ٹرمپ ایران کیخلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں، ایگزیوس کا دعویٰ

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق درجنوں فضائی ایندھن بردار (ری فیولنگ) طیارے اسرائیل بھیجے جا رہے ہیں، جبکہ زیر غور منصوبوں میں ایران کے بجلی گھروں، اہم شہری انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔
ایگزیوس کے مطابق امریکا کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھا کر آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھلوانا اور تہران کو اپنے جوہری مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔
رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی حتمی فیصلے کی منظوری نہیں دی، اگرچہ آنے والے دنوں میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے ممالک شہری دفاع کے اقدامات کو فعال کریں اور شہریوں کو ممکنہ فوجی اہداف سے دور رکھیں۔
غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی بمباری، 14 فلسطینی شہید
پاسدارانِ انقلاب کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی رکھنے والے ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور خطے میں امن کی بحالی تک ایران اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
