امریکی فوج کا ایرانی میزائل، ڈرونز اور ریڈار تنصیبات پر فضائی حملہ

جنگ بندی معاہدے کے باوجود امریکی فوج نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے قریب ایران پر فضائی حملے کر دیئے، ایران کے ساحلی علاقے سرک میں دھماکے کی آواز سنی گئی۔ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے خلاف فضائی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی میزائل اور ڈرون ذخائر سمیت ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی اہداف پر کی گئی، جس میں میزائل اور ڈرون کے ذخائر کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے ساحلی علاقے سرک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی 25 جون کو سنگاپور کے تجارتی جہاز ایم وی ایور لوولی پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔ امریکی مؤقف کے مطابق تجارتی جہاز رانی پر حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور عالمی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ ہے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اس کی فورسز بدستور تعینات ہیں اور ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر چوکس ہیں۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی دفاعی نظام نے امریکی حملے کو ناکام بنا دیا ہے تاہم اس امریکی کارروائی کا "تیز اور فیصلہ کن جواب” دیا جائے گا۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائی کا مقصد خطے میں بحری تجارت کے تحفظ اور ایران کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کا جواب دینا تھا، جبکہ ایرانی حکام نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے
