فیصل واوڈا کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا مسترد

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر آبی امور فیصل واوڈا کو دوہری شہریت سے متعلق نااہلی کیس میں عبوری ریلیف دے ہوئے سینیٹ انتخاب کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔
الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے سوالات پر ازخود تحریری جواب جمع کروانے کی بھی ہدایت کردی۔ پنجاب سے رکن الیکشن کمیشن الطاف ابراہیم قریشی کی سربراہی میں کمیشن نے فیصل واوڈا نااہلی کیس کی سماعت کی۔ فیصل واوڈا اپنے نئے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ والدہ کی بیماری کے باعث گزشتہ سماعت پر حاضر نہیں ہوسکا۔ اس پر انہوں نے والدہ کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا۔ جس پر الیکشن کمشن کے رکن الطاف ابراہیم قریشی نے ریمارکس دیے کہ معزز رکن اسمبلی کی بات پر یقین ہے۔ دوران سماعت فیصل واوڈا کے نئے وکیل نے تیاری کےلیے مہلت کی استدعا کی تو درخواست گزار کے وکیل نےکہا کہ فیصل واوڈا خود جواب دینے کےلیے موجود ہیں اور وفاقی وزیر نے دوہری شہریت پرجھوٹ بولا تھا۔
ممبرپنجاب الطاف قریشی نے ریمارکس دے کہ کاغذات نامزدگی میں کئی اہم کالم خالی چھوڑے گئے ہیں جب کہ فیصل واوڈا عام آدمی نہیں بلکہ قانونساز ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ میں ایک لے مین ہوں جب کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ اور جہانگیر جدون مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے واقف کار ہیں۔ جس پر ممبر کمیشن میں موجود خیبرپختونخوا کے رکن نے ریمارکس دیے کہ آپ پیٹیشن پر بات کریں اور جہانگیر جدون پاکستان کے شہری ہیں۔ دوران سماعت گزشتہ سماعتوں پر عدم پیشی پر فیصل واوڈا نے کہا کہ میری والدہ زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی اس لیے انہیں چھوڑ کر نہیں آسکتا تھا چاہے مجھے پھانسی لگا دی جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے جہانگیر جدون نے فیصل واوڈا کا سینیٹ انتخاب میں کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر کے حلف نامے کو جھوٹا قرار دیا اس لیے الیکشن کمیشن کی ذمہ داری یے کہ وہ بد دیانت شخص کو پارلیمنٹ میں جانے سے روکے۔ ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ فیصل واوڈا کی موجودگی سے ہم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، فیصل واوڈا آپ سے 3 سوال پوچھے گئے تھے، آپ یہ بتائیں کہ کاغذات نامزدگی میں کچھ جگہیں خالی کیوں چھوڑیں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ ’میں ایک لے مین ہیں جب کہ یہ کیس سیاسی ہے‘۔ علاوہ ازین فیصل واوڈا کو سینیٹر بننے سے روکنے کےلیے ایک اور درخواست دائر کی گئی، درخواست رشید اے رضوی کی وساطت سے دوست محمد جیسر نے دائر کروائی۔ رشید اے رضوی نے دلائل میں کہا کہ فیصل واوڈا نے پاسپورٹ میں جائے پیدائش امریکا درج کی ہوئی ہے اس لیے ان سے پوچھا جائے کہ شہریت انہوں نے کس وقت چھوڑی۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ یہ درخواست بھی دیگر درخواستوں کے ساتھ سنیں گے اور فیصلہ آنے کے بعد نااہلی ہوئی تو ڈی نوٹیفائی کر سکتے ہیں اس لیے اس وقت ہم نوٹی فکیشن نہیں روک سکتے۔ مسلم لیگ (ن) کے وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ نوٹی فکیشن نہ روکا گیا تو یہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ ڈال دیں گے۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ جنہوں نے فیصل واوڈا کو سینیٹ میں منتخب کیا ان کا حق سلب نہیں کر سکتے۔ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18مارچ تک ملتوی کردی جب کہ آئندہ سماعت پرفیصل واوڈا کو الیکشن کمیشن کے سوالات پر ازخود تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی۔ گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر آبی امور فیصل واوڈا کی جانب سے دوہری شہریت کے معاملے میں الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکنے سے متعلق فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی تھی۔ وفاقی وزیر آبی امور فیصل واوڈا نے دوہری شہریت کے معاملے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ممکنہ نااہلی کے پیش نظر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس سے قبل 3 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واوڈا نااہلی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ فیصل واوڈا کو مستعفی ہونے کے باعث نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے 13 صفحات پر مشتمل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کے باعث انہیں نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل فرد کو اس وقت تک الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں جب تک وہ دوسری شہریت ترک نہیں کردیتے۔ اسی معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں 2 قانون سازوں ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہریت پر نااہل کردیا تھا۔
خیال رہے کہ رواں برس کے اوائل میں ایک انگریزی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے کےلیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کے وقت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا دوہری شہریت کے حامل تھے۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی 11 جون 2018 کو جمع کروائے، جو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ہفتے بعد 18 جون کو منظور ہوئے۔ تاہم اس معاملے کے 4 روز بعد پی ٹی آئی، ایم این اے نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ میں اپنی شہریت کی تنسیخ کےلیے درخواست دی تھی۔
واضح رہے کہ قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل فرد کو اس وقت تک الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں جب تک وہ دوسری شہریت ترک نہیں کر دیتے۔ اسی معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں 2 قانون سازوں ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہریت پر نااہل کردیا تھا۔
