بلوچستان میں خودکش حملہ کرنے والی ماہل بلوچ کس کی بیٹی تھی؟

26 اگست کو نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے حملوں میں سے ایک بڑا حملہ بیلہ کے علاقے میں ہوا جس میں تربت یونیورسٹی کی ایک طالبہ ماہل بلوچ نے خود کش بمبار کا کردار ادا کیا۔ میڈیا نے اس حملے کو ڈاؤن پلے کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماہل بلوچ قانون کی طالبہ تھی اور خودکش حملے کے بعد بلوچستان لبریشن آرمی سے وابستہ مجید بریگیڈ نے اسکی تصویر بھی جاری کی۔ اس سے قبل بی ایل اے کی دو مختلف کارروائیوں میں دو خواتین خودکش بمبار استعمال ہو چکی ہیں اور ماہل بلوچ اسی تنظیم کی تیسری خاتون خودکش بمبار تھی۔ اپریل 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں شاری بلوچ نامی خاتون نے پہلا خودکش حملہ کیا تھا جس میں تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد مارے گئے تھے۔ وہ دو بچوں کی والدہ تھی اور شوہر پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھا۔

دوسرا خودکش حملہ جون 2023 میں سمیعہ قلندرانی بلوچ نے کیا تھا جو مجید بریگیڈ کے بانی رہنما اسلم بلوچ کی بہو تھی۔

بلوچستان لبریشن آرمی نے 6 مہینے تک حملوں کی منصوبہ بندی کی

26 اگست کو بلوچستان کے علاقے بیلہ میں تیسرا خودکش حملہ کرنے والی ماہل بلوچ عرف زلان نے 26 اگست کو سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ کا دروازے بارود سے بھری ہوئی گاڑی ٹکرانے کر اڑا دی جس کے بعد دیگر فدائی کیمپ میں داخل ہو گئے۔ بی ایل اے کے مطابق بیلہ میں آپریشن ھیروف کا آغاز ماہل بلوچ کی گاڑی ٹکرانے سے ہوا۔ بلوچستان پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بیلہ میں ایف سی کیمپ پر خودکش حملے میں ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ ماہل بلوچ کا تعلق گوادر شہرسے 25 کلومیٹر دور سربندن کے علاقے سے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ماہل سربندن کی معروف شخصیت کہدا حمید عصا کی بیٹی تھی جن کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہے اور وہ سربندر کی یونین کونسل کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی بابو گلاب گوادر کے ضلعی ناظم اور چیئرمین رہے ہیں۔ کہدہ حمید عصا کے چھ بچے ہیں جن میں سے ماہل پانچویں نمبر پر تھی۔

ماہل بلوچ کے انسٹا گرام پر موجود مواد میں کیوبا کے انقلابی لیڈر فیدل کاسترو کی کتاب ’تاریخ مجھے بری کر دے گی‘ بھی موجود ہے جو اس کی فیورٹ تھی۔

سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر اس حوالے سے اپنی تازہ تحریر میں بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر سرگرم کچھ سرکاری سائبر کمانڈوز نے بیلہ میں حملہ کرنے والی ماہل بلوچ کو ایک اور ماہل بلوچ کے ساتھ کنفیوژ کر دیا جو گزشتہ سال گرفتار ہوئی تھی۔ گرفتار ہونے والی ماہل بلوچ دو بچوں کی ماں تھی اور اس نے دوران حراست ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ اس کا تعلق بی ایل ایف کے ساتھ ہے۔ بیلہ میں 26 اگست کو خودکش حملہ کرنے والی ماہل بلوچ کا تعلق گوادر کے ایک معروف سیاسی گھرانے سے تھا۔ ہم نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ تربت یونیورسٹی کے ایک گرلز ہاسٹل سے ایک بلوچ طالبہ بیلہ میں خودکش حملہ کرنے کیسے پہنچ گئی؟ سب کو یہ فکر تھی کہ بلوچ قوم پرست ایکٹیوسٹ ماہ رنگ بلوچ 26 اگست کے حملہ آوروں کی مذمت کب کرے گی؟ سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے ماہ رنگ بلوچ کے والد غفار لانگو کی ریاستی حراست میں موت کی مذمت کی تھی؟ اس پہلو کو بھی نظرانداز کر دیا گیا کہ 26 اگست کے دن بلوچستان میں جگہ جگہ حملے کیوں ہوئے؟

حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ 26 اگست بلوچستان کے سابق گورنر اور سابق وزیراعلیٰ نواب اکبر بگٹی کا یوم شہادت ہے جنہیں مشرف دور میں پیرانہ سالی کے باوجود قتل کر دیا گیا تھا۔ 26 اگست 2006 کو کوہلو کے پہاڑوں میں ایک فوجی آپریشن کے بعد جنرل پرویز مشرف نے سینہ تان کر کہا تھا کہ ہاں ہم نے ریاست کے ایک دشمن کا خاتمہ کر دیا حالانکہ بگٹی نے تمام عمر پاکستان کے خلاف ایک بھی لفظ نہیں کہا تھا۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں قائداعظم کی مدد کی پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ وہ 1958ء میں ملک فیروز خان نون کی حکومت کے وزیر داخلہ تھے اور انہوں نے گوادر کو پاکستان میں شامل کرانے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ جس حکومت نے گوادر کو پاکستان میں شامل کیا اس حکومت کو جنرل ایوب خان نے برطرف کر کے مارشل لا لگا دیا تھا اور اکبر بگٹی صاحب کو جیل میں پھینک دیا۔ ہمارے بہت سے دانشور یہ نہیں جانتے کہ 14اگست 1947ء کو پاکستان قائم ہوا تو بلوچستان اس میں شامل نہیں تھا۔ مکران، خاران، لسبیلہ اور قلات 1948ء میں پاکستان میں شامل ہوئے البتہ اکبر بگٹی اور شاہی جرگے میں شامل کچھ بلوچ سرداروں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیکر ایسی صورتحال پیدا کر دی کہ باقی ریاستوں کو بھی پاکستان میں شامل ہونا پڑا۔ خان آف قلات میر احمد یار خان بلوچ ایک معاہدے کے تحت پاکستان میں شامل ہوئے۔ پاکستانی ریاست نے انہیں بلوچ شناخت کے ساتھ ایک صوبہ دینے کا وعدہ کیا لیکن ون یونٹ بنا کر ان کے ساتھ وعدہ خلافی کی گئی۔ جب اس کے خلاف نواب نوروز خان نے بغاوت کی تو قرآن کا واسطہ دیکر انہیں مذاکرات پر راضی کیا گیا۔ 90 سالہ نواب نوروز خان قرآن کے نام پر پہاڑوں سے نیچے اتر آئے لیکن جنرل ایوب خان نے انہیں اور خان آف قلات کو جیل میں ڈال دیا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ اسی قسم کے مذاکرات جنرل پرویز مشرف نے 2006ء میں چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین کے ذریعہ نواب اکبر بگٹی کے ساتھ کئے اور آخر میں مذاکرات کے نام پر ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ 80 سال کے نواب اکبر بگٹی کو شہید کرکے لواحقین کو ان کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھنےدی گئی۔ سال 2009ء میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حکم پر اکبر بگٹی کے قتل کی ایف آئی آر جنرل پرویز مشرف کے خلاف درج کی گئی۔ سات سال تک یہ مقدمہ چلا۔ لیکن مشرف ایک دفعہ بھی عدالت نہ آیا، گر اس مقدمے میں بگٹی صاحب کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی کو انصاف مل جاتا تو شائد وہ حالات پیدا نہ ہوتے جن سے آج بلوچستان دوچار ہے۔ حالات کو سدھارنے کی بجائے بلوچستان میں ایک ایسی حکومت قائم کر دی گئی ہے جو صوبے کے عوام میں انتہائی غیر مقبول ہے۔ یہ حکومت ہروقت یہی کہتی رہتی ہے ہم آئین کو نہ ماننے والوں سے مذاکرات نہیں کریں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آئین کو نہ ماننے والے بھی آپ سے مذاکرات پر راضی نہیں دوسری بات یہ ہے کہ جو آئین کو مانتے تھے اور بندوق کی بجائے ووٹ کی سیاست کرتے تھے انہیں فارم 47 کے کرشمے سے قومی دھارے سے نکال کر عسکریت پسندوں کو مضبوط کیا گیا۔

دراصل بلوچستان میں عسکریت کی ایک لمبی تاریخ ہے یہ پہلی جنگ عظیم سے شروع ہوتی ہے جب 1916ء میں بریگیڈیئر ڈائر نے بلوچستان میں آپریشن کیا تھا دوسری عسکریت 1948ء، تیسری 1958ء، چوتھی 1962ء، پانچویں 1973ء، اور چھٹی 2006ء میں شروع ہوئی۔ جس مجید بریگیڈ سے ماہل بلوچ کا تعلق ہے اس بریگیڈ کا نام مجید لانگو کے نام پر ہے جس نے 2 اگست 1974ء کو کوئٹہ میں ذوالفقار علی بھٹو پر حملہ کیا اور مارا گیا تھا۔ آج پھر بلوچستان پر بھٹو کی پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ بھٹو نے اپنی کتاب ’’افواہ اور حقیقت‘‘ میں اعتراف کیا کہ فوجی جرنیلوں نے بلوچستان میں ان سے غلطیاں کرائیں۔ آج کی پیپلزپارٹی کو شائد اس کتاب کا ہی پتہ نہ ہو۔ بلوچستان کے مسئلے کا حل نہ تو بندوق ہے اور نہ ہی جھوٹ ہے۔ جو بھی فریق بے گناہوں کے خلاف بندوق استعمال کرتا ہے وہ شیطان کا ساتھی ہے۔ فریقین خدا خوفی کریں اور ظلم بند کر دیں تو بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

Back to top button