پاکستانی عدلیہ نے 6 ماہ میں 29 لاکھ سے زائد مقدمات کیسے نمٹائے؟

پاکستان کے عدالتی نظام نے 2025ء کی پہلی ششماہی کے دوران مقدمات کے تصفیے میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 29 لاکھ سے زائد کیسز نمٹا دیے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں ایک لاکھ سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کی مجموعی کارکردگی میں بہتری دیکھنے میں آئی، اگرچہ بلوچستان واحد صوبہ رہا جہاں زیر التوا مقدمات میں اضافہ ہوا۔ عدالتی ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار عدلیہ کی استعداد کار میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم مقدمات کے مستقل بوجھ میں کمی کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت برقرار ہے۔

پاکستان کے عدالتی نظام نے سال 2025ء کی پہلی ششماہی میں مقدمات کے تصفیے کے حوالے سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاکھوں شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 30 جون 2025ء کے دوران ملک بھر کی عدالتوں نے مجموعی طور پر 29 لاکھ سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا، جس سے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں ایک لاکھ سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔

لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال کے آغاز پر ملک بھر میں زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد 23 لاکھ 71 ہزار 227 تھی۔ اس عرصے کے دوران عدالتوں میں 28 لاکھ 7 ہزار 674 نئے مقدمات درج ہوئے، جبکہ 29 لاکھ 1 ہزار 440 مقدمات نمٹائے گئے۔ اس طرح زیر التوا مقدمات کی تعداد میں ایک لاکھ 643 کی کمی آئی اور یہ تعداد گھٹ کر 22 لاکھ 70 ہزار 584 رہ گئی۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس بہتری میں اعلیٰ عدالتوں کے ساتھ ساتھ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ نے اہم کردار ادا کیا۔ ان عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں کی رفتار نئے مقدمات کے اندراج سے زیادہ رہی، جس کے باعث زیر التوا کیسز کے بوجھ میں کمی ممکن ہوئی۔ تاہم بلوچستان اس حوالے سے مختلف رہا، جہاں ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں دونوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان، وفاقی شرعی عدالت اور پانچوں ہائی کورٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ نے بھی اپنی مجموعی کارکردگی بہتر بنائی۔ سال کے آغاز پر ان عدالتوں میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 6 ہزار 379 مقدمات زیر التوا تھے۔ چھ ماہ کے دوران ایک لاکھ 27 ہزار 901 نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ ایک لاکھ 47 ہزار 702 مقدمات نمٹائے گئے، جس کے نتیجے میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہو کر 3 لاکھ 61 ہزار 677 رہ گئی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے زیر التوا مقدمات کی تعداد 57 ہزار 403 سے کم کر کے 56 ہزار 145 کر دی۔ اس عرصے میں عدالت عظمیٰ میں 9 ہزار 685 نئے مقدمات درج ہوئے جبکہ 11 ہزار 888 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی شرعی عدالت نے بھی اپنی زیر التوا تعداد 78 سے کم کر کے 65 کر دی، جہاں 31 نئے مقدمات دائر ہوئے اور 44 مقدمات نمٹائے گئے۔

صوبائی ہائی کورٹس کی کارکردگی بھی نمایاں رہی۔ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد تقریباً دو لاکھ سے کم ہو کر ایک لاکھ 88 ہزار 77 رہ گئی، جہاں 74 ہزار سے زائد نئے مقدمات درج ہوئے جبکہ تقریباً 84 ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی قابل ذکر پیش رفت کرتے ہوئے زیر التوا مقدمات کی تعداد 86 ہزار 421 سے کم کر کے 57 ہزار 289 کر دی، جبکہ پشاور ہائی کورٹ نے بھی اپنے زیر التوا مقدمات میں نمایاں کمی کرتے ہوئے انہیں 40 ہزار 667 سے کم کر کے 35 ہزار 441 تک پہنچا دیا۔

عدالتی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر التوا مقدمات میں کمی انصاف کی فراہمی کے نظام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم پاکستان جیسے بڑے ملک میں لاکھوں نئے مقدمات ہر سال عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، اس لیے صرف مقدمات نمٹانا کافی نہیں بلکہ عدالتی اصلاحات، ججوں کی تعداد میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، مقدمات کے مؤثر انتظام اور متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ حالیہ اعداد و شمار عدالتی نظام کی بہتر کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کو برقرار رکھنے اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مستقل اصلاحات، وسائل میں اضافہ اور مقدمات کے تیز رفتار فیصلوں کا سلسلہ جاری رکھنا ناگزیر ہوگا۔

Back to top button