اسرائیل کی شام پر بدترین فضائی کارروائی، 57 افراد ہلاک

اسرائیل نے شام کے مشرقی علاقے میں حالیہ برسوں کے دوران بدترین فضائی کارروائی کرتے ہوئے بشارالاسد حکومت کے 57 حامیوں کو ہلاک کر دیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے عراقی سرحد سے متصل مشرقی علاقے دیرالزور میں مختلف مقامات میں 18 حملے کیے۔تنظیم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کارروائیوں میں شامی فورسز کے 14 اہلکار، عراقی ملیشیا کے 16 اہلکار اور ایرانی حمایت یافتہ فاطمید بریگیڈ کے 11 افغان اہلکار مارے گئے ہیں اور دیگر 37 افراد بھی نشانہ بنے۔
بیان میں کہا گیا کہ لبنان کی حزب اللہ تحریک سے تعلق رکھنے والے پیراملیٹری اہلکار اور فاطمید بریگیڈ خطے میں ایرانی حمایت یافتہ افغان جنگجووں کے ساتھ متحرک ہیں۔شام میں کارروائی سے قبل فاطمید بریگیڈ نے ہمسایہ ملک عراق سے ایرانی ساختہ اسلحہ مشرقی شامل منتقل کردیا تھا۔انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسلحے کو اسی علاقے میں رکھا گیا تھا جہاں یہ حملہ ہوا ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یاد رہے کہ جون 2018 میں اسی خطے میں فضائی کارروائی سے 55 حکومتی جنگجو مارے گئے تھے جن میں عراقی جنگجو بھی شامل تھے۔دیرالزور میں یہ حملے عراقی سرحد کے قریب ایک حملے میں ایران کے حمایت یافتہ 12 جنگجووں کی ہلاکت کے چند گھنٹوں بعد کیے گئے ہیں۔برطانوی تنظیم کا کہنا تھا کہ فوری طور پر دوسرے حملے کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوسکا۔شام کی سرکاری خبرایجنسی نے بھی عراقی سرحد پر ہوئے حملے کی رپورٹ دی تھی لیکن تفصیلات محدود تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ‘دشمن اسرائیل نے دیرالزور اور البوکمال خطے میں گزشتہ روز فضائی کارروائی کی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جارحیت کےنتائج کے حوالے سے تصدیق کی جا رہی ہے’۔
اسرائیل نے شام میں یہ کارروائی گزشتہ حملوں کے سلسلے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں کی ہے۔اسرائیل نے 7 جنوری کو دمشق کے جنوبی علاقے میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا تھا اور ایرانی حمایت یافتہ جنگجووں کو ہلاک کردیا تھا۔واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے شام میں کارروائی معمول کا حصہ بن سکتا ہے، جس میں خاص کر ایرانی حمایت یافہت جنگجووں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔اسرائیل کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ اپنے حریف کو شمالی سرحد پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔
ادھر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل خطے میں ایران اور ان کے اتحادیوں کے خلاف امریکی صدر کی مدت کے آخری دنوں میں کوئی سخت اقدام کرسکتے ہیں۔اسرائیلی فوج نے شام میں کارروائیوں کی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں 50 مقامات نشانہ بنے۔شام میں 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران اب تک اسرائیل نے سیکڑوں فضائی اورمیزائل حملے کیے ہیں اور ان حملوں میں ایرانی اور لبنانی حزب اللہ کے ساتھ ساتھ شامی حکومتی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل ان حملوں کی ذمہ داریوں کا اعتراف بہت کم کرتا ہے لیکن اس وقت ذمہ داری لیتا ہے جب اس کو اسرائیل کے اندر جارحیت سے منسلک کرتا ہے۔شام میں جاری خانہ جنگی میں حکومت مخالف احتجاج کو کچلنے کے لیے سخت اقدامات سمیت دیگر کارروائیوں میں اب تک 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button