروٹین اور کیلشیم وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے اور لگتا ہے کہ متوسط طبقے کے والدین اب اس پر کم خرچ کریں گے جس سے ایک لحاظ سے ان کی صحت بھی خراب ہو گی۔‘انھوں نے کہا ’اس کے ساتھ یہ ہو گا کہ یہ طبقہ کار سے موٹر سائیکل پر آ سکتا ہے کیوں کہ ایندھن کی زیادہ لاگت کی وجہ سے اس طبقے کے لیے اب کار چلانا مشکل ہو جائے گا۔‘

ڈاکٹر عالیہ نے کہا کہ ’یہ طبقہ بچوں کی تعلیم پر بھی کمپرومائز کر سکتا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے لگتا ہے کہ اخراجات بچانے کے لیے اس طبقے کو بہت ساری ضروریات پر کٹوتی کرنی پڑے گا۔‘ان کے مطابق ’اس بجٹ میں غریب طبقے کے لیے تو کچھ ریلیف موجود ہے اور اس طبقے کی ضروریات بھی محدود ہیں اسی طرح امیر طبقے کو بھی اس سےکچھ خاص فرق نہیں پڑنے والا تاہم اس بجٹ کا سب سے زیادہ منفی اثر متوسط طبقے پر پڑے گا۔‘

Back to top button