ادویات کے بغیر بلڈ پریشر کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کیلئے کوئی نیا طریقہ علاج تو دریافت نہیں ہو سکا، البتہ اس کو کم کرنے کیلئے نئی تجاویز سامنے آئی ہیں جن میں یومیہ 45 منٹ تک مراقبہ، تنہائی میں بیٹھ کر گہری سانسیں لینا، میوزک سننا، اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہنا بلد پریشر جیسے مرض کو کم کر سکتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر سے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب افراد متاثر ہیں، یعنی تقریبا ہر چوتھا شخص اس بیماری میں مبتلا ہے اور اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ زیادہ تر افراد کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا، ہائی بلڈ پریشر سے عارضہ قلب اور فالج سمیت دیگر سنگین بیماریاں لاحق ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے دنیا بھر میں سالانہ لاکھوں قبل از وقت اموات بھی ہوتی ہیں۔ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے متعدد غیر طبی اور سائنسی طریقے موجود ہیں اور ماہرین صحت بھی ایسے طریقوں کو آزمانے کی ہدایات کرتے رہتے ہیں، حال ہی میں بلڈ پریشر سے متعلق تحقیق کرنے والی تنظیموں کے ماہرین نے نئی ہدایات جاری کی ہیں، جن میں لوگوں کو تجاویز دی گئی ہیں کہ وہ عام روایتی طریقے اپنا کر بھی ہائی بلڈ پریشر کو کم کر سکتے ہیں۔طبی جریدے ’’جرنل آف ہائپرٹینشن‘‘ میں شائع تحقیق کے مطابق دنیا کے 18 ممالک کے ماہرین نے بلڈ پریشر کو قابو کرنے کے لیے نئی روایتی ہدایات جاری کی ہیں، انٹرنیشنل سوسائٹی آف ہائپرٹینشن، ورلڈ ہائپر ٹینشن لیگ اور یورپین سوسائٹی آف ہائپر ٹینشن کے ماہرین نے نئے رہنما روایتی طریقے بتائے ہیں، جن کی مدد سے ہائی بلڈ پریشر کو آسانی سے قابو کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح ماہرین نے تجاویز دی ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد کو ہر وقت شکر گزار رہنا چاہئئے، انہیں منفی خیالات اور سوچوں سے دور رہنا چاہئے، ہر وقت دوسروں کی مدد کرنے سمیت مثبت سوچ رکھیں، ہائی بلڈ پریشر کو یوگا، جسمانی ورزش، صحت مند غذائیں کھانے کے علاوہ ہفتہ وار کم از کم تین مرتبہ نصف گھنٹے تک اپنی پسندیدہ موسیقی سننے سے بھی کم کیا جا سکتا ہے، غیر سائنسی اور غیر طبی تجاویز دیے جانے پر بعض ماہرین صحت نے تشویش کا اظہار بھی کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے عام افراد ادویات اور بلڈ پریشر کی تشخیص و علاج سے دور ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ صحت مند افراد کا بلڈ پریشر 90/60 اور 120/80 کے درمیان ہونا چاہئے، جبکہ مسلسل 140/90 بلڈ پریشر کو ہائی بلڈ پریشر تسلیم کیا جاتا ہے، ڈبلیو ایچ او نے پہلی بار بلڈ پریشر سے متعلق اپنی جامع رپورٹ جاری کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک شخص جبکہ پاکستان کے 3 کروڑ 22 لاکھ افراد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں۔
