اسامہ ستی قتل: واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکار بہت خوش تھے، جوڈیشل انکوائری

اسلام آباد میں 21 سالہ اسامہ ستی قتل کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکار بہت خوش تھے۔
رپورٹ کے مطابق جوڈیشل انکوائری رپورٹ کی تیاری میں 29 مختلف افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ حقائق کی تلاش کے لیے وائرلیس ریکارڈ، سیف سٹی کیمروں کے ریکارڈ اور 15 وائس ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔
جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اسامہ ستی کی گاڑی پر فائرنگ کے لیے اپنے اسلحہ کا آزادانہ استعمال کیا۔رپورٹ کے مطابق اہلکاروں کے طرز عمل سے واضح تھا کہ اسلحہ کے استعمال سے متعلق ایس او پیز ناپید تھے اور نگرانی کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔علاوہ ازیں رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیوٹی پر موجود افسر کی جانب سے اہلکاروں کو روکنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی اے ٹی ایس/ سی آر ٹی کو ہدایت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
جوڈیشل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ واقعہ کے فوراً بعد ڈیوٹی افسر نے اہلکاروں کو تحفظ فراہم کیا اور ان کے جرائم چھپانے کے لیے شوائد کو مٹایا۔رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ ایس پی اے ٹی ایس، ایس انویسٹی گیشن، ایس پی (1-9) ڈی ایس پی، ایس ایچ او، ایس ایچ او (کراچی کمپنی)، ڈپٹی افسر اور دیگر افسران کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹادیا جائے تاکہ تحقیقات شفاف طریقے سے ممکن ہوسکے۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو اسلام آباد پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے 5 اہلکاروں نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان اسامہ ستی کو جاں بحق کردیا تھا۔بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نوجوان اسامہ ستی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ شیخ رشید احمد کو ہدایت کی تھی کہ وہ 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کریں۔علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ نے قتل میں ملوث 5 اہلکاروں کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
ایف آئی آر میں والد ندیم ستی نے مؤقف اپنایا تھا کہ قتل سے ایک دن قبل ان کے بیٹے کا سی ٹی ڈی اہلکاروں کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا اور پولیس اہلکاروں نے اسے مزہ چکھانے کی دھمکی دی تھی۔مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق 2 جنوری کی رات 2 بجے جب اسامہ سیکٹر ایچ-11 میں ایک دوست کو چھوڑ کر واپس آرہا تھا تو پولیس حکام نے اس کی گاڑی کو روکا اور چاروں طرف سے فائر کیے جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔
تاہم پولیس کے ترجمان کے بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو تقریباً ڈیڑھ بجے کال موصول ہوئی کہ سفید گاڑی میں موجود کچھ ڈکیت سیکٹر ایچ-13 تھانہ شمس کالونی کی حدود میں ڈکیتی کرکے آرہے ہیں، اطلاع موصول ہونے پر پیٹرول ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے ردعمل دیا اور سیاہ شیشوں والی سوزوکی کار کو روکنے کی کوشش کی۔بیان میں کہا گیا تھا کہ تاہم پولیس حکام کی جانب سے متعدد مرتبہ کہنے کے باوجود ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی، جس پر پولیس اہلکاروں نے 5 کلومیٹر تک اس کا پیچھا گیا لیکن ڈرائیور نے گاڑی ہلکی نہیں کی، بالآخر پولیس نے گاڑی پر فائر کیے لیکن بدقسمتی سے وہ ڈرائیور کو لگے اور وہ زخمی ہوگیا۔
اس بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) محمد عامر ذوالفقار خان نے فوری طور پر ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس کی سربراہی ڈی آئی جی وقار الدین سید کو سونپی گئی اور سب انسپکٹر افتخار احمد اور کانسٹیبلز مدثر مختار، شکیل احمد، سعید احمد اور محمد مصطفیٰ کی گرفتاری کا حکم دیا۔بعدازاں اسامہ ستی کے قتل سے متعلق تمام ریکارڈ سینئر افسران کی ہدایت کے تحت اسلام آباد پولیس نے سیل کردیا گیا تھا۔پولیس افسران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا تھا کہ ریکارڈ سیل کردیے گئے ہیں کیونکہ اس میں تضاد ہے۔
دو ریکارڈ میں دیکھا گیا تھا کہ پولیس نوجوان کی گاڑی روکنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔علاوہ ازیں کمشنر کی ہدایت پر واقعے کی عدالتی انکوائری بھی شروع کردی گئی ہے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رانا محمد وقاص نے پولیس عہدیداروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے اور جائے وقوع کا معائنہ کیا تھا۔بعد ازاں 8 جنوری 2021 کو سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) اسلام آباد نے قتل کیس میں ملوث محکمہ انسداد دہشت گردی کے پانچوں اہلکاروں کو برطرف کردیا تھا۔
