اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو سیکیورٹی سٹیٹ کیوں بنایا؟


آج کے پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ ستر برس میں اسے ایک فلاحی ریاست بنانے کی بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک سیکیورٹی سٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے جس کا خمیازہ پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں کیونکہ ان سے حق حکمرانی چھین کر ریاست کے بااثر گروہوں کو دیا جا چکا ہے جو ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے ہیں اور اس فرسودہ نظام کی تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ دراصل سیکیورٹی سٹیٹ دراصل ایک ریاستی شکنجہ ہوتا ہے جس میں اس کے اصل مالک یعنی عوام کو شہری آزادیاں دینے کی بجائے بری طرح جکڑ کر رکھا جاتا ہے۔ دوسری جانب تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ سیکیورٹی سٹیٹ کا عارضی بندوبست کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح بظاہر ملک کی جغرافیائی سرحدیں تو محفوظ رہتی ہیں لیکن ریاست کی روح بری طرح مجروح ہو جاتی ہے اور وہ اندرونی توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتی ہے۔ لہذا اس ملک کے فیصلہ سازوں کو وسیع تر مفاد میں سلامتی کے نظریے سے ترقی کے نظریے کی طرف سفر شروع کرنا ہو گا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا اتفاق ہے کہ ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو ایک سیکیورٹی سٹیٹ میں تبدیل کرکے یہ چورن بیچنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس طرح پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہوگئی ہیں لیکن اس زور زبردستی کی وجہ سے بلوچستان، اندرون سندھ اور قبائلی علاقوں میں شورش کم ہونے کی بجائے تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک کو سیکیورٹی سٹیٹ بنانے کی بجائے ایک اوپن اور ویلفیئر سٹیٹ ہونا چاہیے کیونکہ اسی میں ملک کی بقا کا راز چھپا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میں فلاحی ریاست بن گیا تو اسٹیبلشمنٹ کی دکان بند ہو جائے گی اسی لیے جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور ملک کو ہمیشہ جنگ و جدل میں الجھائے رکھنے کی کوشش جاری رکھی جاتی ہے۔
اس معاملے پر معروف لکھاری وجاہت مسعود اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ پاکستان میں تمام بڑی خرابیوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف حکومتیں دراصل ایک خاص ریاستی نمونے کا تسلسل رہی ہیں۔ ہم نے اس ریاستی نمونے کا انتخاب اب سے ستر برس پہلے کیا تھا جب ریاستی افسر شاہی نے سیاسی قیادت کو حقیقی اقتدار سے بے دخل کر کے فلاحی مملکت کی بجائے سیکورٹی اسٹیٹ کا نمونہ اختیار کر لیا تھا۔ عوامی فلاحی ریاست میں طرز حکمرانی جمہوری ہوتا ہے جب کہ حکومت اور اس کے معاون ریاستی اداروں کا بنیادی فرض اپنے شہریوں کا معیار زندگی بلند کرنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف قومی سلامتی کے مفروضے کو ترجیح دینے والی ریاستیں اپنے نظریاتی مفادات کی آڑ میں ایسا نظام حکومت تشکیل دیتی ہیں جس کا بنیادی مقصد داخلی اور خارجی سطح پر استحصالی طبقوں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ قومی سلامتی کا نمونہ اپنانے والی ریاستیں عوامی خدمات کی بجائے دفاعی امور پر ملکی دولت خرچ کرتی ہیں۔ اپنے عوام کی آزادیوں کا تحفظ کرنے کی بجائے نظریاتی مقاصد مفروضے کے نام پر ایسا ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا جاتا ہے جس میں ریاست اور اسکا کوئی اہلکار کسی جواب دہی سے بے نیاز ہو کر شہریوں کی زندگی سے کھلواڑ کر سکتے ہیں۔
وجاہت مسعود کے مطابق، وسیع تر نظریاتی مفادات کی مالا جپنے والی ریاست اپنے عوام کا علمی، تخلیقی اور پیداواری امکان بلند کرنے کی بجائے مختلف جغرافیائی، نسلی اور مذہبی تنازعات کے ذریعے ایسے تصورات کو فروغ دیتی ہے جنہیں نہ عوام سمجھ سکتے ہیں اور نہ ایسے تنازعات سے عوام کا مفاد منسلک ہوتا ہے۔ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ ریاستی اہلکاروں کا ایک مْٹھی بھر ٹولہ ہی اِن مفادات کی درست تفہیم رکھتا ہے اور وہی نادیدہ ٹولہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اِن مفروضہ قومی مطالبات اور مفادات پر بنیادی فیصلے کرے۔ وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ قومی سلامتی کی ریاست دفاع اور تحفظ کے نام پر قائم کی جاتی ہے لیکن ایسی ریاست نہ اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی عوام کی فلاح کا تحفظ ہی کر سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سلامتی کا تصور ناگزیر طور پر فوجی قوت سے جڑا ہوا ہے لیکن سلامتی کو ترقی پر ترجیح دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان جیسی نوآزاد ریاستوں میں جمہوریت اور معاشی ترقی کا امکان ختم ہو کر رہ گیا، سماجی و علمی پس ماندگی کے سائے لمبے ہونے لگے۔ اِن ممالک میں غیر جواب دہ اور آمرانہ حکومتوں نے بدعنوانی کے گوناگوں انداز ایجاد کیے۔ جمہوری اور معاشی حقوق کا مطالبہ کرنے والے سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کو جبر و تشدد کے ذریعے کچل کر رکھ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چلغوزہ سستا ہونے پر تاجر پریشان اور کھانے والے خوش

وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے سلامتی کے نظریے سے ترقی کے نظریے کی طرف سفر بے حد کٹھن ہے کیونکہ اِن کے انفرادی اور ادارہ جاتی امکانات کو کمزور کر دیا گیا ہے۔ سلامتی کے نظریے کی موجودگی میں جمہوریت کامیاب نہیں ہوسکتی اور جمہوریت کے بغیر اِنسانی ترقی ممکن نہیں۔
چنانچہ اس وقت پاکستان اس کش مکش سے دوچار ہے کہ سیکورٹی اسٹیٹ کو کس طرح ایسے جمہوری ریاست میں تبدیل کیا جائے جو کہ شہریوں کے تحفظ، اقتصادی ترقی اور اجتماعی وقار کی ضمانت دے سکے۔ یہ بات طے ہے کہ خارجہ پالیسی کو داخلی مفادات کے تابع ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی کے ریاستی نمونے سے استحصالی مفادات بٹورنے والے عناصر کو پاکستان کی جمہوری قیادت کا یہ ڈھنگ پسند نہیں۔ سکیورٹی اسٹیٹ، تعاون کی بجائے تصادم، تجارت کی بجائے جنگ، مشترکہ ثقافتی نکات پر زور دینے کی بجائے اختلافی نکات کو اْبھارنے نیز مخالف گروہوں میں صلاحیت، وسائل اور امکانات کے تنوع سے فائدہ اٹھانے کی بجائے بیگانگی کو بڑھاوا دینے کو ترجیح دیتی ہے۔
وجاہت مسعود افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیکورٹی اسٹیٹ نے پاکستان کو جنگجویانہ تشخص فراہم کیا ہے۔ جدید جمہوری ریاست اس طرز فکر کی حمایت نہیں کرتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ستر برس تک ایک راستے پر چل کر دیکھ لیا لیکن ہماری پسماندگی دور نہیں ہوئی۔ لہٰذا اب اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کی بقاء سیکیورٹی سٹیٹ میں نہیں بلکہ ایک اوپن سٹیٹ کے تصور میں پنہاں ہے۔ ویسے بھی اگر ریاست ہی نہ رہی تو سکیورٹی کا کیا کرنا ہے۔

Back to top button