گنڈا پور نے علیمہ خان پر عمران کے خلاف سازش کا الزام لگا دیا

 

 

 

پی ٹی آئی میں اختلافات سنگین صورت اختیار کرگئے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور آمنے سامنے آگئے۔ علیمہ خان نے الزامات کی بوچھاڑ کی تو علی امین گنڈاپور نے بھی انھیں کھری کھری سنا دیں یہاں تک کہ انھوں نے علیمہ خان کو ایم آئی یعنی ملٹری انٹیلی جنس کا ایجنٹ قرار دے دیا۔

گنڈاپور اور علیمہ خان کے مابین میچ اس وقت پڑا جب علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈاپور نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے موقع پر ان کے خلاف الزامات عائد کرتے ہوئے باقاعدہ شکایات لگائی ہیں۔ گنڈا پور نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا ہے کہ علیمہ خان ایم آئی کی ایجنٹ ہیں اور ایجنسیوں کی سہولت کاری کر رہی ہیں حقیقت میں وہ پارٹی چیئرمین بھی بننا چاہ رہی ہیں۔علیمہ خان کے بقول گنڈاپور نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سوشل میڈیا کو بھی میں نے کنٹرول کر رکھا ہے اور گنڈاپور کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا کمپینز کی روح رواں بھی میں ہوں۔

علیمہ خان کی میڈیا ٹاک کے جواب میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔گنڈا پور نے تحریک انصاف میں گروپ بندی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں بہت بڑی تقسیم آچکی ہے، مائنس عمران خان مہم اور پارٹی تقسیم میں علیمہ خان کا بنیادی کردار ہے، اسی وجہ سے پارٹی میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ کچھ وی لاگرز ٹارگٹ کرکے پارٹی میں تقسیم پیدا کر رہے ہیں، ان وی لاگرز سے علیمہ خان کا رابطہ ہے، وہ انہیں منع کرنے کے بجائے شہ دے رہی ہیں،گنڈاپور نے الزام عائد کیا کہ 9 مئی میں بیشتر رہنما اور ورکرز اُن جگہوں پر موجود بھی نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں سزائیں ہو رہی ہیں، علیمہ خان کا بیٹا وہاں موجود تھا اس کے باوجود اس کی گرفتاری کے 3 دن بعد ہی وہ ضمانت پر رہا بھی ہو گیا مگر شبلی فراز، عمرایوب، زرتاج گل کے موجود نہ ہونے پر بھی انہیں ضمانت نہیں مل رہی۔  ادارے ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم علیمہ خان جان بوجھ کر یا کسی مصلحت کے تحت اداروں کے لیے کام کر رہی ہیں۔

 

آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خطرہ

علی امین گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ میں نے کوئی شکایت نہیں کی بلکہ عمران خان کے سامنے حقائق بیان کئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو بتایاہے کہ پارٹی میں بہت بڑی تقسیم آچکی ہے،میرے خلاف غداری کی مہم چلائی جا رہی ہے کسی میں ہمت نہیں وہ مائنس عمران خان کرسکے، مگر آج اپنے مفادات حاصل کرنے کیلیے کچھ لوگ گروپ بندیاں کررہے ہیں۔ وی لاگر اختلافات کو بڑھا رہے ہیں اور علیمہ خان اُن کا ساتھ دے رہی ہیں۔علیمہ خان کو پی ٹی آئی چیئرمین بنانے کی منظم مہم چلائی جارہی ہے۔ حفیظ اللہ نیاری اپنے کالمز میں علیمہ خان کو وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی لکھ رہے ہیں اس طرح کی مہم چلاکر پارٹی میں مایوسی پھیلائی جارہی ہے جس سے پارٹی کو نقصان ہوگا اور رہائی کیلیے اقدامات کے بجائے اختلافات بڑھیں گے۔ گنڈاپور کے مطابق انھوں نے عمران خان کو واضح کہا کہ تقسیم سے پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے، اگر آپ علیمہ خان کو چیئرپرسن بناتے ہیں تو بالکل بنائیں، جس کو بھی آپ نامزد کریں گے وہ ہمارے لیے قابل قبول ہوگا۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق انھوں نے عمران خان کو بتایا دیا ہے کہ ان کی رہائی کے لیے کوئی کام نہیں ہورہا اور ہم حقیقت میں اسٹیبشلمنٹ کے مقاصد میں کامیاب ہورہے ہیں جس میں علیمہ خان بنیادی کردار ادا کررہی ہیں،  اسٹیبلشمنٹ باقاعدہ علیمہ خان سے رابطے میں ہے۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان کا خاندان ہمارے لیے قابل احترام ہے، عمران خان کو حقائق بتانےکے بعد میرے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا تاہم میں نے کرسی کی پروا کرنے کے بجائے انہیں تمام تر معلومات فراہم کیں۔ اب آگے وہ جو فیصلہ کریں مجھے قبول ہو گا۔

 

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور علیمہ خان کے مابین اختلافات کوئی نئی بات نہیں تاہم ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس طرح میڈیا کے سامنے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی ہو پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق گنڈاپور اور علیمہ خان کے مابین اختلافات سنگین ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ  وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سمجھتے ہیں کہ پشاور جلسے میں ان کے سامنے جوتے علیمہ خان کے ایماء پر لہرائے گئے تھے، ذرائع کے مطابق پشاور جلسے میں ہلڑبازی اس وقت زیادہ دیکھی گئی جب وزیراعلی علی امین گنڈاپور خطاب کے لیے سٹیج پر آئے کارکنوں نے نہ صرف ان کے خلاف نعرے بازی کی بلکہ وزیراعلی کی طرف جوتے بھی لہرائے تھے جبکہ پارٹی کارکنوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے لگاتے ہوئے پانی کی خالی بوتلیں بھی سٹیج کی طرف پھینکی تھیں۔ پنڈال میں ہلڑبازی اور بدانتظامی کی وجہ سے گنڈاپور کو اپنی تقریر مختصر کرکے بیٹھنا پڑا تھا۔ گنڈاپور سمجھتے ہیں کہ پشاور جلسے میں ہونے والی ہلڑ بازی علیمہ خان کی ایماء پر کی گئی تھی اس پر انھوں نے نہ صرف عمران خان کو شکایت لگائی بلکہ بعد میں اپنا ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے علیمہ خان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔

Back to top button