خیبر پختونخواہ میں نئے KP ہاؤس کی تعمیر عوامی تنقید کی زد میں

گنڈاپور سرکار کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود سے باہر ایک نیا خیبرپختونخوا ہاؤس بنانے کا فیصلہ سخت عوامی تنقید کی زد میں ہے ناقدین کے مطابق صوبائی حکومت اس منصوبے کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے بجائے سیاسی مقاصد کو ترجیح دے رہی ہے۔ بظاہر ایک "صوبائی مہمان خانہ” کہلانے والا یہ منصوبہ عملی طور پر ایک سیاسی اڈے کا کردار ادا کر سکتا ہے،پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اسلام آباد کے باہر کے پی ہاؤس تعمیر کر کے اسے وفاق پر چڑھائی کیلئے ایک لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرسکتی ہے، ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب صوبہ بدترین معاشی بحران، سیلابی تباہ کاریوں اور عوامی مشکلات سے دوچار ہے تو ایسے وقت میں ایک نیا سرکاری ہاؤس بنانے کی ضرورت کیا ہے؟
واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاوہ گلگت بلتستان اور کشمیر کی حکومتوں نےاپنے اپنے صوبے کے نام پر مہمان خانے قائم کر رکھے ہیں یہ مہمان خانے صوبائی حکومتوں کی ملکیت اور انہی کے انتظامی کنٹرول میں آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان ہاؤسز کے اندر سکیورٹی اور دیگر تمام انتظامی امور صوبائی حکومتیں خود کرتی ہیں۔ ان ہاؤسز میں گورنر اور وزیراعلیٰ کے لیے الگ الگ خصوصی رہائش گاہیں موجود ہیں جہاں گورنر اور وزرائےاعلیٰ خود، ان کے اہل خانہ یا پھر ان کے قریبی مہمان قیام کرتے ہیں۔ تاہم اب خیبرپختونخوا حکومت نے اسلام آباد کی حدود سے باہر پیر سوہاوہ کے پار ہری پور کی حدود میں مکھنیال کے مقام پر نیا خیبر پختونخوا ہاؤس بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کی تعمیر کیلئے 500 ملین روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔اب اس حوالے سے پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ صوبائی حکومت نے ڈپٹی کمشنر ہری پور کو مکھنیال کے مقام پر مناسب جگہ کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ تعمیرات عامہ کو پی سی ون تیار کرنے کے احکامات بھی جاری کر دئیے ہیں۔
ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت اس منصوبے کو وفاق پر دباؤ بڑھانے اور اسلام آباد کے قریب ایک سیاسی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔ جہاں نہ صرف اشتہاریوں کو پناہ دی جائے گی بلکہ تحریک انصاف اس پناہ گاہ کو اپنی احتجاجی حکمت عملی کو منظم کرنے کیلئے بھی استعمال کرے گی۔خیبر پختونخوا حکومت کا یہ فیصلہ جمہوری اداروں کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دے گا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ صوبے میں سیلابی صورتحال کے دوران نئے کے پی ہاؤس کی تعمیر صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے ہزاروں افراد اب بھی سیلاب کے بعد خیموں اور عارضی ٹھکانوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی کمی ایک کھلا زخم بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں اربوں روپے ایک نئے کے پی ہاؤس پر لگانا نہ صرف خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ زیادتی بلکہ عوامی وسائل کا ضیاع ہے۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ اُنہیں سہولتیں دینے کے بجائے حکمران طبقے کے آرام اور سیاسی منصوبہ بندی پر خرچ کرنا ظلم ہے۔
مبصرین کے مطابق نئے کے پی ہاؤس کی تعمیر محض ایک "تعمیراتی منصوبہ” نہیں بلکہ صوبے کے عوام کے ساتھ عدمِ انصاف کی ایک علامت ہے۔ اگر حکومت واقعی عوامی نمائندہ ہے تو اسے اسلام آباد کے قریب سیاسی محاذ آرائی کیلئے محفوظ پناہ گاہ کی تعمیر کی بجائے صوبائی وسائل عوام کی بحالی، سیلاب متاثرین کی مدد اور صوبے کی بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر صرف کرنے چاہیں۔
