بھارت چین کے ساتھ پنگے بازی کیوں نہیں کرتا؟ سابق انڈین آرمی چیف نے کیا بتایا؟

بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) منوج مُکند نروانے نے پاکستان اور چین کے ساتھ سرحدی معاملات میں بھارتی فوج کی حکمتِ عملی کے فرق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں سرحدوں کی نوعیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات کے باعث مقامی کمانڈروں کو فوری ردعمل اور فائرنگ کی اجازت حاصل ہوتی ہے، جبکہ چین کے ساتھ صورتحال مختلف نوعیت کی ہے اور وہاں فیصلے ایک مخصوص سفارتی اور عسکری فریم ورک کے تحت کیے جاتے ہیں۔
بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں جنرل نروانے نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ ہر چھوٹے بڑے فیصلے کے لیے دہلی سے احکامات کا انتظار کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول زمینی حقائق سے آگاہ کمانڈروں کو اپنی مقررہ حدود کے اندر فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم پاکستان اور چین کے ساتھ سرحدی حالات میں بنیادی فرق موجود ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کا تعلق دہشت گردی اور دراندازی جیسے عوامل سے جڑا ہوا ہے، اسی لیے وہاں فوری کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کے برعکس چین کے ساتھ سرحدی تنازعات زیادہ تر متنازع حد بندی اور مختلف جغرافیائی تصورات کے گرد گھومتے ہیں، جہاں عسکری ردعمل کے ساتھ سفارتی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
جنرل نروانے کے دورِ سربراہی میں 2020 میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں چین اور بھارت کی افواج کے درمیان خونریز جھڑپ ہوئی تھی، جس میں ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کیا بلکہ بھارتی سیاسی حلقوں میں عسکری اختیارات اور حکومتی فیصلوں کے حوالے سے نئی بحث کو بھی جنم دیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل نروانے نے اپنی سوانح عمری "فور سٹارز آف ڈیسٹنی” تحریر کی، تاہم وزارت دفاع کی منظوری نہ ملنے کے باعث یہ کتاب تاحال شائع نہیں ہو سکی۔ کتاب کے بعض اقتباسات بھارتی جریدے کاروان میں شائع ہوئے، جن میں گلوان بحران کے دوران فوجی قیادت کو دی جانے والی ہدایات کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہی اقتباسات کی بنیاد پر اپوزیشن جماعت کانگریس اور اس کے رہنما راہل گاندھی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
اس حوالے سے سوالات کے جواب میں جنرل نروانے نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ کتاب ابھی جائزے کے مرحلے میں ہے، اس لیے وہ اس کے مندرجات پر مزید تبصرہ مناسب نہیں سمجھتے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی کارروائیوں سے متعلق حتمی فیصلے عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ رائے کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور حکومت کی جانب سے اعتماد کا اظہار فوج کے لیے حوصلہ افزا ہوتا ہے۔
چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق بھارتی آرمی چیف نے اعتراف کیا کہ چین کو سمجھنا آسان نہیں۔ ان کے مطابق چین کا سیاسی اور عسکری نظام مختلف انداز میں کام کرتا ہے، جسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بھارت کو مزید اکیڈمک اور تحقیقی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ چین کے تزویراتی اور سیاسی مقاصد کیا ہیں اور وہ مخصوص اوقات میں مخصوص اقدامات کیوں کرتا ہے۔
انہوں نے گلوان واقعے کو "حد بندی کے مختلف تصورات” کا نتیجہ قرار دیا اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ بھارت نے اس تنازع کے نتیجے میں کوئی علاقہ کھویا۔ ان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کا یہ بیان کہ "نہ کوئی اندر آیا اور نہ کسی نے قبضہ کیا” اسی تناظر میں دیا گیا تھا۔
جنرل نروانے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع کا حل بھارتی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ یہی مسئلہ دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر آنے سے روکے ہوئے ہے۔
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے جنگ کے حوالے سے ایک اہم نکتہ بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق بالی وڈ فلمیں جنگ کو رومانوی انداز میں پیش کرتی ہیں، جبکہ حقیقت میں جنگ ایک خونریز اور تباہ کن عمل ہے، جسے محض جذباتی یا تفریحی زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
سابق بھارتی آرمی چیف کے یہ بیانات نہ صرف جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت اپنی مغربی اور شمالی سرحدوں کو مختلف تزویراتی زاویوں سے دیکھتا ہے۔ پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ان بیانات کو خطے کی مجموعی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔
