آٹا غائب ہونے کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

شہری مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہوگئے جس سے عوام کو روٹی کے بھی لالے پڑگئے ہیں۔ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث ملک بھر میں آٹے کا بحران سنگین صورت اختیار کرگیا جس میں آنے والے دنوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ پاکستانی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ روز مرہ استعمال کی چیز آٹا پورے ملک میں نایاب ہوگیا ہے اور اس کی فی کلو قیمت 70 روپے پر جا پہنچی ہے.
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قلت اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ فیڈ ملز نے 7-8 لاکھ ٹن گندم کی اضافی مقدار استعمال کرلی ہے جو ایمرجنسی صورت حال کے لیے ہر وقت محفوظ رکھی جاتی ہے۔ غریبوں کے پاس تو آٹا خریدنے کے پیسے نہیں اور جن کے پاس پیسے ہیں ان کو آٹا ہی دستیاب نہیں ہو رہا۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق ملک بھر میں یہ بحران گندم کی سپلائی بروقت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر حکومت اور متعلقہ افراد کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو بحران میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمتوں میں کم از کم 100 روپے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اضافہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس میں کئی عناصر شامل ہیں لیکن بنیادی طور پر اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے جس نے اس حوالے سے کوئی پیشگی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان عاصم رضا احمد کا کہنا تھا کہ پورے پنجاب میں فلور ملز کا آٹا 783 روپے ایکس مل اور 805 روپے میں ریٹیل ہورہا ہے۔ پنجاب میں چکی مالکان نے آٹے کے ریٹ بڑھا دیے ہیں اسی وجہ سے بحران کی صورت حال بنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہبلوچستان میں چونکہ گندم نہیں دی گئی اور اب تک ان کے پاس گندم موجود نہیں ہے اس لیے صوبائی سطح پر قیمتوں میں فرق ہے۔ نجی مارکیٹ سے گندم خرید کر ٹرانسپورٹرز انہیں خاصی زیادہ قیمتوں پر پہنچاتے ہیں۔ اسی لیے وہاں آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور سندھ میں بھی نقل و حمل کا مسئلہ ہے۔ دھند کے باعث آٹا وقت پر پہنچ نہیں پا رہا۔ دوسری طرف چکی آٹا ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین لیاقت ملک نے اس بحران کی وجہ بجلی کے بل اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت انہیں مناسب قیمت پر معیاری گندم فراہم کرے تا کہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے بتایا کہ حکومت اس صنعت سے منسلک لوگوں سے مذاکرات کر رہی ہے اور امید ہے کہ جلد یہ مسئلہ باہمی اتفاق سے حل کر لیا جائے گا۔ ترجمان نے تسلیم کیا کہ آمد و رفت اور دیگر مسائل کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم کی کمی واقع ہوئی ہے جسے پورا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی مارکیٹ میں ہمیشہ گندم موجود ہوتی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ یہ گندم فیڈ ملز کو دے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قلت اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ فیڈ ملز نے 7-8 لاکھ ٹن گندم کی اضافی مقدار استعمال کرلی ہے جو ایسی ہی صورت حال کےلیے ہر وقت محفوظ رکھی جاتی ہے۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان عاصم رضا احمد کہتے ہیں فیڈ ملز کو گندم دینے کا حکومتی فیصلہ غلط تھا۔ اگر فیڈ ملز کو 7-8 لاکھ ٹن گندم نہ دی جاتی تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی۔ گندم درآمد کرنے سے متعلق پاکستان فلور ملز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم ڈیڑھ دو مہینے سے مطالبہ کررہے ہیں لیکن چند دن قبل تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ گندم درآمد کرنے سے مسئلہ حل ہو سکے گا۔
ملک کے باقی حصوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی آٹے کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ صوبائی وزیرِ خوراک قلندر خان کا کہنا ہے کہ ملک میں آٹے کی قلت کے حوالے سے تمام باتیں وزیراعظم کے علم میں آ گئیں ہیں اور ہم باہر سے بھی گندم منگوا رہے ہیں۔ پیر تک ریلیف مل جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ بحران جیسی صورت حال نہیں ہے اور ان کے صوبے کے پاس مئی تک کےلیے وافر مقدار میں گندم موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا وقتی طور پر پنجاب نے مانیٹرنگ کی غرض سے کچھ سختی کی ہے۔ چونکہ سارے صوبے پنجاب پر انحصار کرتے ہیں اس لیے اگر اس طرح ایک دو دن کےلیے گندم روکی جاتی ہے تو باقی صوبوں کو کچھ مشکلات ہو جاتی ہیں۔ ان سے جب باقی صوبوں میں بحران کی صورت حال کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں ہماری ایک حکومت ہے۔ یہ ریلیف سارے ملک کےلیے ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button