فلم "کملی” کے بعد سرمد کھوسٹ کا اداکاری کا فیصلہ

معروف اداکار، ہدایتکار، پروڈیوسر اور سکرین رائیٹر سرمد کھوسٹ نے فلم ’’کملی‘‘ کی کامیاب ریلیز کے بعد کہا ہے کہ اب میں سمجھتا ہوں کہ بطور اداکار مجھے بھی فلموں میں کام کرنا چاہئے۔ یاد رہے کہ کچھ برس پہلے سرمد کھوسٹ نے ایک مشہور پاکستانی فلم میں معروف اڈرامہ نگار سعادت حسن منٹو کا کردار ادا کیا تھا۔
ایک انٹرویو میں فلم ‘کملی کی تیاری کو چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے سرمد کھوسٹ نے بتایا ہے کہ اس کی شوٹنگ مشکل ترین حالات میں ہوئی لیکن اپنی کاسٹ کو کریڈٹ دیتا ہوں کہ اس نے فلم کو ممکن بنایا۔ سرمد نے بتایا کہ ہمیں ایسی کوئی توقع نہیں تھی کہ کملی کوئی کھڑکی توڑ بزنس کریگی لیکن یہ اُمید ضرور تھی کہ اچھا بزنس ہوگا اور اب تک ایسا ہی ہوا ہے، سرمد کھوسٹ نے بتایا کہ وہ سال میں صرف دو ہی فلمیں بنا سکتے ہیں لیکن جتنی اس کی پروموشن کرنی پڑتی ہے وہ بہت مشکل کام ہے۔ کملی کی کہانی ’’حنا‘‘ کے کردار کے گرد گھومتی ہے، جو ایک بے نام وادی کے ایک گھر میں اپنی اندھی نند سکینہ کے ساتھ بظاہر ایک عام سی زندگی گزار رہی ہے۔

سابق فوجیوں کی سوسائٹی فوجی قیادت کے خلاف کیوں ہو گئی؟

سرمد نے بتایا کہ فلم کا خیال ان کو ایک شارٹ فلم سے ملا، انہوں نے 2018 کے وسط میں فلم لکھنی شروع کی، پہلے مین نے سکیچ بنایا، اور مہربانو کی شارٹ فلم دیکھی جس سے مجھے کملی کا خیال آیا، پہلے میں نے مہر بانو سے بات کی لیکن پھر مجھے فاطمہ ستار کا خیال آیا اور پھر اس نے ہی فلم لکھی۔ فلم کی کہانی مکمل ہوئی تو شوٹنگ کا مرحلہ آیا لیکن اس سے قبل لوکیشن کا انتخاب کرنا تھا جو آسان نہیں تھا کیوں کہ فلم کی کہانی کے لیے ایک مخصوص جگہ درکار تھی، جس کیلئے کلر کہار کی پہاڑیوں کا انتخاب کیا گیا۔ جب ہم وہاں پہلی بار ریکی پر گئے تو ہم نے یہ بھی سوچا کہ کچھ شوٹنگ ہم شاید جلو اور چھانگا مانگا میں بھی کر لیں گے لیکن جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے سوچا کہ یہی جگہ ہے۔ لیکن یہ جگہ آبادی سے کچھ دور تھی، وہاں ہوٹل نہیں تھے، بہت مشکل کام تھا لیکن ٹیم نے ان تمام مشکلات کے باوجود بہت اچھے طریقے سے کام کیا۔
سرمد نے بتایا کہ اس فلم کیلئے لوکیشن پر گھر بھی تیار کیا گیا، جوکہ ایک جنگل میں بنا ہوا تھا، تالاب کا شاٹ جس دن لینا تھا اسی دن گیزر خراب ہو گیا، دیگوں سے ہم نے تالاب میں گرم پانی ڈالا جس سے سالن کی مہک آ رہی تھی، پہلے میں خود پانی میں لیٹا لیکن صرف گیارہ فریم گزرے اور میں باہر آ گیا، صبا نے مجھے کہا کوئی بات نہیں، ہم شوٹنگ کر لیتے ہیں۔ سرمد کھوسٹ کے مطابق ہیرو کی انٹری میرے ذہن میں پہلے سے تھی، اس میں جسمانی عنصر بھی شامل تھا۔ جب ہم نے ارد گرد دیکھا تو بہت زیادہ آپشن نظر نہیں آئے، ہم نے کہانی کا اختتام ایسی جگہ پر کیا ہے جہاں لوگ خود سے سوچ سکتے ہیں کہ انجام کیا ہوا ہوگا۔ سرمد کے مطابق فلم جب لکھی گئی تو اس میں وقفہ نہیں تھا، وہ ایک کہانی کی طرح تھی اور جو انٹرمشن ہے وہ زبردستی کا ہے جس سے کم از کم میں تو خوش نہیں ہوں لیکن سینما والوں نے کہا کہ ہمارا زیادہ منافع تو فلم کے وقفے میں بکنے والی کھانے پینے کی چیزوں سے ہوتا ہے۔
سرمد فلم انڈسٹری میں نئے لوگوں سے بھی کافی پر اُمید ہیں، خاص طور پر لکھاریوں سے جبکہ پرانے لوگوں سے ان کا ایک شکوہ ہے، انکا کہنا ہے کہ نئے لوگوں میں جو کہانی لکھنے والے ہیں، ان میں کم از کم کوشش کرنے کی صلاحیت ہے لیخن جو کچھ پرانے لوگ ہیں، انہون نے تجربہ کرنے سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر فلم اندسٹری کا کوئی مستقبل ہے تو وہ نئے لوگوں کے ساتھ ہے جن کے پاس نئے خیالات ہیں اور آج کل کی کہانیاں ہیں۔

Back to top button