انگلینڈ میں فسادات کا الزام،لاہورکارہائشی بے گناہ کیوں قرار پایا؟

لاہور کی مقامی عدالت نے برطانیہ میں تین بچیوں کے قتل کے معاملے پرجھوٹی خبر پھیلانے اور پرتشدد مظاہروں کو ہوا دینے کے الزام میں گرفتار کیے گئے پاکستانی شہری فرحان آصف کو عدم ثبوتوں کی بنیاد پر باعزت بری کر دیا ہے۔ تاہم پولیس حکام کے مطابق برطانیہ میں فسادات پھیلنے کے بعد مختلف برطانوی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے ویب چینل مخں میں درجنوں افراد کے کام کرنے کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے فرحان آصف کی گرفتاری کا سبب بنے تاہم دوران تفتیش حقائق سامنے آنے کے بعد انھیں معصوم قرار دے دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں جلاو گھیراؤ کے بعد جب فرحان آصف کے چینل کا نام سامنے آیا تو مختلف برطانوی میڈیا ہاؤسز نے فرحان آصف کا انٹرویو کیا تھا جس میں فرحان آصف نے شیخی بگھاڑتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کے چینل میں مختلف یورپی ممالک کے 30 سے 40 افراد کام کرتے ہیں اور وہ ان سے حاصل کردہ مصدقہ معلومات ہی اپنے چینل پر شئیر کرتے ہیں تاہم جب ان کی دی گئی خبر جھوٹی ثابت ہوئی تو انھوں نے ایک اور جھوٹ بولتے ہوئے قرار دیا تھا کہ غلط خبر دینے پر انھوں نے اپنی ٹیم سے 4 سے 5 لوگوں کو فائر کر دیا ہے۔ جھوٹی خبر دینے کی تصدیق ہونے کے بعد فرحان آصف کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ تاہم گرفتاری کے بعد دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم فرحان آصف کی کوئی ٹیم نہیں ہے اور وہ اکیلے ہی اپنی ویب سائٹ چلاتے ہیں۔
خیال رہے کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے ملزم فرحان آصف کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ پیکا کی دفعہ نو اور دس اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا تاہم سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے بتایا کہ برطانیہ میں فسادات کا سبب بننے والی فیک نیوز ملزم فرحان کی جانب سے شیئر ہونے سے پہلے ہی پھیل چکی تھی۔ ’ہر طرح سے تحقیقات کی گئیں مگر ملزم کےخلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔‘بعد ازاں عدالت نے ملزم فرحان آصف کی استدعا منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا۔
واضح رہے کہ فرحان آصف پر الزام تھا کہ انھوں نے جولائی 2024 کے اواخر میں برطانیہ کے شہر ساؤتھ پورٹ کے ڈانس سکول میں تین کمسن بچیوں کے قتل کے معاملے میں اپنی ویب سائٹ پر حملہ آور کے بارے میں جھوٹی معلومات شائع کیں جس کا نتیجہ برطانیہ میں پرتشدد مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ کی شکل میں نکلا جس کے دوران مساجد پر بھی حملے کیے گئے۔بچیوں کے قتل کے بعد ’چینل تھری ناؤ‘ نامی ایک ویب سائٹ نے ایک خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ 17 سالہ حملہ آور ایک مسلمان پناہ گزین تھا جو ایک سال قبل غیرقانونی طریقے سے کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا۔یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی اوراس کے بعد برطانیہ میں انتہاپسندوں کی جانب سے ہنگاموں اور پرتشدد فسادات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور ملک میں اقلیتیں، خاص طور پر مسلمان برادری، خوف اور بے چینی کا شکار ہوئی تھی۔
تاہم ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزم فرحان آصف نے اعتراف کیا کہ وہ مذکورہ ویب سائٹ کے لیے کام کرتے ہیں اور انھوں نے جھوٹی خبر پھیلا کر برطانیہ میں ہونے والے فسادات کو ہوا دی۔ ملزم فرحان آصف نے غیر ملکی چینل کو غلط معلومات دینے کا بھی اعتراف کیا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس عمل کی ذمہ داری دیگر لوگوں پر عائد کرنے کی کوشش بھی کی لیکن دوران تفتیش تصدیق ہوئی کہ معلومات دینے والا ’ایکس‘ اکاؤنٹ ملزم کا ہی ہے۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم عمران کشور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملزم فرحان آصف ایک فری لانسر ہے جو آن لائن کام کرتا ہے۔ان کے مطابق ملزم نے برطانیہ کے ایک نجی ٹی وی چینل آئی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جعلی خبر شیئر کرنے والے ملازمین کو نکال دیا گیا ہے جبکہ اس بیان میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔عمران کشور کے مطابق ’ملزم اکیلا ہی خبر لکھتا تھا اور اس کے ساتھ کوئی اور ملوث نہیں تھا۔‘ فرحان آصف نے دورانِ تفتیش بتایا کہ انھوں نے غلط معلومات پر مبنی آرٹیکل لکھا تھا جس کے لیے غیر تصدیق شدہ معلومات انھوں نے ایک برطانوی ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے حاصل کی اور جب برطانوی پولیس نے اس معلومات کے غلط ہونے کے حوالے سے بیان جاری کیا تو فرحان آصف کی ویب سائٹ نے وہ آرٹیکل ہٹا دیا، لیکن اس وقت تک یہ غلط خبر پھیل چکی تھی۔
اس خبر کے بعد بی بی سی ویریفائی نے چینل تھری ناؤ سے رابطہ کیا تھا اور انھیں بتایا گیا تھا کہ اس ویب سائٹ کے لیے ’30 سے زیادہ افراد‘ امریکہ، برطانیہ، پاکستان اور انڈیا میں کام کر رہے ہیں۔لیکن لاہور پولیس کے افسر کا کہنا ہے کہ فرحان آصف کے بینک، ای میل اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے ساتھ اور کوئی شخص کام نہیں کر رہا تھا۔پولیس افسر کے مطابق ملزم ماہانہ دو سے ڈھائی لاکھ روپے کے درمیان کماتا ہے اور ان کے نزدیک یہ رقم ملازمین رکھنے کے لیے کافی نہیں۔
