عمران کا ادویات پرعائد ٹیکس شہباز نے واپس کیوں لیا

پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت نے عوام کو سستے علاج کی سہولت دینے کے لئے ادویات پر عمران خان دور حکومت میں عائد کردہ 17 فیصد سیلز ٹیکس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ادویات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع ہے ۔
وزارت خزانہ اور ایف بی آر نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ادویات پر جنوری 2022 میں ضمنی بجٹ کے ذریعے عائد کیا گیا جی ایس ٹی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔گزشتہ دور حکومت میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی بجٹ میں جہاں بہت سی دیگر مصنوعات پر جی ایس ٹی عائد کیا تھا وہیں ادویات اور ادویات کے خام مال پر بھی 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو کر دیا تھا۔اس فیصلے کے بعد صحت کے شعبے میں طبی آلات، دوائیوں میں استعمال ہونے والے خام مال پر بھی ٹیکس لگ گیا ہے جس سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔
عمران خان کی پونے چار سالہ ناکامیوں کی داستان
فارما سوٹیکل مینو فیکچرر ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے حکومت سے چند روز قبل مطالبہ کیا کہ خام مال کی درآمدات کی مد میں جمع کیا گیا 40 ارب روپے کا سیلز ٹیکس واپس، درآمدات سے 17 فیصد سیلز ٹیکس ختم اور صنعت کو بحران سے بچانے کے لیے ادویات کی قیمت میں 20 سے 25 فیصد اضافہ کیا جائے۔
فارما سوٹیکل مینوفیکچرر ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین قاضی منصور نے بتایا کہ ’فارما سیوٹیکل انڈسٹری سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ تھی، اس پر کوئی سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، سابق حکومت نے ٹیکس لگایا اور کہا کہ اس فیصلے کا مقصد معیشت کو دستاویزی ڈھانچے میں ڈھالنا ہے اور جو ٹیکس لیا جائے گا وہ ریفنڈ یا ایڈجسٹ کیا جائے گا یعنی اس ٹیکس کا بوجھ فارما انڈسٹری یا صارفین پر نہیں پڑے گا لیکن حکومت کے پاس واپس کرنے کا میکنزم نہیں تھا، اس حوالے سے کوئی رولز ہی نہیں بنائے گئے۔
قاضی منصور کے مطابق اگر 17 فیصد ٹیکس واپس نہ لیا جاتا تو فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہو جاتے اور ایسی دواؤں کی تیاری روکنی پڑتی جن پر زیادہ لاگت آ رہی تھی، اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نہ صرف جی ایس ٹی ختم کیا ہے بلکہ سابق حکومت نے جو سیلز ٹیکس لیا تھا وہ بھی 15 جولائی تک ریفنڈ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، اس سے نہ صرف ادویات کی قیمتیں نیچے آئیں گی بلکہ نئی ایل سی کھلنے کے بعد ادویات کی کمی بھی چند ماہ میں دور ہو جائے گی۔
جنوری 2022 میں سابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں ضمنی مالیاتی بل منظور کروایا تھا جس کے نتیجے میں ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال، سلائی مشین، درآمدی مصالحہ جات، گاڑیاں، دوائیں، موبائل فونز، دو سو گرام سے زیادہ وزن کے حامل بچوں کے دودھ، ڈبے والی دہی، پنیر، مکھن، کریم، دیسی گھی اور مٹھائی پر ٹیکس چھوٹ ختم کرتے ہوئے 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لاگو کر دیا تھا۔
منی بجٹ سے قبل کچھ اشیا پر سیلز ٹیکس کا اطلاق ہوتا تھا لیکن حکومت کی جانب سے اس میں کچھ رعایتیں دی گئی تھیں، ان پر یہ رعایت بھی ختم کر دی گئی تھی۔
