اوآئی سی نےامریکی صدرکا’منصوبہ مشرق وسطیٰ‘مستردکردیا

اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق حال ہی میں پیش کیےگئے’منصوبے‘ کی مخالفت کی گئی اور اسے مسترد کردیا گیا۔
او آئی سی کا اجلاس بروز پیرفلسطینی قیادت کی درخواست پرسعودی عرب کےشہرجدّہ میں منعقد ہواجس میں کہا گیا کہ تمام رکن ممالک اس منصوبےکےنفاذ میں کسی بھی طرح امریکا کا ساتھ نہیں دیں گےاورنہ اس سلسلےمیں کوئی تعاون کریں گے۔ اوآئی سی کا یہ اجلاس عرب لیگ کی جانب سےٹرمپ کی نام نہاد ’ڈیل آف سنچری‘ کومسترد کرنےکےدو دن بعد منعقد کیا گیا جس کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ کی پالیسی فلسطینی عوام کےجائزحقوق اورخواہشات کے بھی خلاف ہے۔
خیال رہےکہ ٹرمپ نےوائٹ ہاؤس سےاسرائیلی وزیراعظم کےساتھ کھڑے ہوکراسرائیل اورفلسطین کےدرمیان تنازع کا حل پیش کرتےہوئےاس پالیسی کا اعلان کیا اورکہا کہ یہ منصوبہ اسرائیل اورفلسطین دونوں ممالک کیلئےجیت ہوگا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کےحالات میں بہتری لائےگااورانہوں نےفلسطینیوں سےوعدہ کیا کہ انہیں ایک علیحدہ ریاست دی جائےگی جس کا دارالخلافہ یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) کے پاس موجود علاقہ ابودیس ہوگا۔
علاوہ ازیں ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھ اکہ یروشلم اسرائیل کاغیرمنقسم دارالخلافہ ہوگا۔ فلسطین کی قیادت نےٹرمپ کے اس منصوبےکوپہلےہی مسترد کردیا تھا اورساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ یہ سراسرہماری خودمختاری کےخلاف ہےاوراسرائیل کے حق میں ہے۔ یاد رہےکہ اوآئی سی دنیا میں اقوامِ متحدہ کےبعد دوسری سب سےبڑی بین الحکومتی تنظیم ہے۔ جس کےارکان ممالک کی مجموعی آبادی 1.8 ارب سےبھی زائد ہے۔
اس کےرکن ممالک میں زیادہ ترمسلمان ملک ہیں اوراس کےعلاوہ وہ ممالک بھی اس کا حصہ ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں جن میں افریقی اورجنوب امریکی ریاستیں شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ عرب لیگ بھی اس کا حصہ ہےجبکہ پاکستان، ترکی اورایران بھی اس میں شامل ہیں۔ پانچ مبصررکن بھی موجود ہیں جن میں روس اورتھائی لینڈ بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ایران نے الزام لگایا کہ سعودی عرب نےان کے سرکاری وفد کواس اجلاس میں شریک ہونےسےروک دیا۔
ایران کےترجمان دفترِخارجہ کا کہنا ہےکہ سعودی حکومت نےآپس میں کشیدگی کے باعث ایرانی وفد کواوآئی سی کے اجلاس میں شرکت سےروک دیا جبکہ ایران ٹرمپ کی اس پالیسی کا سخت مخالف ہے، سعودی حکام نے پرکوئی مؤقف نہیں دیا ہے۔ ٹرمپ کےاس منصوبے پرعرب ممالک کی جانب سےملاجلا ردِعمل دیکھنےمیں آیا ہے.
کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ردِعمل سےعرب ممالک میں آپس میں تفرقہ پھیل سکتا ہے کہ یا تو وہ نہتےفلسطینیوں کا ساتھ دیں یا اپنے معاشی اورسیاسی مفادات کے پیشِ نظرامریکا کے ساتھ بہترتعلقات قائم کرنےکوترجیح دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button