کیا پاسپورٹ کی منسوخی کے بعد شیخ حسینہ کو انڈیا چھوڑنا ہوگا؟

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے سفارتی پاسپورٹ کی منسوخی کے بعد ان کا مستقبل غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گیا ہے کیوں کہ ان کے قیام کی قانونی حیثیت مشکوک ہوگئی۔ ایسے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اب حسینہ کو بھارت چھوڑنا پڑے گا۔ یاد ریے کہ حسینہ واجد 5 اگست 2024 تک بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں جب انہیں آرمی چیف کی جانب سے استعفے کی ڈیڈ لائن دیے جانے کے بعد افراتفری کے عالم میں انڈیا کی جانب نکلنا پڑا جہاں اب وہ مقیم ہیں۔

انڈین حکومت نے یقینی طور پر ان کے اور ان کی چھوٹی بہن شیخ ریحانہ کے قیام کے لیے انتہائی رازداری کے ساتھ سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں لیکن ابھی تک بھارتی حکام کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے ان کا پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد اس معاملے پر انڈیا کا حتمی فیصلہ کیا ہو گا۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ کے معاملے پر اس وقت انڈیا کے پاس تین راستے یا متبادل ہیں۔ پہلا آپشن یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم کے لیے کسی تیسرے ملک میں پناہ دلانے کے انتظامات کیے جائیں لیکن وہ ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں ان کی جان کی حفاظت یقینی ہو۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ حسینہ کو انڈیا میں ہی سیاسی پناہ دی جائے اور ان کے لیے عارضی قیام کا انتظام کیا جائے۔ تیسرا آپشن فی الوقت ممکن نظر نہیں آتا تاہم انڈین حکام کا خیال ہے کہ اگر کچھ دنوں کے بعد صورتحال بہتر ہوتی ہے تو انڈیا شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش میں سیاسی واپسی کی کوشش بھی کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوامی لیگ بحیثیت پارٹی یا سیاسی قوت ابھی ختم نہیں ہوئی اور شیخ حسینہ اپنے ملک واپس آنے کے بعد پارٹی کی کمان سنبھال سکتی ہیں۔

کیا اختر مینگل کا استعفی اتحادی حکومت کے خاتمے کا آغاز ہے ؟

سفارتی حلقوں کو ان آپشنز میں سے پہلے آپشن پر، یعنی بھارت چھوڑنے پر کوئی شبہ نہیں کہ یہ موجودہ صورتحال میں انڈیا کے لیے بہترین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر حسینہ انڈیا میں مقیم رہتی ہیں تو اس کا دہلی- ڈھاکہ تعلقات پر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یقینی ہے کہ اگر ڈھاکہ سے شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے کوئی درخواست آتی ہے تو دہلی کس دلیل کی بنیاد پر اسے مسترد کرے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کو عدالتی عمل کا سامنا کرنے کے لیے بنگلہ دیش کے حوالے کرنا انڈیا کے لیے کوئی عملی متبادل نہیں ہے۔ یاد رہے کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے 6 اگست کو پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش کی صورت حال پر اپنے بیان کے دوران شیخ حسینہ کے انڈیا آنے کا ذکر کرتے ہوئے لفظ ‘فار دی مومنٹ’ یعنی فی الحال کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد سے حکومت کی طرف سے اس بارے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ حسینہ کو بحفاظت کسی تیسرے ملک بھیجنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن اگر اس میں فوری کامیابی نہ بھی ملی تو انڈیا انھیں سیاسی پناہ دینے اور طویل عرصے تک ملک میں رکھنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ بھارتی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ: ‘ہم بہترین کی امید کر رہے ہیں جبکہ بدترین کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔’ ان کے اس بیان کا مقصد یہ تھا کہ انڈیا کو اب بھی امید ہے کہ حسینہ کے معاملے میں کچھ بہتر ہو گا، یعنی وہ تیسرے دوست ملک میں جا کر رہ سکیں گی۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو دہلی بدترین حالات کے لیے تیار رہے گا، یعنی شیخ حسینہ کو طویل عرصے تک انڈیا میں مقیم رکھے گا۔

بی بی سی کے مطابق شیخ حسینہ کی امریکہ روانگی کی تجویز کو ابتدائی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ اس کے بعد انڈیا نے اس معاملے پر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور یورپ کے دو چھوٹے ممالک سے بات کی ہے۔ تاہم ابھی تک اس معاملے میں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ لیکن اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ انڈیا شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کے معاملے پر مشرق وسطیٰ کے ایک اور بااثر ملک قطر کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ شیخ حسینہ نے ابھی تک بذات خود امریکہ یا دوسرے ممالک میں سے کسی سے سیاسی پناہ کی تحریری درخواست نہیں کی ہے۔ انڈین حکومت اس معاملے پر تمام بات چیت ان کی طرف سے اور ان کی زبانی رضامندی کی بنیاد پر کر رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی تیسرا ملک شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے پر راضی ہو جاتا ہے تو وہ دہلی سے کس پاسپورٹ پر اس ملک کا سفر کریں گی؟

ڈھاکہ میں انڈیا کی سابق سفیر، ریوا گنگولی داس کے مطابق یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بنگلہ دیشی حکومت نے ان کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا ہے تو وہ انڈیا کی طرف سے جاری سفری دستاویز یا اجازت نامے پر کسی تیسرے ملک کا سفر کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، تبت کے ہزاروں پناہ گزین ہیں جنھوں نے کبھی پاسپورٹ نہیں بنایا لیکن وہ انڈین دستاویزات کے ساتھ پوری دنیا کا سفر کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ اگر کوئی ملک شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کے لیے تیار ہے تو وہ انڈیا کی طرف سے جاری سفری دستاویز پر متعلقہ ملک کا ویزا لے کر وہاں باآسانی جا سکتی ہیں اور قیام کر سکتی ہیں۔ یہ اصول کسی بھی فرد کے لیے لاگو ہو سکتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ حسینہ کی بہت بڑی ’سیاسی پروفائل‘ ہے۔ اس کی وجہ سے ان کے معاملے میں بہت سے قواعد و ضوابط آسان ہو سکتے ہیں۔

لیکن دوسری جانب دہلی سے ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ اگر بہت ضروری ہوا تو انڈیا حسینہ کو سیاسی پناہ دینے اور انھیں اپنے ملک میں رکھنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ انڈیا کے اعلیٰ پالیسی سازوں کا ایک طاقتور طبقہ اب بھی یہ مانتا ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاست میں حسینہ کی اہمیت یا کردار ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور مناسب وقت آنے پر انڈیا کے لیے ان کی سیاسی بحالی میں مدد کرنا مناسب ہوگا۔ یاد رہے کہ شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کی سیاست میں تین بار یعنی سال 1981، سال 1996 اور سال 2008 میں تمام تر مشکلات کے باوجود زبردست طریقے سے واپسی کی تھی حالانکہ ہر انکے مخالفین کا دعوی تھا کہ شاید اب کی بار یہ ممکن نہیں ہو گا۔ تاہم حسینہ نے ہر مرتبہ کم بیک کیا اور ہر بار اپنے مخالفین کو غلط ثابت کیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اپ کی بار ایسا ہوتا ہے یا نہیں؟

Back to top button