تحریک انصاف وکیلوں میں بھی زوال پذیر کیوں ہونے لگی؟

 

 

 

عمران خان کی جانب سے اپنی تحریک انصاف کو مکمل طور پر وکلا برادری کے سپرد کر دینے، ایک وکیل بیرسٹر گوہر خان کو پارٹی کا چئیرمین اور دوسرے وکیل سلمان اکرم راجہ کو پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنانے کے باوجود پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا، عمران خان کی جماعت کو صرف قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے تمام پولنگ سٹیشنز پر بھی شکست ہوئی جہاں تحریک انصاف پچھلے 13 برس سے حکمران ہے اور جسے پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی تیزی سے گرتی ہوئی مقبولیت کی بنیادی وجہ پارٹی کے اندر وکلا کا چھا جانا اور سیاست دانوں کا کھڈے لائن لگ جانا ہے۔

 

تحریک انصاف کے حمایت یافتہ گروپ کو شکست دینے والے وکلا کے آزاد گروپ کی قیادت وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور سینئر وکیل احسن بھون کر رہے تھے جنکو حکومت کے نمائندے سمجھا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے حالیہ انتخابی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ تحریک انصاف وکلا برادری میں بھی اپنی مقبولیت کھوتی چلی جا رہی ہے حالانکہ پی ٹی آئی میں سب سے زیادہ وکلا رہنما موجود ہیں۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کے مقابلے میں حکومتی حمایت یافتہ امیدوار ہارون الرشید 400 سے زائد ووٹوں کے فرق سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔ حامد خان گروپ کے مقابلے میں اعظم نذیر تارڑ گروپ نے بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی میں بھی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔

 

اسکے علاوہ سب سے حیرت ناک بات یہ تھی کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں عمران کے قریبی ترین ساتھی حامد خان ایڈووکیٹ کی زیر قیادت پی ٹی آئی کا حمایت یافتہ پینل صوبہ خیبر پختون خواہ کے کسی بھی پولنگ سٹیشن سے کامیابی حاصل نہ کر پایا۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ پارٹی کے اندرونی اختلافات بتائے جا رہے ہیں۔ پشاور میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ پینل کو 181؍ ووٹ ملے جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے حمایت یافتہ آزاد گروپ کے امیدوار نے 186؍ ووٹ حاصل کیے۔ ایبٹ آباد میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو صرف 19؍ ووٹ ملے جبکہ حکومت کے حمایت یافتہ پینل نے 55؍ ووٹ حاصل کیے۔ سوات میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو 23؍ اور مخالف کو 27؍ ووٹ ملے جبکہ بنوں میں پی ٹی آئی امیدوار کو محض 5؍ ووٹ ملے، جبکہ آزاد گروپ کے امیدوار نے 25؍ ووٹ حاصل کیے۔

 

یاد رہے عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے پچھلے دو برس میں پی ٹی آئی کو چلانے والی وکلا قیادت اپنے بانی کو رہا کروانے میں بھی ناکامی کا شکار ہے۔ ایسے میں اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا تحریک انصاف کو سیاست دانوں سے چھین کر وکلا کے حوالے کرنا دانشمندانہ فیصلہ تھا؟ تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف پر مشکل وقت آیا تو وکلا کی گویا لاٹری نکل آئی۔ پارٹی کے سنجیدہ لوگوں کو کھڈے لائن لگا دیا گیا اور حلقہ انتخاب اور سیاسی تجربے سے محروم وکلا راتوں رات پارٹی رہنما بن گئے۔ عمران خان کی حکمت عملی شاید یہ تھی کہ موسم ناسازگار ہے اور ڈھیروں مقدمات پارٹی کے دامن سے لپٹ چکے ہیں، ایسے میں صفِ اول میں وکیل رہنماؤں کو بٹھا دیا تو یہ قانونی معاملات سے کامیابی کے ساتھ نمٹ لیں گے اور بھاری فیسیں بھی نہیں دینا پڑیں گی۔

 

چنانچہ بیرسٹر گوہر خان اور لطیف کھوسہ جیسے وکیل قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ٹکٹ لے کر پارلیمنٹیرین بن گئے جبکہ حامد خان جیسے  الیکشن ہارنے کے باوجود مرکزی عہدوں پر براجمان ہو گئے۔ تحریک انصاف کے دل جلوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ زندگی میں کبھی کونسلر نہیں بن سکتے تھے، وہ پارلیمان میں جا پہنچے۔ وکلاء حضرات خود تو راتوں رات قومی رہنما بن گئے، لیکن عمران خان پر اڈیالہ جیل کے دروازے نہ کھل سکے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں نووارد ان وکیل رہنماؤں نے تحریک انصاف کو کیا دیا؟ یعنی وکلاء کی پارٹی میں شمولیت سے پارٹی کو فائدہ ہوا یا نقصان؟

 

سیاسی مبصرین کے مطابق قانونی مسائل سے نمٹنے کے لیے ہر سیاسی جماعت نے وکلا کی ایک ٹیم رکھی ہوتی ہے جن کی خدمات کے بدلے میں انھیں عہدے اور وزارتیں بھی دی جاتی ہیں۔ تاہم یہ پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ کہ کسی نے ساری سیاسی جماعت ہی اٹھا کر وکلا کے حوالے کر دی۔ عمران خان بھول گئے کہ سپریم کورٹ بار کی سیاست اور قومی سیاست دو مختلف چیزیں ہیں۔ قومی سیاست کے تقاضے بار کی ننھی منی سیاست سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ سیاست محض قانونی موشگافیوں سے نمٹنے کا نام نہیں بلکہ سیاست اس بصیرت کا نام بھی ہے جو عشروں تک عوام سے رابطے میں رہنے کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ سیاست میں حالات کیسے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، آخری حل قانون کی لایعنی بحثوں سے نہیں بلکہ سیاسی بصیرت سے نکلتا ہے، لیکن عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے پارٹی میں سیاسی عناصر کو بالکل نظر انداز کر دیا اور اپنی جماعت وکلا کے حوالے کر دی۔  اس غیر سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ سب کے سامنے ہے اور اب عمران کی جماعت وکلا برادری کا سب سے بڑا الیکشن بھی ہار رہی ہے۔

 

Back to top button