افغانستان کا کابل ڈرون حملے میں پاکستانی حدود استعمال ہونے کا الزام

افغانستان کی طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر دفاع نے الزام عائد کیا ہے کہ دارالحکومت کابل میں ہونے والے ڈرون حملے کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کی گئی۔
عالمی خبر ساں ادارے روئٹرز کے مطابق قائم مقام وزیر دفاع ملا یعقوب نے اتوار کو کابل میں پریس کانفرنس میں ڈرون حملے کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال ہونے کا الزام عائد کیا۔
ملا یعقوب نے مزید کہا کہ ’ہماری معلومات کے مطابق پاکستان کے ذریعے ڈرون افغانستان میں داخل ہوتے ہیں، پاکستان کی فضائی حدود استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان ان الزامات ان کی پہلے ہی سختی سے تردید کر چکا ہے۔
سیلاب زدگان کیلئے یواے ای کاامدادی سامان پہنچ گیا،ترکیہ سے روانہ
واضح رہے کہ پاکستان ان الزامات ان کی پہلے ہی سختی سے تردید کر چکا ہے۔ 5اگست کو افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ ایمن الظواہری پر امریکی ڈرون حملے میں پاکستان کی حدود استعمال ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’اس تمام معاملے پر دفتر خارجہ واضح طور پر کہہ چکا ہے اور وزارت داخلہ نے بھی اس پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے
2اگست کو صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب میں بتایا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس حکام نے کابل کے ایک گھر میں ایمن الظواہری کا سراغ لگایا جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ چھپے ہوئے تھے۔
