کیا FBRمسز فائز عیسیٰ کو کپتان کے اثاثوں کی تفصیل دے گا؟


مبینہ طور پر آف شور جائیداد رکھنے کے الزام کا سامنا کرنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے فیڈرل بیورو آف ریونیو سے وزیر اعظم عمران خان، وزیر قانون فروغ نسیم، مشیر احتساب شہزاد اکبر، سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان اور وحید ڈوگرکا ٹیکس ریکارڈ اور ذرائع آمدن کی تفصیل فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کا کہا ہے کہ ایف بی آر نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میرا ٹیکس ریکارڈ غیر متعلقہ لوگوں کو فراہم کیا اور اب وہ بھی ان لوگوں کی ایسی تمام معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں جن کو میری ٹیکس تفصیلات فراہم کی گئیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کے خفیہ اور قانونی طور پر محفوظ انکم ٹیکس اور بینک ریکارڈز تک غیر قانونی طور پر رسائی دی گئی جبکہ قانون اسکی اجازت نہیں دیتا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو جمع کرائے گئے اپنے مفصل بیان میں مسز سرینا عیسیٰ نے سکول میں تدریس اور زرعی اراضی سے حاصل کردہ اپنی آمدن کے ذرائع بتاتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت وہ ایسی معلومات فراہم کرنے کی پابند نہیں لیکن شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے وہ رضا کارانہ طور پر ایف بی آر کو تمام معلومات دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ان کے خفیہ اور قانونی طور پر محفوظ انکم ٹیکس اور بینک ریکارڈز تک غیر قانونی رسائی حاصل کی گئی لہذا وہ بھی ان لوگوں کی ایسی تمام معلومات حاصل کرنے کی خواہاں ہیں جن کو ان کی خفیہ دستاویزات تک رسائی دی گئی تھی۔ سرینا عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان اور دیگر اعلیٰ حکومت عہدیداروں کے انکم ٹیکس کی تفصیلات مانگنے کے مطالبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات کو اپنی معلومات کی فراہمی پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ عوامی عہدے پر فائز رہے ہیں یا عہدہ سنبھال رکھا ہے۔
سرینا عیسیٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں وزیراعظم عمران خان، انکے خاندان، وزیر قانون فروغ نسیم، مشیر احتساب شہزاد اکبر، اور تین دیگر افراد کا نہ صرف ٹیکس ریکارڈ دیا جائے بلکہ ان افراد کے خاندان کے ذرائع آمدن، انکم ٹیکس اور ٹیکس ریٹرن سمیت بیرون ممالک بینک میں موجود اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ انہوں نے یہ مطالبہ اختیار کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا ہے۔ مسز قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ وہ پرائیویٹ حیثیت سے جواب جمع کروا رہی ہیں جنہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھا اور گزشتہ دو سالوں میں انہوں نے ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر بالترتیب 8 لاکھ 9 ہزار 970 روپے اور 5 لاکھ 76 ہزار 540 روپے ادا کیے ہیں۔ انہوں نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 پر روشنی ڈالتے ہوئے ایف بی آر حکام پر واضح کیا کہ اسے معلومات فراہم کرنا ان کی قانونی ذمہ داری نہیں ہے لیکن پھر بھی انہوں نے قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے رضاکارانہ طور پر تمام معلومات فراہم کیں کیں۔
دوسری طرف مسز قاضی فائز عیسی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور دیگر کے ذرائع آمدن کا ریکارڈ فراہم کیے جانے کے مطالبے کے بعد ایف بی آر نے مسز سرینا عیسیٰ کی جمع کروائی گئی ٹیکس ریٹرنز پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا یے جبکہ سرینا عیسیٰ نے بھی ایف بی آر کی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ ایف بی آر میرے گوشواروں میں مرضی کی تبدیلی بھی کر سکتی ہے۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ مسز سرینہ عسیٰی کی لندن جائیدادوں کی جمع کرائی گئی منی ٹریل کا جائزہ لینے کے بعد ان کو سیکشن 122 اور 111 کے تحت دو مزید نوٹس بھیجے گے جن میں بتایا گیا کہ آپ کی مجموعی آمدن لندن جائیدادیں خریدنے کے لیے کافی معلوم نہیں ہوتی۔ایف بی آر کے مطابق سرینا عیسٰی کی ٹیکس والی آمدنی 93 لاکھ 75 ہزار روپے تھی جبکہ لندن کی تین جائیدادوں کی قیمت 10 کروڑ 43 لاکھ روپے تھی۔ دوسری طرف مسز سرینا عیسٰی نے ایف بی آر کا یہ موقف رد کیا ہے کہ وہ اتنا نہیں کما سکی ہوں گی کہ لندن میں تین جائیدادیں خرید لیں۔ یاد رہے کہ مسز سرینا عیسی نے لندن میں ایک جائیداد 2004 میں 2 لاکھ 36 ہزار یورو اور دو 2013 میں بالترتیب 2 لاکھ 45 یورو اور 2 لاکھ 70 ہزار یورو میں خریدی تھیں۔ مسز سرینا عیسی نے ایف بی آر کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی زراعت کی آمدنی کو نظر انداز کیا گیا ہے حالانکہ وہ 278 ایکڑ زرعی اراضی کی مالک ہیں جس سے وہ خاطر خواہ آمدنی تاحال حاصل کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایف بی آر نے ان کی کلفٹن کی جائیدادوں کی وصول کردہ آمدن بھی شمار نہیں کی جبکہ انکی سکول ملازمت کی آمدن کو بھی لندن جائیدادوں کی قیمت میں شامل نہیں کیا گیا۔
ان حقائق کے پیش نظر سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بعید نہیں کے ایف بی آر حکام میرے ٹیکس گوشواروں میں بھی ردوبدل کر دیں۔ دوسری طرف حکومتی ناقدین کا کہنا یے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے عام شہری ہونے کے باوجود شفافیت یقینی بنانے کیلئے رضاکارانہ طور پر اپنے ذرائع آمدن اور منی ٹریل ایف بی آر حکام کے سامنے رکھ دی ہے تاہم اب دیکھنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور دیگر حکومتی ذمہ داران کی انکم ٹیکس معلومات فراہم کرتا ہے یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button