عمران خان اور شہباز شریف کا دورۂ کراچی اور سوشل میڈیا پر بحث

رواں برس مون سون میں ہونے والی بارشوں نے یوں تو پاکستان کے کئی علاقوں میں تباہی مچائی ہے لیکن ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ کچی بستیوں سے لے کر پوش علاقوں تک کے مکین بےبسی کی تصویر بنے اہنے اپنے حلقے کے منتخب نمائندوں سے لے کر صوبے اور ملک کی قیادت کو ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔
اس موقع پر دورہ کراچی کو لے کر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے کارکنان و سوشل میڈیا پر موجود مداحوں کے درمیان خاصی بحث ہوتی بھی نظر آ رہی ہے۔
ایک طرف کچھ صارفین صوبہ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور بھٹو خاندان کی عدم موجودگی کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں تو دوسری جانب کئی افراد یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کراچی سے انتخابات جیتنے والے وزیرِ اعظم عمران خان خود کہاں ہیں؟
اگرچہ وزیرِ اعظم کراچی کی صورت حال کی نگرانی کر رہے تھے کی اور اس بارے میں وقتاً فوقتاً ٹویٹس کرتے نظر آئے۔
پوری قوم اس درد کو محسوس کررہی ہے جس میں کراچی کے عوام مبتلا ہیں۔ تاہم اس تباہ کن صورتحال اور تمام تر مشکلات کے ہنگام مثبت پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ میری حکومت سندھ حکومت کیساتھ ملکر فوری طور پر کراچی کے 3 بڑے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے:
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) August 29, 2020
27 اگست کو کی گئی ٹویٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کراچی کے لوگوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور وہ امدادی کارروائیوں کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور صورت حال سے باقاعدہ طور پر باخبر رہنے کےلیے قدرتی آفات سے نمٹنے کے این ڈی ایم اے کے چیئرمین اور گورنر سندھ سے مستقل رابطے میں ہیں۔ اس دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے بھی ایسے اعلانات کیے گئے کہ وزیراعظم عمران خان صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں اور سیلاب سے مستقل بچاؤ کےلیے جلد ایک منصوبے کا اعلان کریں گے۔
لیکن اس کے باوجود ان کی عدم موجودگی کو محسوس کیا گیا اور کئی صارفین کہتے نظر آئے کہ وزیراعظم عمران خان مشکل وقت میں سندھ نہ آ کر بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ لوگ تو مشکل سے نکل جائیں گے مگر یہ ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ کون ان کے ساتھ کھڑا تھا۔
کسی دور میں جب کراچی میں صرف گِٹے گِٹے پانی ہوتا تھا تو عارف علوی امدادی سرگرمیوں کی کشتی لیکر میدان میں آجاتے تھے اور اس کشتی کو کھچنے کیلئے بھی دو عدد افراد کی امدادی سرگرمیوں کی ضرورت ہوتی تھی
آج علوی صدر پاکستان ہیں اور کراچی میں پانی بھی زیادہ ہے تو صاحب غائب ہیں pic.twitter.com/Db3fSZmCsl
— Khawaja (@KhawajaMuzaffar) August 26, 2020
کئی صارفین تو اس موقع پر صدر عارف علوی کی گزشتہ سال بارشوں کے دوران کشتی میں شہریوں کو ریسکیو کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کرتے پوچھتے نظر آئے کہ کراچی کی عوام ڈاکٹر عارف علوی کو تلاش کر رہے ہیں اگر کسی صاحب کو ملیں تو برائے مہربانی کراچی پہنچا دیا جائے۔
فہد بٹ نامی صارف کا کہنا تھا دو سال پہلے جب کراچی میں دو فٹ بارش ہوئی تھی، تب عارف علوی اپنی پراڈو پہ کشتی ڈال کے لائے تھے۔ اب پی ٹی آئی کے کراچی میں 14 ایم این ایز ہیں۔ شہر بارش سے تباہ ہو رہا ہے اور عارف علوی صدر ہیں لیکن ان میں سے کوئی شکل دکھانے بھی نہیں آتا۔
صدر کا تو پتا نہیں لیکن وزیر اعظم کے منتظر افراد کو خوشخبری سنا دیں کہ بلآخر عمران خان جمعرات کے روز کراچی پہنچ رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کی قیادت کو ڈھونڈنے والوں کو یہ بھی بتا دیں کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف بھی بدھ کے روز کراچی پہنچیں گے۔
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کریں گے اور پارٹی عہدیداروں اور کارکنان سے کراچی اور سندھ میں سیلاب کی صورتحال اور امدادی کاررائیوں پر بریفنگ لیں گے۔
PM should cancel his visit in protest.. https://t.co/cbahvlcEmE
— Nasir Jamal (@nasirjamall) August 31, 2020
سندھ حکومت، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی عدم موجودگی اور مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے دورہ کراچی کو لے سوشل میڈیا پر خاصی بحث چل رہی ہے اور گزشتہ رات شہباز گل کی ٹویٹ کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کے دورہ کراچی کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا ’جیسے ہی وزیراعظم کا کراچی جانے کا پروگرام فائنل ہوا شہباز شریف صاحب نے فورا ایک دن پہلے کا ٹکٹ کٹوا لیا۔ اب وہاں جا کر ڈرامہ بازی کریں گے۔‘
جیسے ہی وزیراعظم کا کراچی جانے کا پروگرام فائنل ہوا شہباز شریف صاحب نے فورا ایک دن پہلے کا ٹکٹ کٹوا لیا۔ اب وہاں جا کر ڈرامہ بازی کریں گے۔ وزیراعظم جو اقدامات کرنے جارہے ہیں ان کا ایک دن پہلے اعلان کریں گے۔ یہ فلم کچھ پرانی نہیں ہو گئ ؟ اور اگر نیب نے بلا لیا تو فورا کمر درد شروع
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) August 31, 2020
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وزیراعظم جو اقدامات کرنے جا رہے ہیں شہباز شریف ان کا ایک دن پہلے اعلان کریں گے۔ یہ فلم کچھ پرانی نہیں ہو گئی؟ اور اگر نیب نے بلا لیا تو فورا کمر درد شروع۔
کئی صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ کراچی میں بارشوں کے وقت صوبائی حکومت، پی پی پی اور مسلم لیگ پہلے تو سرے سے غائب تھے لیکن اب جیسے ہی فوج اور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کراچی کو صاف کر لیا ہے تو ناصرف صوبائی حکومت اور پی پی پی بارش میں باہر نکل آئیں ہیں بلکہ دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں حتیٰ کے وزیر اعظم کو بھی کراچی کی یاد آ گئی ہے۔
نورین حیدر نامی صارف پوچھتی نظر آئیں کہ بلاول بھٹو زرداری کراچی سے تو غائب ہوئے ہی تھے مگر اب ٹوئٹر سے بھی غائب ہو گئے۔
خیر وزیر اعظم کے دورہ کراچی کو لے کر صحافی حامد میر کی ایک پول بھی گردش میں ہے جس میں انھوں نے پوچھا ہے کہ وزیر اعظم کو دورہ کراچی کے موقعے پر پہلا کام کیا کرنا چاہیے؟
اس پر کئی منچلے کہتے نظر آئے کہ وائپر سے سمندر کی لہریں واپس سمندر میں دھکیلیں تاکہ پانی باہر شہر میں نہ گھس جائے۔
وزیراعظم عمران خان جمعرات کو کراچی جائیں گے وہاں انہیں پہلا کام کیا کرنا چاہئیے؟#CapitalTalk
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 31, 2020
حامد میر کے پول پر تبصرہ کرتے ہوئے کلثوم نامی صارف کہتی ہیں ’ایک ہفتے بعد کراچی آکر ہیلی کاپٹر میں گھوم کر واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ ان کے وعدے صرف وعدے ہی ہوتے ہیں۔‘
