حلف نہ ملا تو سہیل آفریدی کا مستقبل کیا ہوگا ؟

 

 

 

 

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہ کیے جانے کے باوجود نئے وزیراعلیٰ کے متنازع انتخاب نے صوبے میں ایک نئے آئینی بحران کو جنم دے دیا ہے۔ گورنر نے اس بنیاد پر نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لینے سے بھی انکار کر دیا ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس کے درمیان ایک سنگین ٹکراؤ کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

 

آئینی و قانونی ماہرین اس معاملے پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ خالد رانجھا جیسے کچھ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ گورنر کی جانب سے استعفے کی منظوری کے بغیر نئے وزیراعلیٰ کا الیکشن غیر آئینی ہے۔جب تک گورنر باضابطہ طور پر استعفیٰ منظور نہیں کرتے،اس وقت تک وزیراعلیٰ کا انتخاب آئین کے منافی تصور ہوگا۔ تاہم اشتر اوصاف علی جیسے دیگر ماہرین کے مطابق اگر وزیراعلیٰ خود اپنے استعفے کی تصدیق کر دے تو گورنر کی منظوری محض ایک رسمی کارروائی رہ جاتی ہے اور اسمبلی نئے قائدِ ایوان کے انتخاب میں مکمل طور پر بااختیار ہوتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتِ حال نہ صرف صوبے میں آئینی ابہام پیدا کر رہی ہے بلکہ اس سے سیاسی سطح پر بھی نئی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں۔

 

خیبرپختونخوا میں یہ سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے چند روز قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ تاہم گورنر ہاؤس کو بھیجے گئے دو استعفوں پر دستخطوں میں تضاد کے شبہ میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے ان استعفوں کو مسترد کر دیا اور علی امین کو ذاتی حیثیت میں 15 اکتوبر کو تصدیق کے لیے گورنر ہاؤس طلب کر لیا۔ تاہم گورنر کی جانب سے استعفوں کی منظوری سے قبل ہی خیبر پختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلالیا گیا، جس میں علی امین گنڈا پور نے فلور پر خطاب کرتے ہوئے اپنے استعفے کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ پارٹی فیصلے کے مطابق عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ اپوزیشن نے اس غیر آئینی انتخاب پر سوال اٹھایا۔ جس پر سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے استعفے کی منظوری بارے رولنگ دی اس کے فوراً بعد اسمبلی نے پی ٹی آئی کے رکن سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ منتخب کر لیا۔

 

تاہم یہ سوال اب آئینی ماہرین کے درمیان زیر بحث ہے کہ کیا گورنر کی منظوری کے بغیر وزیراعلیٰ کا استعفیٰ مؤثر ہو سکتا ہے؟ سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے مطابق آئینِ پاکستان میں استعفے کی ’’منظوری‘‘ کا کوئی تصور نہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کا استعفیٰ اُس وقت مؤثر ہو جاتا ہے جب وہ تحریری طور پر گورنر کو ارسال کر دیا جائے۔ اگر علی امین نے اسمبلی فلور پر استعفے کی تصدیق کر دی ہے اور خود نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں شریک ہوئے تو گورنر کی منظوری اب محض رسمی بات ہے۔”اسی رائے سے بعض دیگر قانونی ماہرین بھی متفق نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے واضح کرتے ہیں کہ آرٹیکل 130(8) کے تحت وزیراعلیٰ کا استعفیٰ اس کی وصولی کے ساتھ ہی مؤثر تصور ہوتا ہے۔ اس لئے اس کی باقاعدہ منظوری نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ اسمبلی کا انتخابی عمل آئینی ہے کیونکہ علی امین گنڈا پور نے خود فلور پر استعفے کی تصدیق کی۔ "عدالتیں عام طور پر اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرتیں۔ اگر اپوزیشن عدالت جاتی ہے تو امکان یہی ہے کہ وہ سیاسی فائدہ حاصل نہیں کر سکے گی۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین میں وزیراعلیٰ کے استعفیٰ کا ذکر موجود ہے مگر اس کی منظوری کا ذکر نہیں۔ ’علی امین نے استعفیٰ دیا، اس کی ویڈیوز موجود ہیں اور اسمبلی میں خود اس کی تصدیق کی، اب اپوزیشن یا گورنر کی جانب سے اس انتخاب کو نہ ماننے کا کوئی جواز نہیں بچتا۔‘

 

دوسری جانب سینیئر قانون دان ڈاکٹر خالد رانجھا اس تشریح سے اختلاف کرتے ہیں۔ خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ "گورنر کو آئینی اختیار حاصل ہے کہ وہ دستخطوں اور حالات کی تصدیق کے بعد استعفیٰ منظور کریں۔ اگر گورنر کو شبہ ہو کہ وزیراعلیٰ دباؤ میں استعفیٰ دے رہا ہے، تو وہ تصدیق کے بغیر اسے منظور نہیں کر سکتا۔ اس لئے جب تک استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور نہ ہو، نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب آئینی نہیں سمجھا جا سکتا۔

 

پاکستان تحریک انصاف نے گورنر فیصل کریم کنڈی کے اقدام کو ’’تاخیری حربہ‘‘ قرار دے دیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نعیم اختر پنجوتھا کا کہنا ہے کہ:”فیصل کنڈی نے آئین کے آرٹیکل 102 کی خلاف ورزی کی ہے۔ گورنر آئینی طور پر پابند ہیں کہ وہ وزیراعلیٰ کے استعفے کو موصول ہونے پر مؤثر تسلیم کریں۔” جبکہ تحریک انصاف کے سینیئر وکیل سید علی ظفر کے مطابق گورنر کی جانب سے سہیل آفریدی سے حلف لینے سے انکار کے بعد "چیف جسٹس ہائی کورٹ کسی کو بھی حلف لینے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب پیدا ہونے والی یہ صورتحال بظاہر ایک ’’سیاسی فیصلے‘‘ کا آئینی امتحان بن چکی ہے۔ ایک جانب گورنر اپنی آئینی اتھارٹی کے مؤقف پر قائم ہیں، دوسری جانب پی ٹی آئی اسے جمہوریت کی تضحیک قرار دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تنازع عدالت میں گیا تو اس کا فیصلہ مستقبل کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا کہ آیا وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ گورنر کی منظوری کا محتاج ہے، یا صرف اس کی تحریری تصدیق ہی کافی ہے۔ فی الحال صوبے میں اقتدار کی باگ ڈور سیاسی ہی نہیں، آئینی کھینچا تانی میں بھی الجھ چکی ہے۔

 

Back to top button