عمران خان کا ووٹر کیوں اور کیسے مایوس ہوئے؟

کہا جاتا ہے کہ قائد عوام کہلانے والے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے جیالوں کو ساتھ ملا کر سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑکوں تک لانے کا کارنامہ سر انجام دیا تو عمران خان نئے ووٹر کو گھروں سے نکال کر پولنگ اسٹیشن تک لانے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن انکے دور اقتدار میں ناقابل برداشت مہنگائی اور بے یقینی کی فضا کے باعث یہ رومانس اب تقریباً ختم ہوچکا ہے اور کپتان کا ووٹر مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہے۔

سنیئر صحافی اور کالم نگار مظہر عباس اپنے تازہ تجزیئے میں لکھتے ہیں کہ میں بھٹو سے لے کر عمران خان تک پرانے اور نئے سیاسی کارکنوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے اندر سیاست کا رومانس ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ اب یہ لوگ مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔ اب تو فیض احمد فیض، ھبیب جالب اور احمد فراز کا زمانہ بھی نہیں رہا، جن کی انقلابی شاعری اپنے وقت کے حکمرانوں کو خوف میں مبتلا کر دیتی تھی۔ ویسے بھی ہمارے معاشرے میں اب جینے کے کم اور مرنے کے مواقع زیادہ پائے جاتے ہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ لیڈر امید دیتا ہے، حوصلہ بڑھتا ہے اور لوگ دیوانہ وار اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ کوئی اس کی تقریر کا دیوانہ توکوئی تصویر کا۔ تیسری دنیا میں ایسی ہی سیاست رہی ہے۔ اب آپ اسے شخصیت پرستی کا نام دیں یا دیوانہ پن۔ لیکن اصل امتحان اس سیاسی کارکن کا ہوتا ہے جو اس سیاسی رومانس سے جڑا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان پچاس سالوں میں بھٹو کا سیاسی رومانس بھی دیکھا ہے اور بے نظیر بھٹو کا بھی۔ لیکن آج جب میں اس سیاسی کارکن سے بات کرتا ہوں تو مایوسی نظر آتی ہے۔ نواز شریف بھی سیاست میں ایک نیا مزاج لے کر آئے اور پنجاب کے عوام کو اپنا ہمنوا بنایا۔ ان میں لڑنے کی لگن تو تھی مگر جیل میں لمبا عرصہ رہنے کا حوصلہ کم نظر آیا لہٰذا انہوں نے قید سے نکلنے کے لیے دوبارہ ڈیل کر لی اور باہر چلے گے۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ عمران خان اہنے ساتھ نئے سیاسی کارکن لے کر آئے۔ وہ سکرین کے ہیرو تو تھے ہی لہٰذا کارکن بھی ان کے ساتھ اسی انداز میں جڑے رہے۔ مگر آج ان میں بھی مایوسی کا عنصر نمایاں ہے خصوصا جب وہ مہنگائی کی سونامی کو تبدیلی کے سونامی پر حاوی دیکھتے ہیں۔ اب وہ سیاسی رومانس جو پی ٹی آئی کے ورکر میں 2013 اور 2018 میں عروج پر تھا، ماند پڑ رہا ہے۔اگر بھٹو سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑکوں تک لے آیا تو عمران ایک نئے ووٹر کو گھروں سے نکال کر پولنگ اسٹیشن تک ضرور لے گیا۔ مگر جس طرح ہر عروج کو زوال ہے اسی طرح ہر رومانس کے ساتھ مایوسی جڑی ہے۔ مظہر عباس کے بقول عمران سے بھی وہی غلطی ہوئی جو 70کی دہائی میں بھٹو سے ہوئی۔ بھٹو نے 22خاندانوں کو چیلنج کیا۔ جاگیردار ہوتے ہوئے ان سے لڑائی مول لی مگر پھر مجبور ہو کر نظریاتی ساتھیوں کو چھوڑ دیا اور جاگیرداروں کو ساتھ ملا لیا۔ بعد میں انہی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے مل کر بھٹو مخالف تحریک کی نہ صرف مالی امداد کی بلکہ مارشل لا کے بعد بھٹو کو پھانسی دلوانے میں بھی مدد کی۔

اسی طرح عمران خان نے بھی سیاست کے دو بڑے خاندانوں کو نشانہ بنا کر کرپشن مخالف بیانیہ تو بنا دیا مگر بعد میں انہی دو جماعتوں کے کرپٹ لوگوں کو ساتھ ملا لیا۔ یوں پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن پیچھے رہ گے۔ 2013 کے عام انتخابات میں عمران خان کو پہلی بڑی سیاسی کامیابی تب ملی جب خیبر پختونخوا میں بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کو پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے فارغ کر دیا۔ یہ کچھ ایسا ہی تھا جیسے 1987 میں کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ نے کیا تھا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ 2013 کے الیکشنز میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا سحر برقرار تو رہا مگر پی ٹی آئی بھی ایک بڑی جماعت بن کر ابھری۔ ان الیکشنز سے کچھ ماہ پہلے عمران خان سے بڑی سیاسی غلطی پارٹی کے اندر الیکشن کی ہوگئی جس سے اندرونی اختلافات منظر عام پر آ گئے۔ فارن فنڈنگ کیس بھی اس وقت سامنے آیا اور جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی گروپس بھی کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ پارٹی الیکشن کی ذمہ داری ایک ایماندار جسٹس وجیہہ الدین کے سپرد تھی۔ پارٹی کے بانی رکن حامد خان نے الیکشن کو چیلنج کیا تو پارٹی الیکشن کمیشن نے ترین اور علیم خان کے خلاف فیصلہ دیا۔ ترین نے اپنے سیاسی تجربہ کا فائدہ اٹھایا۔ 2013 کے الیکشن میں خان صاحب اتنی نمایاں کامیابی کے بعد بھی مایوس تھے۔ ایک روز ترین نے خان صاحب کے سامنے پنجاب کے الیکشن کا تفصیلی چارٹ رکھ دیا اور بتایا کہ ان کے نظریاتی لوگ کیوں ہار گئے۔ لہٰذا خان کو قائل کیا گیا کہ الیکٹ ایبلز کے بغیر اقتدار میں نہیں آ سکتے۔ اس فیصلے سے نظریاتی کارکنوں کو مایوسی تو ہوئی مگر وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے۔ 2014 میں اسکام آباد میں 126 دن کا تاریخی دھرنا ہماری سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی عمل تھا۔ اس دھرنے کے نتیجے میں جو جوڈیشل کمیشن بنا اس کا فیصلہ الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے کپتان کیلئے مایوس کن تھا۔ اتنے میں 2016 میں پانامہ لیک سامنے آئی تو عمران کی سیاست کو نیا بیانیہ مل گیا۔ میاں صاحب نااہل ہو گئے۔ 2018 کا الیکشن آیا تو خان صاحب اسٹیٹس کو اور اینٹی اسٹیٹس کو کے درمیان کھڑے تھے۔ ان کے اردگرد اب ایسے لوگ جمع ہو چکے تھے جو اپنے اپنے انداز میں مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور پرویز مشرف کے دور کے مزے لوٹ کر آئے تھے۔ کپتان نے شاید ایمپائر پر ضرورت سے زیادہ انحصار کر لیا۔

مظہر عباس کے مطابق آپ سیاسی مافیا کیخلاف جنگ وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کے ساتھ مل کر نہیں لڑ سکتے۔ کپتان نے 2018 کا کمزور اقتدار لینے کی وہی غلطی کی جو 1988 میں بے نظیر بھٹو نے کی تھی۔ ایسے میں بہتر تھا کہ حزبِ اختلاف میں بیٹھا جائے۔
اب پچھلے ڈھائی سال سے کپتان حکومت مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کے سہارے کھڑی ہے جو خود کسی اور کے سہارے کھڑے ہیں۔ لیخن کپتان خوش قسمت ہے کیون کہ اسکے سامنے ایک ایسی اپوزیشن ہے جو مسلسل غلط شارٹ کھیلنے پر بھی بال کیچ نہیں کر پاتی۔ ویسے بھی یہ سیاست ہے، کھیل نہیں۔ یہاں کیچ نہیں کیش پکڑا جاتا ہے۔ اب جب کہ عمران خان کے لیے اپوزیشن کا چیلنج کمزور پڑتا جا رہا تھا تو انکی ٹیم کے اندر ہی بغاوت ہو گئی۔ ایسے میں عمران خان کو جسٹس وجیہہ الدین اور تسنیم نورانی تو یاد آئے ہونگے۔ اب کپتان کے پاس آپشن کیا ہے۔ ترین کو ریلیف یا ترین سے ریلیف۔ ایک بار خان نے 20 ایم پی اے۔پارٹی سے نکالے تھے لیکن اسکے بعد سبق مل گیا تھا اور مذید ہمت نہ ہوئی۔ اب تو بات کھل گئی ہے کہ کپتان کے کن ساتھیوں نے سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا اور ترین کے ساتھ ناشتے سے ڈنر تک رہنے والے کون لوگ ہیں۔ اب خان نے حکومت قربان کرنی ہے یا اہنا بیانیہ؟ انہیں کوئی ایک فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اقتدار یا اقدار میں سے ایک کو چننا پڑے گا۔

مظہر عباس کے مطابق اس وقت سیاسی انتشار کے معاملے میں PTI اور PDM ایک صفحہ پر ہیں۔ دونوں طرف ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے۔ شاید کچھ سخت فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ عین ممکن ہے بلوچستان کی طرح پنجاب میں بھی کوئی باپ سامنے لایا جائے اور حکومت کے خاتمے کا آغاز کر دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button