فوج اور طالبان کے مذاکرات پر پارلیمنٹ بے خبر کیوں ہے؟

اتحادی حکومت نے فوجی قیادت کو تجویز دی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ افغانستان میں جاری امن مذاکرات کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے تا کہ اس حساس ترین معاملے پر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔معلوم ہوا ہے کہ کئی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات بارے منتخب پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا جس کے بعد اب فوجی قیادت سے رابطہ کر کے منتخب اراکین کو اعتماد میں لینے کی تجویز دی گئی ہے۔

ملک ریاض نے عمران کو کتنے ارب کی زمین رشوت دی؟

اس سے پہلے پیپلز پارٹی کی قیادت نے تحریک طالبان کے ساتھ پاکستانی حکام کے امن مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جسکے بعد قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری کو چند دیگر جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی کے ہمراہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ پیپلز پارٹی نے اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اپنے رکن قومی اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا تھا اور وزیر اعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں ماضی کی طرح پوری پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ اب وفاقی حکومت نے فوجی قیادت سے رابطہ کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا ہے کہ چونکہ ماضی میں پشاور آرمی پبلک اسکول پر ٹی ٹی پی کے وحشیانہ حملے کے بعد پارلیمنٹ نے فوجی قیادت کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر طالبان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا لہذا اب اگر ان سے امن مذاکرات کیے جائیں رہے ہیں تو پارلیمنٹ کے بغیر اس عمل کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کو کسی امن ڈیل کے بعد پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا لہذا فیصلے کرنے سے پہلے یہ کام کیا جائے۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوجی حکام کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی زیر قیادت پچھلے کئی ماہ سے کابل میں تحریک طالبان کی لیڈر شپ سے مذاکرات میں مصروف ہیں جن میں افغانستان کی طالبان حکومت ضامن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اقتدار سے رخصتی کے بعد ان مذاکرات کے حوالے سے عسکری حکام نے اب تک حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس مذاکراتی عمل پر اب تک کوئی ردعمل نہیں دیا لیکن پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر اس عمل کی مخالف ہے۔
دوسری جانب تحریک طالبان اور پاکستانی عسکری حکام کے مابین مذاکرات اور غیر معینہ مدت تک جنگ بندی کے اعلان کے باوجود وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے اور طالبان کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں، لہذا سوال یہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود بھی یہ کارروائیاں کیوں ہو رہی ہیں؟

یاد رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد پارلیمنٹ کی منظوری سے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے طالبان کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جسے آپریشن ’ضرب عضب‘ کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم ان عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ جو طالبان امریکہ کے ہاتھوں شکست نہیں کھا پائے ان کے ساتھ پاکستان کو بھی لڑنے کی بجائے امن مذاکرات کا عمل شروع کرنا چاہیے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے تحریک طالبان افغانستان، تحریک طالبان پاکستان اور دہشت گردوں سے متعلق معاملات پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ بلاول بھٹو نے سیاسی جماعتوں سے رابطوں اور دہشت گردی کے معاملات پارلیمنٹ میں اٹھانے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہےجس میں شیری رحمٰن، فرحت اللہ بابر اور قمر زمان کائرہ شامل ہیں۔ اتوار کو زرداری ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں تحریک طالبان افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان بارے تبادلہ خیال ہوا جس میں پارلیمان کو وہ پہلا اور واحد فورم قرار دیا گیا جہاں ایسے موضوعات پر بحث کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان سے جاری مذاکرات سمیت دہشت گردی سے متعلق تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں۔اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں پیپلز پارٹی نے کہا کہ تمام تر فیصلے پارلیمنٹ کے ذریعے ہونے چاہئیں، لہٰذا پارلیمنٹ کو تمام فیصلوں میں لازمی شامل کیا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت اور ٹی ٹی پی نے غیر معینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور قبائلی سرحدی علاقے میں دو دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور موجودہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کر رہے ہیں۔

Back to top button