پاکستان کویت 12 نکاتی دفاعی معاہدے میں نیا کیا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی ممالک کو درپیش نئے سکیورٹی خطرات اور بدلتے ہوئے علاقائی توازن کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ بارہ شقوں پر مشتمل یہ جامع معاہدہ فوجی تربیت، مشترکہ مشقوں، دفاعی صنعت، انٹیلی جنس، لاجسٹکس، سائنس و ٹیکنالوجی اور صلاحیت سازی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے۔ اس پیش رفت کو ایسے وقت میں بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ ایران۔امریکہ کشیدگی، خلیجی سلامتی اور بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے باعث غیر معمولی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور عسکری کردار کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خلیجی ریاستوں کی نئی سکیورٹی حکمت عملی، علاقائی استحکام اور مستقبل کے دفاعی تعاون کے لیے بھی اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کو کویت کی جانب سے شاہی فرمان کے ذریعے منظوری ملنے کے بعد دونوں ممالک کے دیرینہ دفاعی تعلقات کو باضابطہ قانونی اور ادارہ جاتی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ 11 جون 2023 کو طے پانے والے اس معاہدے کی منظوری کے بعد پاکستان نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ معاہدے کی منظوری کے فوراً بعد کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان 1980 کی دہائی سے قائم دفاعی تعلقات کو جدید تقاضوں کے مطابق ایک جامع ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت فوجی تربیت، مشترکہ مشقیں، دفاعی تعلیم، لاجسٹکس، فوجی ماہرین اور اہلکاروں کا تبادلہ، دفاعی صنعت، سائنس و ٹیکنالوجی، فوجی انٹیلی جنس اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ معاہدے پر عملدرآمد دونوں ممالک کی وزارتِ دفاع کے ذریعے ہوگا جبکہ ایک مشترکہ فوجی کمیٹی قائم کی جائے گی جو سالانہ اجلاسوں کے ذریعے پیش رفت کا جائزہ لے گی اور مستقبل کی حکمت عملی مرتب کرے گی۔
بارہ شقوں پر مشتمل اس معاہدے میں حساس دفاعی معلومات کے تحفظ، انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس، مالیاتی انتظام، معاہدے میں ترمیم کے طریقۂ کار، تنازعات کے حل، نفاذ، تجدید اور خاتمے کے واضح اصول بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس سے کسی بھی فریق کے دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حاصل حقوق یا ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جبکہ کسی بھی اختلاف کی صورت میں معاملہ باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا اور اسے کسی بین الاقوامی عدالت یا تیسرے فریق کے پاس نہیں لے جایا جائے گا۔
یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2025 میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے سے مختلف نوعیت کا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے میں کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں ممالک پر حملہ تصور کرنے کی شق شامل تھی، جبکہ کویت کے ساتھ موجودہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی تعاون، تربیت، مہارت، لاجسٹکس، دفاعی صنعت، انٹیلی جنس، سائنس و ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی تعاون تک محدود ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینا اور علاقائی استحکام میں کردار ادا کرنا ہے، نہ کہ کسی فوجی اتحاد کی بنیاد رکھنا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور امریکی سلامتی کی ضمانتوں پر اٹھنے والے سوالات نے خلیجی ریاستوں کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک اب صرف ایک طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کر رہے ہیں تاکہ علاقائی خطرات سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں، مشرقِ وسطیٰ میں متوازن سفارت کاری، خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات اور حالیہ علاقائی پیش رفت نے اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اسی تناظر میں کویت کی جانب سے اس معاہدے کو قانونی حیثیت دینا پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کو دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، توانائی، افرادی قوت، عسکری تربیت، دفاعی صنعت اور غیر ملکی زرِمبادلہ کے شعبوں میں بھی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جبکہ کویت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، تربیتی نظام کو جدید بنانے اور بدلتے ہوئے علاقائی سکیورٹی ماحول میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سے تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔
مریم نواز کا آزاد کشمیر کیلئے بسوں کا تحفہ تنقید کی زدمیں کیوں؟
اگرچہ بعض ماہرین کے مطابق فوری طور پر کسی بڑے فوجی اتحاد یا مشترکہ عسکری کارروائی کی توقع نہیں کی جا سکتی، تاہم اس معاہدے کو خطے میں ابھرتے ہوئے نئے سکیورٹی آرڈر، دفاعی سفارت کاری، علاقائی تعاون اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تزویراتی کردار کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
