اسلام آباد ہائی کورٹ: شوگرکمیشن کے تشکیل اور رپورٹ درست قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی سکینڈل پر انکوائری کمیشن کے خلاف شوگر ملز مالکان کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کر دی ہے۔
منگل کو جسٹس میاں گل حسن اور جسٹس لبنیٰ پرویز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا اور شوگر انکوائری کمیشن کو درست قرار دیتے ہوئے حکومت کو کارروائی کی اجازت دی۔شوگر ملز مالکان نے چینی انکوائری کمیشن رپورٹ پر کارروائی روکنے کی استدعا کر رکھی تھی جو کہ سنگل رکنی بینچ نے مسترد کر دی تھی۔ بعد ازاں شوگر ملز مالکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کر رکھی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق کمیشن میں اضافی ممبر شامل کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کا تھا اور کمیشن کی تشکیل کا پہلا نوٹیفکیشن بھی واپس لے لیا گیا تھا،اس لئے چینی انکوائری کمیشن رپورٹ کو درست قراردیتے ہوئے شوگر ملز مالکان کی اپیلیں میرٹ پرپورا نہ اترنے کی وجہ سے مسترد کی جاتی ہیں، فیصلے کے مطابق وزارت داخلہ نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا پہلا نوٹیفکیشن اگلے ہی دن واپس لے لیا تھا، وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کو خط وکتابت کی بجائے براہ راست فوری کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، کابینہ کی ہدایت کے باوجود کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن ہونے میں چھ دن کا وقت لگا. اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز کی انٹرا کورٹ اپیل پر 24 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔۔ جو کہ 18 اگست کو سنایا گیا ہے،یاد رہے کہ شوگر ملز مالکان کے وکیل نے دلائل میں کمیشن میں ایک اضافی ممبر بعد میں شامل کرنے پر اعتراض اٹھایا تھا.
واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے پیر کو شوگر انکوائری کمیشن کے خلاف ملز مالکان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کمیشن اور اس کی جاری انکوائری رپورٹ کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔عدالت نے متعلقہ اداروں کو چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے متعلق آزادانہ نئی تحقیقات کرنے کا حکم بھی صادر کیا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر بننے والے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف 20 سے زائد شوگر ملز مالکان نے اس انکوائری کمیشن کی تشکیل اور رپورٹ کو سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا تھا۔شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ میں تحریک انصاف کے سینیئر رہنما جہانگیر ترین سمیت دیگر کئی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے نام سامنے آئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button