آئینی ترامیم: ایاز صادق کا پرویز الہٰی سے رابطہ، مذاکرات کی پیش کش

مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہٰی سے رابطہ ہوا ہے، پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور حکومتی کابینہ کے اراکین کو ساتھ بٹھا کر اس آئینی ترمیم پر بات کرنے کےلیےتیار ہیں، پرویز الہٰی نے اسپیکر کو اس حوالے سے پی ٹی آئی سےمشاورت کےبعد جواب دینے کاکہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی 53 آئینی ترامیم کےحق میں نہیں ہیں دونوں جماعتوں کا مؤقف ہےکہ جو متنازعہ ترامیم ہیں ان پر اتفاق رائےنہ ہو تو اچھا ہے، تاہم وفاقی آئینی عدالت کےقیام سمیت بلوچستان میں اراکین کی تعداد بڑھانے سے متعلق آئینی ترامیم منظور کروائی جائیں۔

ذرائع کےمطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سمجھتےہیں کہ حکومت نےبغیر سوچےسمجھے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس بلالیا جس سےحکومت کو سبکی کا سامنا کرناپڑا، جس کےبعد اب آئینی ترمیم پاس کروانے کےحوالے سے وہ اپنا کردار ادا کرنا چاہتےہیں۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی چاہتےہیں کہ پی ٹی آئی وفاقی آئینی عدالت کی ترمیم پر ہی مان جائےاور جو ان کے تحفظات ہیں وہ دور کردیے جائیں تاکہ یہ آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور ہو،دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن کو قائل کرنےکا ٹاسک پیپلز پارٹی کو سونپاگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئینی ترامیم منطور کروانے کی پہلی کوشش ناکام ہونے کےبعد بلاول بھٹو کی مولانا فضل الرحمٰن سےملاقات میں بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمٰن کو صرف وفاقی آئینی عدالت کےقیام کےحوالے سے ووٹ دینےکی دراخوست کی ہے، باقی متنازعہ ترامیم پر خود پیپلز پارٹی بھی اب بات کرنے کےلیے تیارنہیں ہے۔

ذرائع نےبتایاکہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہےکہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام ان کےچارٹر میں شامل ہے اس لیےوہ اب اس محاذ پر سیاسی قیادت کررہی ہےتاکہ تمام جماعتیں اس ایک آئینی ترمیم پر رضامند ہو جائیں۔

عمران خان کا گنڈاپور کو اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ختم اور احتجاجی تحریک کی قیادت کا حکم

Back to top button