مریم نواز کا نیا انتظامی ماڈل، بزدار دور کی میوزیکل چئیرز سے بہتر کیوں؟

پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے بعد صوبائی بیوروکریسی کے انتظامی ڈھانچے میں واضح تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ جہاں سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں بار بار تبادلوں اور تقرریوں کو انتظامی کمزوری قرار دیا جاتا تھا، وہیں وزیراعلیٰ مریم نواز کے دور میں تسلسل، کارکردگی اور نگرانی پر مبنی نظام اپنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب سمیت اعلیٰ عہدوں پر محدود تبدیلیوں، کلیدی کارکردگی اشاریوں (کے پی آئیز) کے نفاذ اور سیاسی سفارشات سے گریز کی پالیسی کو موجودہ حکومت اپنی انتظامی حکمت عملی قرار دے رہی ہے، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کی کامیابی کا اصل امتحان عوامی خدمات اور گورننس میں عملی بہتری سے ہی ہوگا۔
مبصرین کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دو سال سے زائد عرصہ مکمل ہونے کے بعد صوبائی بیوروکریسی میں ایک مختلف انتظامی طرزِ حکمرانی نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ماضی کے برعکس اب بار بار تبادلوں اور تقرریوں کے بجائے افسران کو تسلسل کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر نتائج دے سکیں۔
عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں پنجاب کی بیوروکریسی کو مسلسل تبادلوں کی وجہ سے "میوزیکل چیئرز” یا "رولنگ اسٹون بیوروکریسی” جیسے القابات دیے گئے۔ اس دور میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر غیر معمولی ردوبدل دیکھنے میں آیا، جس پر نہ صرف اپوزیشن بلکہ انتظامی ماہرین اور ریٹائرڈ سول سرونٹس نے بھی تنقید کی۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ بار بار تبادلوں سے پالیسیوں کا تسلسل متاثر ہوتا ہے، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر آتی ہے اور بیوروکریسی کی جوابدہی کمزور پڑ جاتی ہے۔
اس کے برعکس وزیراعلیٰ مریم نواز کے دور میں چیف سیکریٹری پنجاب کے عہدے پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس کے عہدے پر بھی صرف ایک مرتبہ تبدیلی عمل میں آئی۔ اسی طرح وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری بھی حکومت کے آغاز سے اب تک اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جسے انتظامی استحکام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے صوبے بھر میں ڈپٹی کمشنرز، کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ضلعی پولیس افسران اور دیگر فیلڈ افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز) متعارف کرائے ہیں۔ ان اشاریوں کے تحت افسران کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے، جس میں مہنگائی پر قابو، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، صفائی، تعلیم، صحت، ریونیو وصولی اور وزیراعلیٰ کے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد جیسے شعبے شامل ہیں۔
حکومتی مؤقف ہے کہ تقرریاں اور تبادلے اب سیاسی سفارشات یا دباؤ کے بجائے کارکردگی اور انتظامی ضروریات کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس پالیسی سے بیوروکریسی کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے، نظم و ضبط بہتر بنانے اور افسران کو نتائج کے لیے جوابدہ بنانے میں مدد ملی ہے۔
دوسری جانب عثمان بزدار کے دور کا جائزہ لیا جائے تو اس عرصے میں چھ چیف سیکریٹری، چھ آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰ کے پانچ پرنسپل سیکریٹری تبدیل کیے گئے۔ صرف راولپنڈی ڈویژن میں تین برس کے دوران متعدد کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ریجنل پولیس افسران اور سٹی پولیس افسران کے بار بار تبادلے کیے گئے، جبکہ ضلع بھکر کی تحصیل کلورکوٹ میں ڈھائی برس کے دوران مبینہ طور پر 14 اسسٹنٹ کمشنرز کی تعیناتی اس دور کی نمایاں مثال سمجھی جاتی ہے۔
انتظامی ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر مدت کی تعیناتیاں نہ صرف ادارہ جاتی یادداشت کو متاثر کرتی ہیں بلکہ افسران کو طویل المدتی منصوبہ بندی اور نتائج کی بنیاد پر جوابدہ بنانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ مختلف تحقیقی مطالعات میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مسلسل تبادلوں سے گورننس کمزور اور فیصلے قلیل مدتی نوعیت کے ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ موجودہ حکومت نے بھی بعض افسران کے تبادلے کیے ہیں، تاہم مجموعی رجحان استحکام برقرار رکھنے اور کارکردگی کی مسلسل نگرانی پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب میں اس وقت دو مختلف انتظامی ماڈلز کا تقابل سامنے آتا ہے؛ ایک وہ جس میں بار بار تبادلوں کو انتظامی حکمت عملی سمجھا گیا، اور دوسرا وہ جس میں تسلسل، نگرانی اور کارکردگی کو حکمرانی کا بنیادی اصول قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی انتظامی ماڈل کی کامیابی کا اصل معیار عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفاف طرزِ حکمرانی اور سرکاری اداروں کی مجموعی کارکردگی ہوگی۔ اگر موجودہ پالیسی عوامی خدمات کے معیار میں بہتری لانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ پنجاب کی بیوروکریسی میں ایک اہم انتظامی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
