آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط کے باوجود وزیر اعظم نے پاکستان کے عوام کو زیادہ سے زیادہ رلیف فراہم کیا ہے اور بجٹ میں کیے گئے تمام اعلانات تاریخی ہیں۔

مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درپیش فوڈ سکیورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بجٹ میں جو اعلان کیا گیا ہے وہ تاریخی ہے، ملک میں تربیتی پروگرامز میں نوجوانوں کو زیادہ فروغ دینے اور انہیں چھوٹے کاروبار کے لیے تربیت دینے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ تمام صوبوں کے نوجوان اس میں حصہ لیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا آئی ایم ایف کی اتنی مشکل شرائط کے باوجود بھی انکم ٹیکس جس کی پہلے حد 6 لاکھ روپے سالانہ تھی، اس کو بڑھا کر 12 لاکھ روپے کردیا گیا ہے تاکہ جن کی سالانہ آمدنی 12 لاکھ ہے ان کو کسی قسم کا انکم ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے، چھوٹے کاروبار کو بھی سہولیات دی گئی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فلم انڈسٹری کے لیے بھی تاریخی اعلانات کیے گئے ہیں تاکہ ملک کے نوجوان زیادہ سے زیادہ فلم انڈسٹری، براڈکاسٹنگ کے اندر اپنے ثقافت کو فروغ دیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ فلم انڈسٹری میں سرمایہ کاری سے ملک کے مثبت قومی تشخص کو بھی فروغ ملے گا اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ فلم انڈسٹری کو ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے اور پاکستان میں پہلی بار اداکاروں کے لیے میڈیکل انشورنس متعارف کرائی جارہی ہے، گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستانی سنیما بالکل بند ہوگیا تھا اور معروف و تاریخی سنیما گھروں میں شادی ہال تعمیر ہوگئے۔

یادرہے کہ آج 10 جون وفاقی حکومت نے مالی سال 23-2022 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ’بائنڈنگ فلم فنڈ‘ اور ’نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نےشوبز انڈسٹری کے لیے مراعات کا اعلان کیا اور بتایا کہ حکومت فنکاروں کے لیے ’میڈیکل انشورنس پالیسی‘ کو متعارف کرانے جارہی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا سالانہ ایک ارب روپے فنڈ کے ساتھ ’بائنڈنگ فلم فنڈ‘ کے قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ ایک ارب روپے کی لاگت سے ’نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ، نیشنل فلم اسٹوڈیو اور پوسٹ پروڈکشن فیسلٹی سینٹر‘ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

Back to top button