پاکستانی معاشرہ خونی درندوں کا غول کیوں بن گیا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے حالیہ دنوں میاں چنوں میں توہین مذہب کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں ایک ذہنی مریض کے بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے ہم معاشرہ نہیں ہیں، ہم خونی درندوں کا غول ہیں، ہم سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اور ہمیں اس کے لیے اب کسی جواز کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بس کسی جگہ سے دھواں نکلنے اور ’’قرآن جلا دیا، قرآن جلا دیا‘‘، کی آواز آنا ہی کافی ہوتی ہے جسکے بعد ہم کسی بھی انسان کا اینٹوں، ڈنڈوں، اور پتھروں سے قیمہ بنا دیتے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ قرآن کریم میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہمیں ماننا ہوگا ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں منبر رسولؐ سے ایک دوسرے کو کافر بھی ثابت کیا جاتا ہے اور نفرت بھی پھیلائی جاتی ہے اور کوئی ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک ایسے ہوتے ہیں؟ کیا ریاستیں اس طرح چلتی ہیں اور کیا انسانی معاشرے اس قسم کے ہوتے ہیں؟ آپ یقین کریں لوگ اب اس قدر خوف زدہ ہو گئے ہیں کہ وہ دوسروں کے سامنے نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت سے گھبراتے ہیں۔ وہ پہلے دوسروں کے نام اور عقیدے پوچھتے ہیں اور پھر سلام کا جواب دیتے ہیں۔

مسجدوں کے اندر بھی نمازی ایک دوسرے سے ڈرتے رہتے ہیں۔ ملک میں آج بھی علامہ اقبال اور قائداعظم کے مسلک کے بارے میں سوال اٹھائے اور گرائے جاتے ہیں۔ محمد علی جناح کی مرحومہ بیگم اور صاحب زادی کے مذہب کے بارے میں بھی سوال کیا اور جواب تلاش کیا جاتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ ہو جائے تو ہم اسے ’’یہودیوں کی سازش‘‘ قرار دے دیتے ہیں۔

جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے تو صحابہ کرامؓ تک آپس میں تقسیم کر لیے ہیں، ایک فرقہ ایک صحابیؓ کا دن منا رہا ہے اور دوسرا مسلک دوسرے صحابہؓ کا وارث بن بیٹھا ہے۔ ہھر ایسے ملک میں لوگوں کو مسجدوں سے گھسیٹ کر قتل نہیں کیا جائے گا تو اور کیا ہو گا؟ ہم یہ سمجھنے اور ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ مذہب بندے اور خدا کے درمیان پرائیویٹ ریلیشن شپ ہوتا ہے اور دنیا کے کسی شخص کو اس ریلیشن شپ میں کودنے کا اختیار نہیں۔

شان مسعود پی ایس ایل میں 1000 رنز مکمل کرنیوالے 13 ویں بلے باز

ہمیں اﷲ تعالیٰ کی ٹھیکے داری کس نے الاٹ کی ہے؟ لہٰذا خدا کے لیے خدا کے نام پر لوگوں کو مارنا بند کر دیں۔ مذہب تو کیا، حیوانیت بھی اس کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ کھیل اگر یہاں نہ رکا تووہ وقت دور نہیں جب لوگ مسجدوں کے قریب سے بھی گزرتے ہوئے ڈریں گے اور ہم میں سے کوئی بھی شخص شیو بڑھا کر کسی کو بھی قتل کر دے گا۔

جاوید چودھری سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم یہ چاہتے ہیں؟ اگر ریاست نہیں جاگتی تو معاشرہ ہی جاگ جائے اور اگر اس کی نیند نہیں ٹوٹ رہی تو علماء کرام ہی اٹھ کھڑے ہوں۔ لیکن سوال یہ یے کہ کیا ان میں بھی حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کی جرات نہیں؟ کیا وہ بھی لوگوں کے پتھروں سے خوف زدہ ہیں؟

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اﷲ کے نام پر بننے والا ملک اب اﷲ کے نام پر ہی ٹوٹ رہا ہے اور امن کے داعی مذہب کے نام پر اس ملک میں وحشت پھیلائی جا رہی ہے۔ اگر ہم نے یہ سلسلہ نہ روکا تو اس وحشت کا اگلا شکار ہم خود ہوں گے۔ کوئی شخص اخبار کا کاغذ جلا کر ہمارے خلاف توہین مذہب پر پورا شہر اکٹھا کر لے گا اور پھر ہمارا بھی قیمہ بنا دیا جائے گا۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ حکومت کی ناکامی تو اپنی جگہ لیکن میرا سوال اس ملک کے دانشوروں اورمذہبی اسکالرز سے ہے کہ وہ کہاں ہیں؟ وہ آج تک عوام کو اصل اسلام بارے کیوں نہیں بتا سکے؟ ہمارا گلہ ان سے ہے، وہ جواب دیں کہ آج تک مذہب اور توہین مذہب کا کوئی ٹھوس فارمولہ کیوں نہیں بنایا جا سکا؟ دنیا پاگل پن، ڈپریشن اور جذبات میں قتل کو بھی قتل نہیں سمجھتی جب کہ ہم ذہنی مریض کو مسجد سے گھسیٹ کر پتھر مار مار کر مار دیتے ہیں اور خود کو اﷲ کے بندے اور رسول اللہ ﷺ کے امتی بھی کہتے ہیں۔ بقول جاوید کیا ہجوم میں کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں تھا جو لوگوں کو ٹھنڈا کر سکتا، جو ملزم کی دماغی حالت کا اندازہ کر سکتا؟

اگر تھا بھی تو اس نے خاموش رہ کر اپنی جان بچانے کا فیصلہ کیا ہوگا‘ کیوں؟ کیوں کہ جس ملک میں مسلک مذہب سے بڑا ہو چکا ہو اور جس میں آپ اپنے نام کی وجہ سے کافر اور مسلمان سمجھے جاتے ہوں اور جس میں آپ کو کوئی بھی شخص مسلک اور فرقے کی بنیاد پر قتل کر سکتا ہو یا آپ جھنگ یا ہزارہ کی وجہ سے جانے اور پہچانے جاتے ہوں اور آپ کو بس روک کر آپ کا شناختی کارڈ چیک کر گوکی مار دی جاتی ہو، وہاں کون ہو گا جو آگے بڑھے گا اور میاں چنوں کے مشتاق احمد کی لاش درخت سے اتارنے کا رسک لے گا، آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے۔

Back to top button