مالی سال کے پہلے ماہ تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا

درآمدات میں بے پناہ اضافہ، مالی سال کے پہلے ماہ تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا

ادارہ شماریات کی جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق جولائی میں مجموعی تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 25.17 فیصد بڑھ کر 3.94 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے تجارتی خسارہ ہمیشہ سے ایک حساس اور چیلنجنگ شعبہ رہا ہے، کیونکہ درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار زرِ مبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر براہِ راست دباؤ ڈالتا ہے۔

نئے مالی سال کے آغاز پر جاری ہونے والے یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برآمدات میں بہتری کے باوجود درآمدی بل میں تیزی سے اضافہ معیشت کے لیے ایک بار پھر تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 3.15 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جو رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں بڑھ کر 3.94 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یوں سالانہ بنیادوں پر خسارے میں 25.17 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی میں ملکی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.93 ارب ڈالر تک جا پہنچیں، تاہم اسی دوران درآمدات میں 18 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو بڑھ کر 6.88 ارب ڈالر ہو گئیں۔

درآمدات میں یہ تیزی برآمدات میں ہونے والی بہتری کو مکمل طور پر زائل کرتے ہوئے مجموعی تجارتی خسارے میں اضافے کا باعث بنی۔

ماہانہ بنیادوں پر یعنی جون کے مقابلے میں جولائی کے دوران برآمدات میں 31 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور یہ 2.24 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.94 ارب ڈالر تک جا پہنچیں، جبکہ اسی عرصے میں درآمدات میں 0.17 فیصد کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 8.88 ارب ڈالر رہیں۔

 

 

Back to top button