کیا بزدار اورنج ٹرین چلائیں گے یا پھر ماموں بنائیں گے؟

چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے اورنج لائن ٹرین مارچ میں عوام کیلئے ہر صورت چلانے کی ہدایت توکر دی ہے لیکن پنجاب حکومت اورنج ٹرین آپریشنل کرنے کی حتمی تاریخ دینے سے گریزاں ہے۔
اورنج ٹرین منصوبے کے تعمیراتی ڈھانچے، بجلی کے نظام اور دیگر حصوں کے سیفٹی آڈٹ کی عدم تکمیل اور ٹریں کو چلانے کا ٹھیکہ تاحال کسی کو ایوارڈ نہ کرنے کی وجہ سے اورنج ٹرین 23 مارچ کو عوام کیلئے چلتی نظر نہیں آتی۔ لاہور میں میگا ٹرانسپوٹ سسٹم کے حوالے سے بڑا فیصلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں اورنج لائن ٹرین سے متعلق چائنیز ٹھیکیدار وں کوبروقت کام مکمل کر کے 23 مارچ سے میٹرو ٹرین عوامی سفر کے لیے کھولنے کی ہدایت کی گئی۔ پنجاب حکومت ذرائع کے مطابق دو ماہ میں اورنج لائن کا افتتاح انتہائی مشکل ہے جس کی وجہ سے حکومت نئی تاریخ کا بضابطہ اعلان نہیں کر رہی۔
ٹرین چلانے کا ڈھانچہ محفوظ قرار دینے کے حوالے سے تاحال اورنج ٹرین منصوبے کے تعمیراتی ڈھانچے، بجلی کے نظام اور دیگر حصوں کا سیفٹی آڈٹ مکمل نہیں کیا گیا ہے۔ جس کے بغیر اورنج ٹرین کو آپریشنل کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ سیفٹی آڈٹ کیلئے تعمیراتی کاموں کی ٹھیکیدار کمپنیوں نے کم از کم 2 سے 3 ماہ کا وقت مانگا ہے جبکہ دوسری طرف جن کورین اور چینی کمپنیوں کے جوائنٹ وینچر نے 11 سال کیلئے ٹرین چلانے اور اس کی دیکھ بھال کا ٹھیکہ لینا ہے اس کے ساتھ ابھی حکومت پنجاب کا تحریری معاہدہ ہی نہیں ہوا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سیفٹی آڈٹ اور جوائنٹ وینچر کے حوالے سے باقاعدہ معاہدے کے بعد متعلقہ کمپنیاں ٹرین چلانے کے انتظامات کیلئے کم از کم 6 ماہ کا وقت مانگ رہی ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ پنجاب حکومت کیلئے 23 مارچ 2020 کی مقرر کردہ تاریخ تک کسی صورت اورنج ٹرین آپریشنل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔
اکتوبر 2015 میں شہبازشریف کے دور حکومت میں شروع کیا گیا منصوبہ 27 ماہ میں مکمل ہونا تھا تاہم اب تقریبا 2 سال سے زائد کی تاخیر کے بعد بھی نامکمل ہے۔ چار سال سے زائد عرصے میں پاکستان اور چائنہ کے باہمی اشتراک سے زیر تکمیل اس مہنگے ترین منصوبے پر مجموعی طور پر 264 ارب روپے سے زائد لاگت آچکی ہے جبکہ اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ کا ابتدائی تخمینہ 164 ارب روپے لگایا گیا تھا یعنی اس منصوبے پر اصل لاگت سے سو ارب روپے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے دور میں شروع کئے جانے والے اورنج لائن ٹرین کے منصوبے کے حوالے سے ایگزم بینک آف چائنہ نے بینک آف پنجاب کو 1.62 بلین ڈالر دینے کا معاہدہ کیا جس کے بعد ٹرین پر تعمیراتی کام کے منصوبے کو چار پیکجز میں تقسیم کیا گیا۔ ڈیرہ گجراں سے چوبرجی تک پیکج ون کیلئے 21 ارب 49 کروڑ کا کنٹریکٹ ایوارڈ کیا گیا جبکہ منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز دو اکتوبر 2015 کو ہوا۔
پی سی ون کے مطابق 164 ارب روپے کی لاگت سے ٹرین منصوبہ 27 ماہ میں مکمل ہونا تھا مگر 50 ماہ گزرنے کے باوجود تعمیراتی کام ابھی باقی ہے جبکہ پراجیکٹ تاخیر کا شکار ہونے سمیت مختلف وجوہات کی بناء پر منصوبے کا لاگت میں 100 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے اور منصوبہ ابھی بھی نا مکمل ہے۔
منصوبے میں تاخیر کے باعث اس کی لاگت میں تقریباً 15 ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ روپے کی قدر گرنے سے اس کی لاگت 160 ارب روپے سے بڑھ کر 250 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اس لاگت میں حکومت پنجاب کی طرف سے زمین کی خریداری، سڑکوں کی تعمیر، بجلی، گیس اور دیگر تنصیبات پر اٹھنے والے 40 سے 50 ارب روپے کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔
