اسٹیبلشمنٹ نے اپنا مہرہ ثاقب نثار کیوں قربان کیا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین Fahad Hussain نے کہا ہے کہ سیاست شاطرانہ چالوں کا کھیل ہے، تاش کے پتے دوبارہ پھینٹے جا چکے ہیں، لہذا عین ممکن ہے کہ اپوزیشن کا کھیل مکمل ہونے اور وزیر اعظم کو روانگی کا پروانہ تھمائے جانے سے پہلے ہی عمران خان ایک سرکاری عہدے پر نئی تقرری کر کے سارا کھیل الٹ دیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں فہد حسین کہتے ہیں کہ شاید ثاقب نثار (Mian Saqib Nisar) کا ویڈیو سکینڈل اسٹیبلشمنٹ کے اس منصوبے کا حصہ ہو جس کے تحت ایک مرتبہ پھر تبدیلی لانا مقصود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس نے اپنے عدالتی عہدے اور قیمتی وقت کو ایک ڈیم بنانے کی خواہش کی نذر کر دیا، اب اس کے خلاف الزامات کا ایک ڈیم ابل کر باہر آ رہا ہے۔ لہذا ڈیم بنانے کی خواہش تو اب دم توڑ چکی لیکن پرانے الزامات اس کی جان نہیں چھوڑ رہے۔ فہد کہتے ہیں کہ اپنے دور میں دوسروں کی دوڑیں لگوانے والے ثاقب نثار کی اب اپنی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس بلا سے بھاگ پائیں گے جو انکا پیچھا کر رہی ہے؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ پانچ سال قبل پاناما پیپرز سے جو زہریلا آتش فشاں پھٹا تھا وہ اب تک تیزابی بارش کی بوندوں جیسے برس رہا ہے۔ سیاست کو عدالتوں اور عدالتوں کو سیاست میں گھسیٹنے کے عمل میں اداروں کی آپس میں ڈور کچھ ایسی الجھی ہے کہ اسے سلجھانا اب ناممکن ہو گیا ہے۔ فہد حسین Fahad Hussain کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے باہمی لڑائی جھگڑے ایک طرف، تمام جانب سے اب یہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ پانچ سال کے واقعات شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اس دوران تمام محاذوں پر ایسا بہت کچھ ہوا ہے جو تفتیش کے دباؤ کو سہار نہیں پائے گا۔ تاریخ ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرے گی جنہوں نے یہ فیصلے کیے۔ لیکن جہاں ہمیں تاریخ کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا، دیگر مزید اہم واقعات نے اداروں، افراد اور ان کی ساکھ کو کچوکے لگانا شروع کر دیے ہیں۔ اور جیسا کہ ان معاملات میں ہوتا ہے، اصل چیز ٹائمنگ ہے۔
فہد کہتے ہیں افسوس کہ ثاقب نثار(Mian Saqib Nisar) اس وقت جاری جنگ کی ٹائمنگ پر قابو پانے میں بے بس ہیں۔ لہذا عین ممکن ہے کہ روز بروز شدید ہوتی اس لڑائی میں وہ بھی کسی زہر بھرے تیر کا نشانہ بن جائیں۔ آخر میں اس بات کی اہمیت نہیں رہے گی کہ انہوں نے آڈیو میں کیا کہا یا نہیں کہا، اہم یہ ہوگا کہ بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے پر ان کا پتلا کیسے گھسیٹا گیا۔ سچ تو یہی ہے کہ ماضی کا چیف جسٹس آج عوام کی عدالت میں کھڑا ہے۔ جج کی عدالت میں ثبوت وہی ہوتا ہے جسے مان لیا جائے۔ لیکن جب عوامی رائے خود ہی جج، عدالت اور جلاد بننے کا فیصلہ کر لے تو یہ بڑی بے رحم ہو جاتی ہے، خاص طور پر جب اس رائے عامہ سے ایک نیا سیاسی راستہ بنانے کے لئے ایندھن کا کام لیا جا رہا ہو۔
فہد حسین کہتے ہیں کہہ اسلام آباد کی ریڈ زون میں اب تبدیلی کی سرگوشیاں بڑھتی جا رہی۔ آنے والے وقت کے بارے میں دونوں اطراف کی جانب سے اب زیادہ شدت سے بات چیت کی جا رہی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کو یقین ہے کہ صرف ثاقب نثار کا ڈیم ہی نہیں جو لیک کر رہا ہے بلکہ اب بڑے بڑے بند ٹوٹنے والے ہیں۔ لیکن پی ڈی ایم مین موجود زیرک سیاستدان اب بھی بہت احتیاط سے چل رہے ہیں کیونکہ وہ اپنا نقصان نہیں کروانا چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار اجلاسوں کے باوجود پی ڈی ایم مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں لے پا رہی۔ پی ڈی ایم کی قیادت اس خوف میں مبتلا ہے کہ اس کی طرف سے جلدی اگر دوبارہ سراب ثابت ہوئی تو کیا ہو گا؟
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا خود عوامی رابطہ مہم چلانے کا اعلان
اتحادی اراکین کے ذہنوں میں خوف بیٹھا ہوا ہے۔ دودھ کا جلا چاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے اور یہاں تو جلے بھی تین بار ہیں۔ لیکن پھر بھی، بقول فہد حسین، ایک بار پھر ممنوعہ پھل کو حاصل کرنے کی تڑپ ہے، جو انہیں مجبور کر رہی ہے کہ ایک بار پھر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ایک اور بازی کھیل لی جائے۔ کم از کم ریڈ زون کی سرگوشیوں کے مطابق جو کچھ بھی ہونا ہے، اب سے لے کر موسم بہار کے درمیان ہی ہونا ہے۔ کلینڈر پر ایک مخصوص سنگِ میل عبور کر لینے کے بعد حکومتی اتحاد، اپوزیشن اتحاد اور اداروں کا اتحاد سب ایک مخصوص انداز میں کام کرنے لگیں گے۔
لیکن فہد حسین سوال کرتے ہیں کہ کیا اپوزیشن کا کھیل مکمل ہونے اور وزیر اعظم کو روانگی کا پروانہ تھمائے جانے سے پہلے ایسا ممکن ہے کہ عمران خان ایک طاقتور ترین سرکاری عہدے پر نئی تقرری کر دیں؟ سیاست شاطرانہ چالوں کا کھیل ہے، تاش کے پتے دوبارہ پھینٹے جا چکے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ شاطروں کی جانب سے بنائے گئے منصوبے اب بھی کہیں زندہ ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ثاقب نثار جیسے مہرے کو بھی اسی منصوبے کے تحت نشان عبرت بنایا جا رہا حالانکہ وہ ماضی کے تبدیلی پروجیکٹ میں شراکت دار تھے۔ لیکن انکی بدقسمتی کہ اب بدل ہوئے حالات میں وہ پیادوں کی طرح اس خونی لڑائی کی بھینٹ چڑھائے جا رہے ہیں۔ فہد حسین کی نظر میں جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار (Mian Saqib Nisar) کو اب ایک سرد مقام پر تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آگے کا رستہ اب بھی غیر واضح اور خطرات سے پر ہے۔ پی ڈی ایم پراعتماد دکھائی دے رہی ہے لیکن دراصل ہے نہیں، حکومت بھی محفوظ دکھائی دے رہی ہے، لیکن وہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنی سوچ میں یکسو دکھائی دے رہی ہے، لیکن ایسا ہے نہیں۔ لہٰذا سمجھیں اسلام آباد کے ڈی چوک میں ٹریفک جام ہو چکا ہے اور پولیس وارڈن کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ سب ڈرائیور ہارن بجا رہے ہیں، گالیاں دے رہے ہیں لیکن کوئی اپنی گاڑی کو ایک انچ بھی پیچھے ہٹانے کے لئے تیار نہیں۔ اس رستے پر ہم پہلے بھی چل کر دیکھ چکے ہیں اور اس کا اختتام اچھا نہیں ہوتا۔ تاہم دسمبر میں چیزیں واضح ہونے کا امکان ہے۔
