اداکارسہیل احمد کے والد ان کے ڈرامے کیوں نہیں دیکھتے؟

معروف لکھاری اور سٹیج اداکار سہیل احمد نے سٹیج ڈراموں کے ساتھ ساتھ فلموں اور ٹی وی ڈراموں کو بھی بداخلاقی اور بے امنی کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے، سہیل احمد گزشتہ پانچ دہائیوں سے شوبز انڈسٹری کا حصہ ہیں، درجنوں ڈراموں اور فلموں سمیت تھیٹرز میں کام کیا ہے۔سہیل احمد ڈرامے لکھتے بھی رہے ہیں، متعدد ڈراموں کو پروڈیوس بھی کیا جب کہ انہوں نے ہدایت کاری بھی کر رکھی ہے، وی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹی وی اور فلموں کے معاشرے پر پڑنے والے اثرات سمیت دیگر معاملات پر بھی بات کی، 42 سال قبل جب انہوں نے اداکاری شروع کی، اس وقت پاکستانی معاشرہ تنگ نظر اور سادہ تھا، اس وقت ہر کسی کو شوبز میں آنے کی وجہ سے خاندان کی سختیاں برداشت کرنی پڑتی تھیں۔ان کے مطابق انہیں بھی خاندان اور خصوصی طور پر والد کی جانب سے سختیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن چوںکہ اداکاری کرنا ان کا جنون اور شوق تھا، اس لیے انہوں نے ایسی پابندیوں کی پرواہ نہیں کی، سہیل احمد نے اعتراف کیا کہ ان کے والد نے ان کا کوئی ڈراما نہیں دیکھا تھا، وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ شوبز والے ان ہی موضوعات پر ڈرامے اور فلمیں بناتے ہیں جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پروڈیوسرز کو ان موضوعات پر ڈرامے اور فلمیں بنانی ہی نہیں چاہئے جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں، کیوںکہ لوگ تو بہت کچھ دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق مواد نہیں بنایا جا سکتا، ہدایت کار ایسا مواد تیار کریں جو ہر کوئی اسے دیکھنے پر مجبور ہو جائے، پاکستانی سماج میں پھیلی بدامنی، بداخلاقی اور پست ذہنیت میں پاکستانی ڈراموں اور فلموں کا بھی ہاتھ ہے۔سہیل احمد نے مثال دی کہ سلطان راہی جیسے بہترین اداکار سے خاص موضوعات پر جاہلانہ قسم کی فلمیں کروائی گئیں اور وہ پوری زندگی پینٹ اور شرٹ دھلوا کر اس اُمید پر دنیا سے چلے گئے کہ کبھی ان سے اچھی فلم بھی کروائی جائے گی، فلموں میں 40 اور 50 خون کرنے والے افراد کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا اور درجنوں پولیس مقدمات کا سامنے کرنے والے کرداروں کو بھی شریف شخص کے طور پر دکھایا گیا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں علامہ اقبال جیسے شاعر پیدا ہوئے، وہاں پر سینسر بورڈ نے سینما اسکرینز پر ایسی بیہودہ شاعری دکھانے کی اجازت دی، جسے سن کر اور دیکھ کر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔حکومت کو فلم اور ڈراموں کے اسکرپٹس کو یونیورسٹیز کے زبانوں کے شعبوں سے منسلک کرنا چاہیے، وہاں سے سکرپٹ منظور کروا کر اس پر فلم یا ڈراما بنایا جانا چاہئے تاکہ معیاری مواد بن سکے اور پھر سینسر کی نوبت بھی نہ آئے، دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستانی سماج میں پھیلی بداخلاقی، پست ذہنیت اور بدامنی سمیت دیگر فرسودہ روایات میں فلموں اور ڈراموں کا بھی ہاتھ ہے۔

Back to top button