عمران کو دوبارہ اقتدار ملا تو پاکستان کا کیا حشر ہوگا؟

اپنی پونے چار سالہ دور حکومت میں پاکستان کو معاشی تباہی اور سفارتی تنہائی کے دہانے پر پہنچانے والے عمران خان پارلیمنٹ سے ووٹ آؤٹ ہونے کے باوجود بَضد ہیں کہ وہی اس ملک اور قوم کے نجات دَہندہ ہیں اور پاکستان کی حقیقی آزادی کے علمبردار ہیں اور اسی لیے انکو اقتدار سے بے دخل کیا گیا ہے۔
خود پسندی کی بیماری میں مبتلا کپتان کا اصرار ہے کہ وہی پاکستان کی خودداری کی علامت ہیں اور پاکستان کو موجودہ مسائل سے نکال سکتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے تمام معاشی اور سفارتی مسائل کے ذمہ دار عمران خود ہیں اور یہ تمام مسئلے انہوں نے ہی کھڑے کیے۔
سوال یہ بھی ہے پاکستان کی تقدیر بدلنے کے دعویدار عمران خان اپنے پونے چار سالہ دور اقتدار میں ملک کو آگے لے جانے کی بجائے پیچھے کیوں لے گئے حالانکہ وہ پاکستانی تاریخ کے واحد وزیراعظم ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ کی بھر پور اور بلا مشروط حمایت حاصل تھی۔
لیکن پھر بھی ہم ایک ایسا منظر نامہ بنا لیتے ہیں جہاں پوری قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے اور وہ دو تہائی اکثریت سے دوبارہ وزیراعظم بن جاتے ہیں ۔اس فرضی منظر نامے میں وفاق کے ساتھ تمام صوبوں میں بھی عمران کی حکومت بن جاتی ہے۔ صدر مملکت اُن کی مرضی کا ہے۔
چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، وزراء اعلیٰ اور گورنرز بھی عمران کی منشا سے تعینات ہو جاتے ہیں۔ اسکے بعدعمران تمام اداروں کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں حتی کہ آرمی چیف بھی اُنہی کا منظورِ نظر اور DG ISI بھی اُنہی کا مداح سرا لگا دیا جاتا ہے۔
ایسی صورت حال میں موجودہ نظام سے ناخوش عمران 1973 کے آئین اور پارلیمانی نظام کو ختم کر کے ملک میں صدارتی نظام نافذ کر دیتے ہیں جو کہ چائنہ کی طرز پر یک جماعتی سسٹم پر قائم ہے۔
عمران خود داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اعلانات کے عین مطابق IMF سے ناطہ توڑ لیتے ہیں اور امریکہ سے تعلقات ختم کر لیتے ہیں۔ وہ یورپی یونین کو بھی جوتے کی نُوک پر رکھ لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر سیاسی جنگ ٹوئیٹر سے ٹک ٹاک پر منتقل
پھر وہ انڈیا کو ایک فاشسٹ ریاست قرار دے دیتے ہیں اور مذہب کا سہارا لیتے ہوئے تُرکی اور ملائشیاء کے بلاک میں شامل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسی صورت حال میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کے خلاف ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب خان صاحب ایک آمر مطلق بنتے ہوئے تمام سیاسی قائدین کو جیلوں میں ڈال دیتے ہیں اور ARY چینل اور چند مخصوص گیلے اور سوکھے صحافیوں نما تیتروں کو چھوڑ کر باقی میڈیا پر پابندی لگا دیتے ہیں۔
میڈیا مخالف پیکا کا قانون بھی دوبارہ نافذ کر دیا جاتا ہے اور تمام تنقیدی آوازوں کو دبا دیا جاتا ہے۔ اسی دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لاتعلقی اور طالبان کی مدد کے الزام پر امریکی پابندیوں کا اطلاق ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں عالمی دنیا پاکستان کی معاشی اور دفاعی مدد سے مکمل انکاری ہو جاتی ہے۔
یوں پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم ہو جاتا ہےاور ٹیکسٹایل انڈسٹری تباہ ہو جاتی ہے، لوگ بے روز گار ہو جاتے ہیں، امریکہ پاکستان پر تجارتی پابندیاں لگا دیتا ہے جس سے صنعتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ڈالر ملکی تاریخ کی بُلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ ملکی قرضوں میں ہو شربا اضافہ ہو جاتا ہے اور مہنگائی کی سونامی برپا ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی کمزور تجارتی صورتحال کی وجہ سے افغان طالبان انڈیا کے ساتھ تعلقات بنا لیتے ہیں۔ پھر بھارت اور مغربی ممالک کے ساتھ خراب تر تعلقات کے باعث پاکستان کو FATF کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
گلف ممالک بھی پاکستانیوں خصوصاً مزدور طبقے کو پاکستان واپس بھجوا دیتے ہیں اور نتیجتاً پاکستانی ذرائع مبادلہ کی ترسیلات اور بھی کم ہو جاتی ہیں۔ خراب معیشت کے باعث دفاعی بجٹ میں کمی کرنا پڑ جاتی ہے۔
جس سے ملک کی دفاعی صلاحیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ افغان طالبان اور تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری اور پاکستان افغانستان بارڈر پر کشیدگی میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس نازک صورت حال حال کو بھانپتے ہوئے بھارت پاکستان کی مشرقی سرحد پر اپنی کارروائیاں تیز کر دیتا ہے اور بلوچستان میں دہشتگردی کو فروغ دیتا ہے تاکہ سی پیک پراجیکٹ پر کام مکمل طور پر رک جائے۔ اس دوران افواج پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر کے اس کی ساکھ کو اور بھی مجروح کیا جاتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار یہ فرضی منظر نامہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کی اس صورتحال میں پاکستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار ایک مرتبہ پھر خود کو مرد بحران قرار دینے والا عمران خان ہی ہوگا۔
وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا یہی وہ نیا پاکستان ہے جس کے حصول کا نعرہ عمران نے پہلے بھی لگایا تھا اور اب دوبارہ سے لگا رہے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستانی عوام اپنے بچوں کے لئے ایسے ہی نئے پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں جس کا منظر نامہ یہاں بیان کیا گیا ہے۔ فیصلہ عوام نے خود کرنا ہے۔
