فیض حمید پیوٹن کی طرح پہلے آرمی چیف اور پھر صدر بننا چاہتے تھے

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار ابصار عالم نے کہا ہے کہ کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے دوران حراست تحقیقات کے دوران اپنے آدھے جرائم کی ذمہ داری سابق آرمی چیف اور اپنے باس جنرل قمر جاوید باجوہ پر ڈالی ہے جب کہ بقیہ آدھے جرائم کا ذمہ دار سابق وزیر اعظم عمران خان کو قرار دیا ہے، لیکن ابھی تک اس حوالے سے وہ کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر پائے۔ ابصار عالم نے سماء نیوز کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ فیض حمید نے دوران حراست کافی حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ان 10 لوگوں کے نام بتائے ہیں جن کے ساتھ وہ مسلسل رابطے میں تھے اور فیصلہ سازی کے عمل میں بھی شریک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید دراصل تحریک انصاف کے چیف منصوبہ ساز تھے اور وہ اس کی مرکزی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے اسے مسلسل سٹریٹجی بنا کر دیتے تھے۔ ابصار عالم نے کہا کہ ہر کام کی ٹائمنگ بہت ضروری اور اہم ہوتی ہے، آپ کوئی نئی پراڈکٹ بھی لانچ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی بھی ایک خاص ٹائمنگ ہوتی ہے۔ اگر آپ کی ٹائمنگ درست ہو اور آپ درست وقت پر درست فیصلہ کریں تو اس کے نتائج بھی اچھے نکلتے ہیں۔ لیکن اگر آپ غصے میں فیصلہ سازی کریں تو ذاتی رنجش کی بنا پر اپ غلط فیصلے کر جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم جو بھی فیصلے کیے ان کی ٹائمنگ غلط تھی اور وہ غصے اور انتقام کی بنیاد پر کیے گے۔ یہی وجہ ہے کہ اج وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور اپنا بویا کاٹ رہے ہیں۔
ابصار عالم نے کہا کہ جنرل فیض حمید نے بطور آئی ایس آئی سربراہ اپنا ایک علیحدہ ایک پرائیویٹ نیٹ ورک بنایا ہوا تھا جس کے ذریعے وہ غیر قانونی کام کیا کرتے تھے۔ فیض کا رول ماڈل روسی صدر پیوٹن تھے۔ جس طرح پیوٹن انٹیلی جنس کا سربراہ رہنے کے بعد سیاست میں آیا اور پھر صدر بن گیا، بالکل اسی طرح فیض حمید بھی ان کے راستے پر چلتے ہوئے پہلے فوج کے سربراہ اور پھر ملک کے سربراہ بننا چاہتے تھے۔ ابصار عالم نے فیض حمید کی جانب سے دباؤ اور دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 8 مئی 2017 کو بطور پیمرا چئیرمین ایک پریس کانفرنس کی تھی جس کے بعد انہیں دھمکی آمیز فون کال آئی اور ان کے سٹاف کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔ کالیں کرنے والوں نے کہا کہ اگر آپ نے ہماری بات نہ مانی تو ہم اپ کو کچل ڈالیں گے۔
کیا عدلیہ کو کھسی کرنے کے بعد ISI کے پر بھی کاٹے جائیں گے؟
ابصار عالم نے کہا کہ فیض حمید ائی ایس ائی کے سربراہ تھے جب 20 اپریل 2024 کو انہیں اسلام اباد کے ایک پارک میں دن دیہاڑے گولی مار دی گئی۔ اس سے کچھ دن پہلے 11 مارچ 2021 کو میں نے ایک ٹویٹ میں عمران خان، جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے مقبوضہ کشمیر انڈیا کو بیچ دیا اور اب ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں، ابصار عالم نے کہا کہ اس وقت ان لوگوں پر تنقید کرنے والی مریم نواز کو بھی کچل ڈالنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
ابصار عالم نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے ذمہ دار جنرل فیض حمید ہیں جنہوں نے افغانستان سے تحریک طالبان پاکستان کے مسلح دہشت گردوں کو ڈیل کر کے واپس یہاں لا بٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ میں بتا نہیں سکتا کہ کس کس طرح لوگ افغانستان سے لا کر یہاں بیٹھائے گئے تھے اور انہوں نے 9 مئی 2023 کو کس کس فوجی تنصیبات پر حملہ کیا، انہون نے کہا کہ 9 مئی کو میانوالی ایئر بیس پر ایف سولہ طیاروں کو جتنا نقصان پہنچایا گیا اس کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، پشاور میں 9 مئی کے حملہ آوروں نے کتنا نقصان کیا، اس کی بھی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، جب یہ تفصیلات سامنے ائیں گی تو پتہ چلے گا کہ 9 مئی کو ہمیں کتنے بڑے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑے۔
