اگلی خفیہ ٹیپس ملکی اداروں کو بھی ہلا کر رکھ دیں گی

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ لیک ہونے کے بعد اب جو ٹیپس منظر عام پر آنے والی ہیں وہ پاکستانی اداروں کو بری طرح ہلا کر رکھ دیں گی۔
معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لئے لکھے گئے اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ کسی بھی جمہوریت کے لئے ایک آزاد عدلیہ اہم ترین ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں لیکن ایک ایسا تنازع کھڑا ہو چکا ہے جو یہ ثابت کر رہا ہے کہ ہماری عدلیہ آزاد نہیں۔ ہمارے سینیئر جج حضرات نے بارہا ملکی سیاسی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ سپریم کورٹ متعدد وزرائے اعظم کو نااہل کر چکی ہے۔ ججوں نے فوجی آمر جنرل ضیا کے دور میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا متنازعہ فیصلہ بھی دے رکھا ہے جو آج بھی جوڈیشل مرڈر کہلاتا ہے۔ اس وقت تو عدلیہ کے ان متنازع اقدامات پر عوامی سطح پر اتنا ردعمل اور غم و غصہ نہیں دیکھا گیا۔ لیکن اب پاکستانی معاشرہ تبدیل ہو رہا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ 21 نومبر کو ایک صحافتی ویب سائٹ نے ایک آڈیو ریکارڈنگ ریلیز کی جس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف تین سال قبل ایک سازش کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ میں ثاقب نثار کو ایک نامعلوم شخص کو یہ ہدایات دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سزا دینی ہے۔ دونوں پر 2018 میں کرپشن کے مقدمات چل رہے تھے جس وقت غالباً یہ آڈیو ریکارڈ کی گئی۔ اس آڈیو میں ایک جگہ وہ کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ “اداروں نے ایسا کرنے کو کہا ہے، یہ صحیح ہے یا غلط، کرنا پڑے گا”۔ صحافی احمد نورانی جو یہ خبر منظرِ عام پر لائے ہیں کے مطابق یہاں اداروں سے مراد فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ سابق چیف جسٹس کو یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانا ہے۔ ثاقب نثار یہ اشارہ دیتے ہیں کہ عدلیہ کو وہ سب کچھ کرنا ہوگا جو انہیں اقتدار میں لانے کے لئے وہ کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ثاقب نثار نے فوری طور پر اس آڈیو کو جعلی قرار دیا اور موجودہ حکومت کے اراکین نے غالباً عمران خان کے حکم پر ثاقب نثار کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آڈیو نواز شریف کی عدلیہ کے خلاف شروع کی گئی مہم کا حصہ ہےبکیونکہ وہ ماضی میں خود بھی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ججز کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ کچھ افسران کا کہنا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ہے جو کہ ان کی ماضی میں کی گئی مختلف تقاریر کے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنائی گئی ہے۔ تاہم نورانی کا کہنا ہے کہ اس ریکارڈنگ کے اصلی ہونے کی تصدیق ایک امریکی کمپنی کر چکی ہے جس نے اسکا فارنزک آڈٹ کیا ہے۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ احمد نورانی پاکستان میں نہیں ہیں۔ وہ اسوقت امریکہ میں مقیم ہیں جہاں سے وہ اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ کچھ طاقتور افراد کی کرپشن کو بے نقاب کرنے کی پاداش میں انہیں پاکستان چھاڑنا پڑا تھا۔ 2017 میں اسلام آباد میں ان پر حملہ ہوا تھا اور پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی۔ نورانی کچھ ٹی وی چینلز پر اپنے خلاف ہونے والے مسلسل پراپیگنڈا کی وجہ سے اپنی جان کے لئے فکرمند تھے۔ خود پر حملے کے کچھ عرصہ بعد ان کی نوکری بھی ختم ہو گئی۔ کوئی پاکستانی اخبار یا ٹی وی چینل انہیں ملازمت دینے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں تھا۔ لہذا انہوں نے بیرون ملک جا کر سوشل میڈیا پر تحقیقاتی صحافت شروع کر دی۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ چند روز قبل معروف وکیل علی احمد کرد نے لاہور میں ہوئی ایک کانفرنس کے دوران اعلی عدلیہ پر شدید تنقید کی تھی۔ اس کانفرنس میں چیف جسٹس گلزار احمد بھی مدعو تھے جنہوں نے کرد کے بیان پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی میں ہمت نہیں کہ عدلیہ کو ڈکٹیٹ کر سکے کیونکہ پاکستانی عدلیہ آزاد یے۔ لیکن اس واقعے کے ایک ہی دن بعد ثاقب نثار کی آڈیو لیک منظر عام پر آ گئی۔ یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ماضی میں ثاقب نثار پر بھی سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام لگتا رہا ہے۔ تین سال قبل ویمن ایکشن فورم نامی تنظیم نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ایک ریفرنس دائر کیا تھا اور شکایت میں 25 ایسے واقعات گنوائے تھے جن میں انہوں نے مروجہ اصولوں سے انحراف کیا۔ لیکن یہ شکایت ان کی ریٹائرمنٹ تک زیر التوا رہی اور پھر مسترد کر دی گئی۔ اب اپنی ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد، ثاقب نثار خود پر ایک مختلف لیکن بہت واضح الزام کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ الزام صرف ایک شخص پر بلکہ ایک ادارے سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریکوری کیش میں نہیں کرتے جو حساب دیں
حامد میر کہتے ہیں کہ ثاقب نثار پر لگے الزامات کے بارے میں ہمیں فوری طور پر حقائق جاننے کا پورا حق ہے کیونکہ یہاں داؤ پر اس سے بہت بڑے بڑے معاملات لگے ہیں۔ پاکستانی عوام جاننا چاہتے ہیں کہ آج تک کوئی وزیر اعظم اپنی آئینی مدت کیوں پوری نہیں کر سکا۔ اور اس کے باوجود کبھی کسی چیف جسٹس کے اس حوالے سے سیاسی کردار پر اس کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ آج تک کسی آرمی چیف کے خلاف ان سازشوں کا حصہ ہونے پر کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ جنرل مشرف کو دو مرتبہ آئین پاکستان سبوتاژ کرنے پر سزائے موت سنائی گئی لیکن انہیں ملک سے فرار کروا دیا گیا۔ ان حالات میں بقول حامد میر عوام اب اداروں کی جانب سے سیاست میں مداخلت بارے تردیدوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ لیکن اس بات کا قوی امکان یے کہ اگلی لیک ہونے والی ٹیپس پاکستان کے اداروں کو بھی ہلا کر رکھ دیں گی۔ لہذا اس وقت اولین ضرورت یہ یے کہ ثاقب نثار کے آڈیو سکینڈل کی فوری تحقیقات کی جائیں اور اصل حقیقت کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔
