بلوچستان میں نہ رکنے والی دہشت گردی اصل میں کس کی ناکامی ہے؟

25 اگست کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں اور فورسز پر حملوں کے بعد یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا یہ کارروائیاں انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیز کی ناکامی ہے، سوال ہہ بھی ہے کہ پنجاب کے شہریوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی کارروائیاں تقریباً دو دہائیوں سے جاری ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں ان میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں خصوصاً مزدوروں کو شناخت کرنے کے بعد قتل کیا گیا ہو۔ رواں برس اپریل میں بھی بلوچستان کے علاقے نوشکی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو شہریوں کو بس سے اُتار کر قتل کردیا گیا تھا، جبکہ مئی میں شدت پسندوں نے ضلع گوادر سے ملحقہ ایک علاقے میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات مزدوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان تمام کارروائیوں کی باضابطہ ذمہ داری کسی علیحدگی پسند گروہ نے تو قبول نہیں کی تھی، لیکن ماضی میں کالعدم شدت پسند تنظیمیں ایسے حملوں میں ملوث رہی ہیں۔

پاکستانی تھنک ٹینک پاکستان انسٹٹیوٹ فور کنفلکٹ اینڈ پیس سٹڈیز کے مطابق گذشتہ برس بلوچستان میں کم از کم 170 حملے ہوئے تھے، جس میں 151 عام افراد اور 114 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال اور شدت پسندوں کے حملوں کے حوالے سے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے بتایا کہ ان حملوں کو سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی کہنا درست نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں ہزاروں کلومیٹر پر محیط سڑکیں ہیں، وہاں کوئی بھی چور اور ڈاکو سڑک پر کھڑا ہو جائے گا تو اسے سکیورٹی کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔‘ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی بلوچستان میں ہونے والے حملوں کو سکیورٹی کی ناکامی ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

بلوچستان کے سینیئر وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے موسیٰ خیل میں 22 افراد کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ بُزدلانہ کارروائیاں ہیں، لوگوں کا شناختی کارڈ چیک کر کے انھیں قتل کرنا۔ کیا نواب اکبر بُگٹی کی موت کا بدلہ یہ غریب مزدوروں کو مار کر لیں گے؟‘ تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے۔ ماضی میں پولیس میں بطور انسپیکٹر جنرل، انٹیلی جنس بیورو میں بطور ڈائریکٹر جنرل اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی میں بطور کوآرڈینیٹر خدمات سرانجام دینے والے احسان غنی کہتے ہیں کہ حکومتوں کو ’ابھی تک یہی علم نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے؟‘’کیا وہاں شناخت کا مسئلہ ہے؟ کیا انھیں یہ خطرہ ہے کہ ان کی شناخت ختم ہو جائے گی؟‘ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے صاف الفاظ میں کسی بڑے آپریشن کا اعلان تو نہیں کیا، لیکن انھوں نے ’معصوم شہریوں کے قاتلوں سے بدلہ لینے‘ کا ضرور اعلان کیا ہے۔ ان ہی کی بلوچستان حکومت میں شامل وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بدقسمتی یہ ہے کہ جب ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو لوگ رونا شروع کر دیتے ہیں کہ آپریشن ہو رہا ہے۔‘ بلوچستان کے صوبائی وزیر دعویٰ کرتے ہیں کہ شدت پسندوں کو کارروائیاں کرنے کے لیے ’غیر ملکی فنڈز‘ مل رہے ہیں۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ ان کے خلاف ایک منظم آپریشن ہونا چاہیے۔‘

وفاقی حکومت کی جانب سے بھی صوبے میں کسی بڑے فوجی آپریشن کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’ہم دہشتگردوں کو ناراض بلوچ نہیں کہیں گے۔ آپ ہم پر حملہ کریں اور ہم آپ کو ناراض بلوچ کہیں ایسا نہیں ہو گا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان حملوں میں بیرونی طاقت ملوث ہے، اس بات کے شواہد ملے ہیں اور انھیں بہت جلد بے نقاب کریں گے۔‘ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کرنا درست قدم نہیں ہوگا۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کے سابق کوآرڈینیٹر احسان غنی سمجھتے ہیں کہ ’کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو مسئلے کا علم ہونا چاہیے۔‘ انکے مطابق ’شورش اور دہشتگردی میں فرق ہے۔ شورش کو اکثر مقامی افراد کی ہمدردی حاصل ہوتی ہے اور لوگ اس کے مقاصد کی بھی اکثر حمایت کرتے ہیں۔‘ احسان غنی کے مطابق قوم ہرستوں کی بغاوت سے دہشتگردی کی طرح نمٹنا درست نہیں، ’یہ طریقے اکثر بیک فائر کر جاتے ہیں۔‘ انھوں نے گذشتہ دنوں پنجاب کے علاقے ماچھکہ میں کچّے کے ڈاکوؤں کے حملے میں 12 پولیس اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کچّے کا علاقہ آپ سے سنبھالا نہیں جا رہا اور آپ پورے صوبے میں آپریشن کی بات کر رہے ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ سندھ اور بلوچستان میں موجود مسلح تنظیموں کے ٹھکانے بھی کچّے کے علاقے میں موجود ہیں لہذا بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے ساتھ سیاسی ڈائیلاگ شروع کرنا ضروری ہے۔

Back to top button