کیا وفاق میں اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی بنے گی؟

اس عمومی تائثر کے برعکس کہ عمران حکومت ختم ہونے کے بعد وفاق میں اگلی حکومت نواز لیگ کی ہوگی، سازشی نظریہ رکھنے والے اس امکان کا اظہار کر رہے ہیں کہ وفاق میں اگلا اقتدار پیپلزپارٹی کا بھی ہو سکتا یے۔

سازشی نظریہ رکھنے والے کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں ویسے ہی حالات پیدا ہو رہے ہیں جیسے کہ 2008 کے انتخابات سے پہلے تھے۔ تب برسر اقتدار جنرل مشرف کو جلا وطن بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو وطن واپس آنے کی اجازت دینا پڑی تھی اور 2008 کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی رہنماؤں نے پیپلز پارٹی میں شامل ہونا شروع کر دیا تھا۔ سازشی نظریہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نواز لیگ نے فوجی قیادت کے خلاف بیانیہ اپنا کر اپنے اقتدار میں آنے کے امکانات مکمل طور پر ختم کر دیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اب اگر نواز لیگ میں سے کسی کے اقتدار میں آنے کا امکان ہے تو وہ یا تو شہباز شریف ہیں یا حمزہ شہباز شریف۔ سازشی نظریہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں عمران خان کے جانے کے بعد اگر کسی کا مستقبل ہے تو وہ مفاہمتی بیانیہ رکھنے والوں کا ہے۔ شاید اس بات کو شہباز شریف کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت بھی سمجھ چکی ہے اور اسی لیے وہ بھی نواز شریف کی طرح مزاحمتی بیانیہ اپنانے کی بجائے مفاہمتی بیانیہ اپنائے ہوئے ہے۔

دوسری طرف نواز شریف اور انکی بیٹی مریم نواز سخت ترین اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنائے ہوئی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ چل رہے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے دینے سے انکار کے بعد مولانا فضل الرحمن بھی بیک فٹ پر چلے گئے ہیں اور بیماری کی آڑ میں سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں۔

اسی دوران پیپلز پارٹی کی طرف سے پنجاب میں تبدیلی لانے کے حوالے سے بلاول بھٹو کے حمزہ شہباز کے ساتھ رابطے بھی عندیہ دیتے ہیں کہ اسٹیبلشمینٹ نواز مسلم لیگ میں پہلے سے موجود تقسیم کو مزید اجاگر کرتے ہوئے مفاہمت کی سیاست کرنے والے شہباز اور حمزہ کو پنجاب میں اقتدار دینے کے بارے میں سوچ رہی یے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اب تک کی صورت حال میں جو سب سے نمایاں پیش رفت ہونا ابھی باقی ہے وہ مولانا فضل الرحمان کا نواز لیگ کی کشتی سے کودنا ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ مولانا شاید اس وقت یہ تعین کرنے میں وقت لگا رہے ہیں کہ آیا فوجی اسٹیبلشمینٹ دس نواز لیگ ڈیل کرنے میں کامیاب ہو گی یا پیپلز پارٹی۔ اس کے باوجود کہ مولانا ابھی تک نواز لیگ کے بیانیے کا طوق گلے میں ڈالے ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے نکلنے کے بعد اگر پی ڈی ایم ٹوٹ جاتی ہے تو مولانا باآسانی سیاسی دنگل میں کچھ دیر کا قیلولہ لینے کے بعد پیپلز پارٹی کے ٹانگے میں سوار ہو سکتے ہیں، جس میں بظاہر اگلی حکومتی سواریاں بیٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بات بھی غور طلب ہے کہ دس جماعتی حکومت مخالف اتحاد میں سے پیپلز پارٹی نے ہی سب سے پہلے استعفے دینے سے انکار کیا اور نواز شریف کی واپسی کا مطالبہ کر کے ان پر حملہ آور ہوگئی۔بظاہر لگتا ہے کہ ممکنہ طور پر پیپلز پارٹی کپتان کی حکومت کو اقتدار کی باقی ماندہ مدت پوری کرنے دے گی تاکہ پیپلز پارٹی خود بھی سندھ حکومت کے بقیہ اڑھائی سال پورے کر لے۔ اس دوران جہانگیر ترین جیسے سیاسی رہنما اگر پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں تو ان کی مدد سے وہ پنجاب میں اپنی پوزیشن اگلے الیکشن سے پہلے بہتر بنا سکتی یے کیونکہ یہاں سے سیٹیں لئے بغیر اقتدار میں آنا مشکل ہے۔

تاہم دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ذرائع نے اس طرح کے سازشی نظریات کو شیخ چلی کی کہانیاں قرار دے کر مسترد کر دیا یے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھٹو کی جماعت نے کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کر کے پچھلے دروازے سے اقتدار میں آنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہ عوام کی طاقت پر یقین رکھتی ہے انہیں کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتی ہے۔ لہذا ایسا سوچنا بھی ناممکن ہے کہ پیپلز پارٹی کبھی عوام کی بجائے فوج کی مدد سے۔پاور پالیٹیکس دے اقتدار میں آنے کی کوئی سازش کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button