پاکستان نے برطانوی اراکین پارلیمنٹ کو کھری کھری کیوں سنائیں؟

آزاد کشمیر میں حالیہ کشیدگی نے نہ صرف مقامی سطح پر سیاسی اور سماجی بحث کو جنم دیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ برطانیہ کے متعدد اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے اس صورتحال پر اظہارِ تشویش اور برطانوی وزیرِ خارجہ کو لکھے گئے خط کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان بیانات کو "غیر ضروری، گمراہ کن اور داخلی معاملات میں مداخلت” قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ اور آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ برائے کشمیر کے چیئرمین عمران حسین کے مطابق کشمیر کی موجودہ صورتحال پر برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد پارلیمنٹیرینز نے ایک مشترکہ خط کے ذریعے برطانوی وزیرِ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں مبینہ مواصلاتی بندش، سکیورٹی صورتحال اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات پر وضاحت حاصل کریں۔برطانوی پارلیمنٹ کے سرکاری لیٹر ہیڈ پر تحریر کیے گئے اس خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں مقیم کشمیری نژاد افراد اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ خط میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ بعض اطلاعات کے مطابق گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں اور کچھ برطانوی شہری بھی ان اقدامات سے متاثر ہوئے ہیں۔اراکینِ پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، مواصلاتی نظام کی بحالی اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مذاکرات کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت ہی مسئلے کا دیرپا حل ہو سکتی ہے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر سے متعلق بعض برطانوی شخصیات کے تبصرے بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں شہریوں کے جمہوری حقوق، آزادیِ اظہار اور پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتی ہیں، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے جیسے اقدامات کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔پاکستانی حکام نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ برطانیہ میں موجود بعض افراد کی جانب سے آزاد کشمیر کے بارے میں پھیلائی جانے والی معلومات گمراہ کن ہیں اور انہیں پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بہتر ہوگا کہ ایسے افراد اپنے رہائشی ملک میں مثبت کردار ادا کریں۔
واضح رہے کہ یہ سفارتی ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ راولا کوٹ میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ کشمیر پولیس کے مطابق ان واقعات میں پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں سمیت مظاہرین بھی ہلاک ہوئے۔ مبصرین کے مطابق کشیدگی کی بنیادی وجہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق احتجاجی تحریک کو قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں بھی شروع کی گئیں، جس کے نتیجے میں سیاسی ماحول مزید پیچیدہ ہو گیا۔تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے مفاہمت پر مبنی مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ریاست اور احتجاج کرنے والے گروہوں کے درمیان تصادم کسی کے مفاد میں نہیں اور مسئلے کا حل افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بیان کہ "جب طالبان سے بات چیت ہو سکتی ہے تو ان سے کیوں نہیں؟” اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کے اندر بھی مذاکرات کی گنجائش کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا رہا۔
مبصرین کے بقول موجودہ صورتحال ایک ایسے نازک موڑ کی نشاندہی کرتی ہے جہاں ایک طرف ریاست قانون کی عملداری کو یقینی بنانے پر زور دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سیاسی مکالمے اور عوامی تحفظات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے یا یہ معاملہ مزید سیاسی اور سفارتی پیچیدگیوں کی جانب بڑھتا ہے۔
