آئی ایم ایف نے مہنگائی اور بےروزگاری بڑھنے کی نوید سنا دی

آئی ایم ایف نے رواں سال پاکستان میں مہنگائی اور بے روز گاری میں مزید اضافے کی پشین گوئی کر کے وزیر اعظم عمران خان کے اس دعوے کی نفی کر دی ہے کہ 2020 عوام کے لیے ریلیف کا سال ہو گا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کی براہ راست نگرانی کے باوجود رواں برس ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافے کی پشین گوئی کی ہے. آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ ترین عالمی معاشی آؤٹ لک کے مطابق 2020 کے دوران پاکستان میں افراط زر کی شرح لگ بھگ ساڑھے پانچ فیصد اضافے کے ساتھ 13 فیصد رہنے کا امکان ہے جو 2019 میں 7.3 فیصد اور 2018 میں 3.9 فیصد تھی ۔ 2020 میں پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 6.2 رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جو کہ 2019 میں 6.1 فیصد تھا۔ اسی طرح 2020 کے لئے جی ڈی پی کی شرح نمو 2.4 فیصد متوقع ہے جو 2019 میں 3.3 فیصد رہی ۔
رواں برس کرنٹ اکاونٹ خسارے کا اندازہ 2.6 فیصد لگایا جا رہا ہے جو 2019 میں 4.6 اور 2018 میں 6.3 فیصد تھا ۔ یاد رہے کہ عمران خان نے الیکشن سے پہلے عوام سے انتخابی جلسوں میں وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکالیں گے۔ مگر برسر اقدار آنے کے بعد تحریک انصاف کی معاشی ٹیم مکمل ناکام رہی اسد عمر نے وزارت خزانہ سے استعفی دیا تو ان کے بعد عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیا گیا جو ماضی میں عالمی بنک کے لئے کام کرتے رہے اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ملک کے مشیر خزانہ رہے۔ اپریل 2019 میں حفیظ شیخ کی تعیناتی کے بعد مئی 2019 میں ڈاکٹر رضا باقر کو پاکستان کے سٹیٹ بنک کا گورنر مقرر کر دیا گیا جو کہ سنہ 2000 سے آئی ایم ایف کے ساتھ منسلک تھے اور اِس وقت مصر میں عا لمی ادارے کے سینئر ریزیڈنٹ نمائندہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے
تحریک انصاف حکومت کی ان تعیناتیوں پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوۓ کہا کہ آئی ایم آیف کے موجودہ ملازم کی سٹیٹ بینک میں بطور گورنر تقرری افسوسناک ہے۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ نئے قرضوں کے معاہدے سائن کر دیئے جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایسا طوفان اٹھا کہ اب تھمتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان کے لیے ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی بن چکی ہے جسکے نمائندے مشیرِ خزانہ اور سٹیٹ بینک گورنر اور ڈپٹی گورنر کے عہدوں پر براجمان ہیں اور ملکی معیشت براہ راست عالمی مالیاتی ادارے کے کنٹرول میں چلی گئی ہے.
آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرنے کے لیے عائد ہونے والے نئے ٹیکسوں کے نتیجے میں لگ بھگ ایک سال کے دوران مہنگائی میں 30 سے 35 فیصد اضافے کے بعد اپوزیشن کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے حمایتی بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ حالات کنٹرول سے باہر ہوچکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی ہر بات مان رہی ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی عوام کودو وقت کی روٹی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا اور اب تو روٹی ہی دستیاب نہیں ہے۔
دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کا دعوی ہے کہ مشکل وقت گزر چکا ہے اب ملک کی معیشت سنبھل رہی ہے اور عوام کو اس سال ریلیف ملے گا لیکن اب آئی ایم ایف نے یہ کہتے ہوئے وزیر اعظم کے دعووں کی نفی کر دی ہے کہ رواں برس ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button