اب PMLN اور JUI استعفے کیوں نہیں دیتیں؟

مسلم لیگ نواز اور جمیعت علماء اسلام کی جانب سے پیپلز پارٹی کی قیادت پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کرنے کا الزام لگا کر پی ڈی ایم توڑنے والی دونوں جماعتوں سے پیپلزپارٹی والے یہ سوال کر رہے ہیں کہ اب وہ لانگ مارچ کیوں نہیں کر رہیں اور اسمبلیوں سے استعفے کیوں نہیں دیتیں۔ پیپلزپارٹی والے یہ الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ اصل میں نواز لیگ کی قیادت بھی اسمبلیوں سے استعفے نہیں دینا چاہتی تھی لیکن اس نے اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے لانگ مارچ کو فوری استعفوں سے مشروط کر کے سارا ملبہ پیپلزپارٹی پر ڈال دیا۔ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے لانگ مارچ میں شرکت سے کبھی انکار نہیں کیا لیکن اسکی ملتوی کرنے کرنے کا۔ملبہ بھی مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلزپارٹی کے کھاتے میں ڈال دیا۔ چنانچہ اب جیالے یہ سوال کر رہے ہیں کہ نواز لیگ اور جمیعت علماء اسلام والے لانگ مارچ کب کریں گے اور استعفے کب دیں گے؟
مشہور زمانہ نظم میں باغی ہوں لکھنے والے پیپلزپارٹی کے جیالے رہنما خالد جاوید جان اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سوال کرتے ہیں کہ کیا کسی دوسری سیاسی جماعت نے ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصف زرداری جتنے ظلم و ستم برداشت کیے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ نواز شریف ہر مرتبہ قید ہونے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرنے کی بجائے بیرونِ ملک نکل جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں؟ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا آصف علی زرداری کی جانب سے نواز شریف کو وطن واپس آکر سیاسی جدوجہد کرنے کا مشورہ اتنا بڑا جرم تھا کہ اس کی پاداش میں پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کو ہی توڑ دیا گیا۔ خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ ستمبر 2020 میں بلاول بھٹو کی انتھک کوششو ں سے تشکیل پانے والے اپوزیشن اتحاد کو ختم کرنے کے لئے مسلم لیگ نواز اور جے یو آئی نے جس طرح پیپلز پارٹی اور اے این پی کو شو کاز نوٹس بھیجے اور ان کی سیاسی ساکھ کو عوام میں مجروع کرنے کی کوشش کی وہ ایک باقاعدہ سکرپٹ کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ پی ڈی ایم ایک سیاسی اتحاد ہے جس میں شامل تمام جماعتیں واحد، متفقہ مقصد کے لئے اکٹھی ہوئی تھیں۔ یعنی موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو ختم کرنا اور ملکی سیاست میں غیر جمہوری طاقتوں کی دیرینہ دخل اندازی کو روکنا۔ اتحاد میں تمام جماعتیں اپنی آزادانہ جماعتی حیثیت سے شامل ہوئیں اور اس میں کسی جماعت کی بالا دستی کا کوئی تصّور نہیں تھا۔ لہٰذا کسی اختلافِ کی صورت میں ضروری تھا کہ اسے میڈیا میں لانے کی بجائے اتحاد کے اندر اس پر بات کی جاتی نہ کہ اتحادی جماعتوں کو شوکاز نوٹس بھیجے جاتے۔ خالد جاوید جان کا موقف ہے کہ شوکاز نوٹس اپنے ماتحتوں کو بھیجے جاتے ہیں لہٰذا اتحادی جماعتوں کو شوکاز نوٹس بھیجنا نہ صرف ان کی توہین کے زمرے میں آتا ہے بلکہ اس کا پوشیدہ مقصد اس اتحاد کو سبوتاژ کرنا اور اس کی آڑ میں اپنے دیگر مقاصد پورے کرنا تھا۔ اسی توہین آمیز رویے کے خلاف اے این پی اور پیپلزپارٹی نے احتجاج کے طور پر پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔
خالد جاوید کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم نے اپنے 6 ماہ کے اتحاد کے دوران جلسے جلوسوں سے لیکر ضمنی اور سینیٹ کے انتخابات کے دوران جو کامیابیاں حاصل کی تھیں انہوں نے موجودہ حکومت اور اس کے سرپرستوں کو بیک فٹ پر لا کھڑا کیا تھا۔ ایسے میں یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں دھاندلی کے ذریعے شکست کے بعد نواز لیگ کے طلال چودھری کی بلاول بھٹو زرداری کے خلاف طنزیہ ٹویٹ کا کوئی جواز نہ تھا۔ لیکن محترمہ مریم نواز نے طلال چودھری سے باز پرس کرنے کی بجائے اپنی ٹویٹ میں بلاول بھٹو کو نیا سلیکٹڈ قرار دے کر جلتی پر تیل کا کام کردیا۔ اگر پیپلز پارٹی کے کسی اقدام سے نواز لیگ پا پی ڈی ایم کی کسی جماعت کو اختلاف تھا تو اس کا واحد طریقہ پی ڈی ایم کے اندر اس کی وضاحت مانگنا تھا۔ اپنی حلیف جماعتوں پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کا کھلے عام الزام لگانا نہ صرف سیاسی نا پختگی کا مظاہرہ ہے بلکہ دوسری جماعتوں کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ بھی ان کے ماضی اور حال کی ان سازشوں کا کھلے عام اظہار کریں جنہیں وہ اپنے ’’اتحاد‘‘ کے تقاضوں کے تحت بیان نہیں کرنا چاہتے۔
خالد جاوید جان کے مطابق پیپلز پارٹی پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کا الزام لگانے والے کیا اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ اس کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے خاندان نے اپنی جانوں کی قربانی سے لے کر سالوں تک جو صعوبتیں برداشت کی ہیں، کیا ان کا عشر ِ عشیر بھی نواز لیگ سمیت کسی اور سیاسی جماعت نے بھگتا ہے؟ کیا ذوالفقار علی بھٹو اپنی جان بچانے کے لئے معافی مانگ کر بیرونِ ملک سیاسی پناہ حاصل نہیں کر سکتے تھے؟ کیا وجہ ہے کہ نواز شریف ہر مرتبہ ملک میں رہ کر فوجی اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرنے کی بجائے بیرونِ ملک نکل جاتے ہیں؟ خالد جاوید کہتے ہیں کہ ماضی بعید کو تو چھوڑیے ماضی قریب میں بھی میاں صاحب جیل کی تکلیفیں برداشت نہیں کر سکے۔ کیا نواز لیگ کے ترجمان عوام کو اس ’’ راز‘‘ سے آگاہ کر یں گے کہ انہیں کس نے کس ڈیل کے تحت بیرونِ ملک روانہ کیا تھا اعر وہ بیرونِ ملک جا کر ایک طویل عرصے تک کیوں خاموش بیٹھے رہے۔ یہ بھی بتایا جائے کہ جب میاں صاحب کے ترجمان محمد زبیر نے آرمی چیف سے ’’اتفاقیہ‘‘ ملاقات کی تو اس کے بعد اچانک بیرونِ ملک مقیم میاں صاحب کیوں سیخ پا ہو گئے؟
خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ نواز حکومت کو ختم کرنے اور عمران خان کو اقتدار میں لانے والے جنرل باجوہ کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کی نواز شریف نے حمایت کیوں کی؟ سوال یہ بھی ہے کہ سینیٹ الیکشن میں کس کے کہنے پر مسلم لیگ نے پنجاب میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کے ساتھ ملکر کامل علی آغا کی اضافی سیٹ بھی حکومتی کھاتے میں ڈال دی۔ سوال یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں کیوں جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کیا؟ مسلم لیگ اور جے یو آئی نے کیوں اچانک لانگ مارچ کو استعفوں کے ساتھ نتھی کردیا جبکہ پی ڈی ایم اسمبلیوں کے اندر رہ کر حکومت کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔
خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عوامی حاکمیت یا عوام کے حقیقی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ پی ڈی ایم جیسے اتحاد کو مضبوط بنایا جائے۔ کیونکہ اکیلے کوئی پارٹی بھی یہ جنگ نہیں جیت سکتی۔ کاش نواز شریف جس حکمتِ عملی سے ہر مرتبہ اپنی جان بچا کر بیرونِ ملک فرار ہو جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اس طرح کی حکمتِ عملی سے وہ پاکستان میں جمہوریت اور عوامی حاکمیت کو بحال کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔ وگرنہ وہ ڈیل کے الزام کی ایک انگلی دوسروں کی طرف اُٹھائیں گے تو چار انگلیاں انکی طرف بھی اٹھیں گی۔
